خواجہ آصف کی درخواست ضمانت کی سماعت کرنے والا بینچ تیسری مرتبہ تحلیل

مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما خواجہ آصف کی درخواست ضمانت پر سماعت کرنے والا بینچ تیسری مرتبہ تحلیل ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لیگی رہنما خواجہ آصف کی درخواست ضمانت پر سماعت کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے بینچ میں شریک لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اسجد جاوید گھرال نے ذاتی وجوہات کی بنا پر کیس سننے سے معذرت کر لی۔
اس بینچ میں جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس اسجد جاوید گھرال شامل تھے۔ اسجد جاوید نے کیس کسی دوسری عدالت کو بھجوانے کی سفارش بھی کی۔ جس کے بعد فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی گئی ہے اور اب خواجہ آصف کی درخواست ضمانت کی سماعت کےلیے نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا۔ اس موقع پر خواجہ آصف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چاہے کوئی بھی عدالت کیس سنے، میرے موکل کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ خواجہ آصف کی گرفتاری کے بعد نیب نے مؤقف دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم خواجہ آصف نے مبینہ طور پر اپنی آمدن سے زائد اثاثہ جات بنائے جبکہ اثاثہ جات کی نوعیت، ذرائع اور منتقلی کو بھی چھپایا۔ نیب کا کہنا تھا کہ ملزم خواجہ آصف کی بیرون ملک ملازمت کا معاملہ عدالت عالیہ اور عدالت عظمٰی میں بھی زیر سماعت رہا جہاں قرار دیا گیا کہ ملزم خواجہ آصف کے پبلک آفس رکھنے اور پرائیویٹ نوکری میں کوئی قانونی قدغن نہیں جب کہ نیب انکوائری کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا خواجہ آصف کی ظاہر کردہ بیرونی آمدن درست ہے یا نہیں۔ تاہم اب خواجہ آصف نے درخواست ضمانت کےلیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے جس کی سماعت کرنے والا بینچ تیسری مرتبہ تحلیل ہوگیا ہے۔

Back to top button