خود کو بینظیر ثانی کہنے والی مریم عورت مارچ پر خاموش کیوں؟

حقوق نسواں کے حصول کے ایجنڈا کے تحت ہونیوالا عورت مارچ قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تمام تر مخالفت کے باوجود اس برس اپنے انعقاد سے پہلے ہی کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے چونکہ گزشتہ برسوں میں جو بحث عورت مارچ ہو جانے کے بعد شروع ہوتی تھی، اس برس وہ بحث عورت مارچ سے پہلے ہی انتہا ہر پہنچ چکی ہے اور یہی اس مارچ کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
عورت مارچ کو رکوانے کیلئے ہر برس قدامت پسند حلقوں کی جانب سے کوشش کی جاتی ہے، لیکن یہ ہمیشہ ناکام ہوتی ہے۔ ایسی کوششیں کرنے والے بھول گئے کہ ان کے مقابل پاکستانی عورت ہے جس کی آئیڈیل محترمہ فاطمہ جناح، محترمہ بے نظیر بھٹو، نصرت بھٹو اور ملالہ یوسفزئی جیسی خواتین ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کی کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے اب تک عورت مارچ کی کھل کر حمایت نہیں کی اور بلاول بھٹو وہ واحد سیاسی لیڈر ہیں جنہوں نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ خود کو بے نظیر بھٹو ثانی سمجھنے والی مریم نواز شریف نے بھی اس اہم قومی معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
عورت مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ عورت جسے قدامت پسند حلقے صدیوں سے کمزورسمجھتے آ رہے ہیں، اب جب اپنی طاقت دکھا رہی ہے تو یہ بلبلاتے پھر رہے ہیں۔ قدامت پسندوں کا عورت مارچ پر اصل اعتراض یہ ہے کہ مارچ ان کی انگلی پکڑے کیوں نہیں ہو رہا۔ انہیں مسئلہ یہ ہے کہ خواتین اپنے حقوق کا مطالبہ کیوں کر رہی ہیں، ان سے کیوں نہیں پوچھ رہیں؟ عورت مارچ کی منتظمین کہتی ہیں کہ پدرشاہی نے انہیں صدیوں سے جس بلبلے میں قید رکھا ہوا تھا اب اس بلبلے کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
مارچ رکوانے کے لیے لاہور اور کراچی میں عورت مارچ کے پوسٹر پھاڑے گے ، تو کبھی لاہور اور سندھ ہائی کورٹ میں مارچ کے خلاف پیٹیشن درج کروائی گئیں، مولانا فضل الرحمٰن نے ایک اجتماع میں اپنے پیروکاروں کو عورت مارچ کے خلاف قانون ہاتھ میں لینے کا حکم جاری کیا اور مردِ مومن سراج الحق نے بھی کسی سے پیچھے نہ رہتے ہوئے عورت مارچ کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ اس سارے شور میں خلیل الرحمٰن قمر بھی کان پر قلم سجائے سامنے آگئے اور عورت مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے یہ اعلان کردیا کہ وہ ڈٹ کر میرا جسم میری مرضی کے بے ہودہ نعرے کی مخالفت کریں گے۔
تاہم دوسری طرف معاشرے کی مغرب زرہ لبرل خواتین کہلانے والیوں نے ان کی کسی بات پر کان نہیں دھرے اور مارچ کی تیاریاں پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش سے کی جا رہی ہیں۔ میرا جسم میری مرضی کے نعرے کی توجیح پیش کرتے ہوئے عورت مارچ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ عورت اپنے جسموں پر اپنا حق چاہتی ہے، اپنے جسموں پر سے مرد کی نظریں اور ہاتھ ہٹوانا چاہتی ہے ، سوچ کو پدرشاہی کی غلامی سے آزاد کروانا چاہتی ہے، وہ پڑھنا بھی چاہتی ہے اور پڑھنے کے بعد اپنی مرضی کی نوکری بھی کرنا چاہتی ہے ، وہ اپنا نکاح نامہ بھی اپنی مرضی سے پُر کرنا چاہتی ہے اور کسی ان چاہے اور تکلیف دہ رشتے کی قید سے باہر بھی اپنی مرضی سے نکلنا چاہتی ہے ۔
عورت مارچ کی منتظمین کا کہنا یے کہ عورت گھر اور گھر سے باہر اپنے لیے برابری کے حقوق چاہتی ہے ۔ پارلیمان سے لے کر مسجد تک میں برابر کی نمائندگی چاہتی ہے ، جو مذہب کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں ، ان سے اس مذہب کو آزاد کروانا چاہتی ہے ۔ تاہم پاکستان پیپلزپارٹی کے علاوہ ملک کی کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نہیں ابھی تک کھل کر عورت مارچ کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو واحد شخص ہیں جنہوں نے اس موضوع پر کھل کر بات کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عورت مارچ کی بھرپور حمایت کریں گے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ خود کو بے نظیر بھٹو ثانی قرار دینے والی مریم نواز شریف بھی اس اہم قومی موضوع پر چپ سادھے بیٹھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button