خود کو مجیب قرار دینے والا عمران اب یوٹرن کیوں لینے لگا؟

عمران خان نے اپنی ماضی کی تھوکا چاٹنے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے شیخ مجیب الرحمٰن کے بیانیے سے جان چھڑوانے کے جتن شروع کر دئیے ہیں۔ دو روز قبل عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر 1971 کے حالات کی موجودہ حالات سے تقابلی جائزے پر مبنی ویڈیو شئیر ہونے کے بعد اس کا ڈھنڈورا پیٹنے والی تحریک انصاف صاف نے اب اس ویڈیو سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس پر وضاحتیں دینا شروع کر دی ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کے اس بیانیے کو نہ صرف حکومتی جماعتیں غداری سے تعبیر کر رہی ہیں بلکہ عسکری حلقوں میں بھی اس حوالے سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ اسے ملک توڑنے کی سازش قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے شیخ مجیب الرحمان کے حوالے سے عمران خان سے منسوب بیان کی بھوندی وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کیا گیا وہ ہمارا ہی ہے، لیکن ’خان صاحب ہر ٹوئٹ کے ہر لفظ کو نہیں دیکھ پاتے‘۔ اس لئے اس سے عمران خان کا کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا 1971 کا موازنہ سیاسی مقابلے میں تھا،تاہم نہ ’ہم عوامی لیگ ہیں اور نہ ہی خان صاحب شیخ مجیب ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے ہونے والی ٹوئٹ سے کوئی تعلق نہیں، عمران خان جیل میں ہیں وہ ہر سوشل میڈیا مواد کو منظور نہیں کرتے، 1971 والی ویڈیو کو سیاسی نہ کہ فوجی تناظر میں دیکھا جائے۔
خیال رہے کہ عمران خان کے ”ایکس“ اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو جاری گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔
دوسری جانب موجودہ سیاسی حالات کے تجزیے پر مبنی چینل 24 کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی غیر یقینیت معاشی عدم استحکام اور سماجی گھٹن کے بیچ ڈائیلاگ کی خواہش سینے میں لئے سیاسی فریقین ہر روز ڈیڈلاک کو پہلے سے زیادہ شدید اور مضبوط ترکرتے جارہے ہیں۔ حالانکہ اس ڈیڈلاک کی کنجی اپنی ذاتی انا، ضد اور ہٹ دھرمی کو قربان کرنے میں ہے مگر شائد بدقسمتی سے مملکت خداد کی خاطر کوئی بھی اپنی ضد انا اور ہٹ دھرمی کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ۔ بدقسمتی سے وسائل سے زیادہ مسائل انسانیت سے زیادہ بیانیہ اور پرفارمنس سے زیادہ پاپولیریٹی اہم ہے اس کی خاطر چاہے ملکی سالمیت داو پر لگے ملک کی بقا خطرے میں پڑے یا پھر بین الاقوامی سطح پر جگ ہنسائی کیوں نہ ہو اہم بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پہ ریچ کتنی ملتی ہے دادو تحسین کے ریکارڈ کتنے ٹوٹتے ہیں اور ٹرینڈ کتنی دیر تک بنا رہتا ہے۔
پاکستان کو سری لنکا بنانے سے لیکر ڈیفالٹ کرانے تک آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے لیکر دھرنے تک اور یورپی یونین کو جی ایس پی پلس سٹیٹس پر نظرثانی کے مشوروں کے بعد اب ایک اور بیانیہ نئی پیکنگ کے ساتھ مارکیٹ میں دستیاب ہے جس میں ملک کے موجودہ حالات کو 1971 سے تعبیر کیا جارہا ہے جس میں اشارہ خدانخواستہ ملک کے دولخت ہونے کی جانب ہے بانی پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس ہینڈل سے کی گئی پوسٹ میں عوام کو حمودالرحمان کمیشن کی رپورٹ پڑھنے کا مشورہ دیا گیا اور ابھارہ گیا کہ جانئے کہ غدار کون ہے یہ بیانیہ بانی پی ٹی آئی کے اسی بیانئے کا تسلسل ہے کہ جس میں انھوں نے ملک میں مارشل لا لگانے سے لیکر ملک کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے تک کی بات کی اور یہ سب اپنے آپ کو اقتدار سے علیحدہ اور مائنس کرنے کے نتیجے کے طور پر سامنے رکھا جس کے بعد انکی جماعت نے عمران خان کو اپنی ریڈلائن قرار دیتے ہوئے ملکی اداروں کے خلاف اس قدر منظم کیمپین چلائی کے چشم فلک نے نو مئی دوہزار تئیس جیسا سیاہ دن بھی دیکھا کہ جب ملک میں شہدا کے مجسموں کی بے حرمتی کی گئی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ۔
رپورٹ میں حمودالرحمان کمیشن کی رپورٹ پڑھنے اور ملک کو دولخت کرنے کا بیانئہ بنانے والے بانی تحریک انصاف عمران خان کے سامنے چند سوالات رکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 1971 میں تو مکتی باہنی اور انڈیا کھل کر مجیب الرحمان کو سپورٹ کر رہے تھے آج بانی پی ٹی آئی یہ بتائیں انہیں اِس طرح کی سپورٹ کون فراہم کر رہا ہے؟؟مجیب الرحمن نے تو مانا کے وہ 1956سے علیحدہ ملک کا خواب دیکھ رہا تھا کیا آپ بھی یہی سوچ رکھتے ہیں؟؟کیا آپ 1971 سے مطابقت کر کے لوگوں کو اِس بات پر اُبھار رہے ہیں کے وہ پاکستان سے متنفر ہو جائیں کیونکہ بقول آپکے، آپ ہیں تو پاکستان ہے؟؟مجیب الرحمان نے تو اپنی سازش الیکشنز کے بعد حکومت نہ ملنے پر کی – آپ تو پَونے چار سال وزیر اعظم رہے، فوج کے قصیدے پڑتے رہے اور مکمل سپورٹ انجوائے کی، 12سال سے آپ کی پارٹی کے پی کے میں حکومت کر رہی ہے اور آپکو ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار سے ووٹ آف نو کونفیڈینس سے نکالا گیا تو آپ اپنا موازنہ کیسے مجیب الرحمان سے کر رہے ہیں؟
