خیبرپختونخواہ کرپٹو کرنسی کا بزنس شروع کرنے کو تیار

پاکستان میں ابھی تک کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کوئی باقاعدہ قانون موجود نہ ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس نے کہ کرپٹو کرنسی کا بزنس شروع کرنے کے لئے کرپٹو مائننگ کا آغاز کر دیا یے۔ یاد رہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں ابھی تک باقاعدہ کرپٹو کرنسی کا بزنس شروع نہیں ہو پایا اور نہ ہی اسٹیٹ بینک نے اس سے متعلق کسی قسم کی کوئی پالیسی دی ہے۔
یاد رہے کہ کرپٹوکرنسی کو 2009 میں ایک سافٹ ویئر انجینئر نے ایجاد کیا تھا۔ لیکن مئی 2010 میں بٹ کوائن کو شہرت اس وقت ملی جب اس سے پہلی مرتبہ پاپا جونز کے دو پیزے خریدے گئے۔ اسے دنیا میں کرپٹو کرنسی کی پہلی خریداری مانا جاتا ہے۔ اب 22 مئی کے دن کو کرپٹوکرنسی کی دنیا میں ’بٹ کوائن پیزا ڈے‘ کہا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں تہلکہ مچا دینے والی کرپٹو کرنسی اور کرپٹو مائننگ پوری دنیا میں مستعمل ہے، لیکن پاکستان میں خیبر پختونخوا پہلا صوبہ ہے جس نے سرکاری طور پر کرپٹو مائننگ پر کام شروع کر دیا یے۔ کرپٹو مائیننگ وہ طریقہ ہے جس کے تحت کرپٹو کرنسی کے آن لائن لین دین کی تصدیق کی جاتی ہے اور اس کا ریکارڈ اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔
کرپٹو مائننگ کو قانونی حیثیت دینے اور صوبے میں فروغ دینے کےلیے بنائی گئی خیبرپختونخوا کی ایڈوائزری کمیٹی کا پہلا اجلاس گزشتہ ہفتے منعقد ہوا تھا جس میں کرپٹو مائننگ کے مختلف پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا۔ اجلاس میں مزید ذیلی کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جن میں کرپٹو مائننگ کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ضیااللہ خان بنگش کے مطابق صوبائی حکومت کرپٹو مائننگ کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین سے مشاورت کے بعد قانونی طریقہ کار کے مطابق کرپٹو مائننگ اور بلاک چین ٹینکالوجی کا استعمال شروع کیا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کرپٹو مائننگ کے تمام تر اختیارات اور کنٹرول حکومت کے پاس ہوگا اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد تمام صنعت کار، چاہے وہ پاکستانی ہوں یا بیرون ممالک سے، ہمارے ساتھ رابطہ کر سکیں گے۔
کرپٹو مائننگ کے بارے میں جاننے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ کو کرپٹو کرنسی یا ڈیجیٹل کرنسی کے بارے میں معلوم ہو۔ کرپٹو کرنسی موجودہ دور میں دنیا بھر میں رائج اور استعمال ہونے والی کرنسی سے مختلف ہے اور جس طرح نام سے ہی واضح ہے کہ یہ ایک آن لائن ڈیجیٹل کرنسی ہے۔ نیشنل سینٹر برائے بیگ ڈیٹا اینڈ کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے سربراہ اور گزشتہ چار سالوں سے کرپٹوکرنسی کی مائننگ کی تکنیک پر کام کرنے والے محسن طارق نے بتایا کہ کرپٹو مائننگ کا نام گولڈ یعنی سونے کی مائننگ سے نکلا ہے اور جس طرح سونے کو ایک مشکل طریقے سے مختلف آلات استعمال کرکے نکالا جاتا ہے، اسی طرح کرپٹو کرنسی کو بنانے کے لیے بھی کمپیوٹر کے ذریعے کچھ مشکل فارمولے حل کیے جاتے ہیں جس پر صارف کو یہ کرنسی ملتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرپٹو کرنسی بنانے کے پورے عمل کو کرپٹو مائننگ کہا جاتا ہے اور یہ مائننگ کرنے والوں کو ’مائنر‘ کہا جاتا یے۔ محسن کا کہنا تھا کہ کمپیوٹر پر مشکل فارمولے حل کرنے پر ایک خاص تعداد میں ڈیجیٹل کرنسی مل جاتی ہے جس سے صارف پھر خریداری کر سکتا ہے۔
دراصل کرپٹو کرنسی کو 2009 میں ساتوشو ناکو موٹو نامی ایک شخص نے ایجاد کیا تھا، جو پیشے کے لحاظ سے سافٹ ویئر انجینئر ہیں اور اپنا اصلی نام خفیہ ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ شروع میں اس نئی کرنسی کو اتنی توجہ نہیں مل سکی لیکن پھر ڈارک ویب پر موجود ایک ویب سائٹ ڈیجیٹل کرنسی کے لیے پہلی آن لائن مارکیٹ بن گئی جس پر لوگ ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے خریداری کرتے تھے۔ اس ڈارک ویب کی عیب سائٹ پر لوگ کرائے کے قاتلوں کی خدمات بھی حاصل کر سکتے تھے اور یہ سب کچھ ڈیجیٹل کرنسی کی مدد سے کیا جاتا تھا۔ اسی ویب سائٹ پر منشیات کا کاروبار بھی کرپٹو کرنسی میں کیا جاتا تھا جس سے کرپٹو کرنسی مشہور بھی ہوئی اور بدنام بھی ہوئی کیوں کہ یہ ایسی کرنسی ہے جسکا کوئی ٹریک نہیں رکھ سکتا۔
کرپٹو کرنسی اور دنیا میں رائج دیگر کرنسیوں میں فرق یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی میں مڈل مین نہیں ہوتا جو ٹرانزیکشن کا ٹریک ریکارڈ رکھ سکے۔ مثلاً بینک سے پیسے لیتے یا جمع کرواتے ہوئے بینک کے پاس ٹرانزیکشن کا ریکارڈ ہوتا ہے، تاہم کرپٹو کرنسی میں ایسا نہیں ہوتا۔
ساتوشو ناکوموٹو جب 2009 میں پہلی بار کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں لائے تو انہوں نے 50 بٹ کوائن مائننگ سے حاصل کیے۔ وہ اسی طرح ہر دس منٹ بعد کمپیوٹر پر فارمولے حل کر کے مزید 50 بٹ کوائن مائن کرتے رہے۔ وہ مائنگ کر کے مختلف لوگوں کو بھیجتے رہے تاہم ان بٹ کوائن کی کوئی قدر مقرر نہیں تھی۔ بٹ کوائن کو قدر تب ملی، جب ان کے ذریعے پہلی مرتبہ ایک پیزا خریدا گیا۔ یہ 22 مئی 2010 کی بات ہے جب بٹ کوائن کو ایجاد ہوئے ایک سال گزر گیا تھا۔ ایک کمپیوٹر پروگرامر لاسزلو حانیچ نے پیزا کی مشہور چین ’پاپا جونز‘ سے 10 ہزار بٹ کوائن کے ذریعے دو پیزے خریدے۔ اسے دنیا میں کرپٹوکرنسی کی پہلی خریداری مانا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ کرپٹو مائننگ کے لیے ایسے کمپیوٹر چاہیں جن میں طاقت ور گرافکس پراسیسنگ یونٹ لگ جائے۔ یہ کمپیوٹر ہر وقت چلتے ہیں کیوں کہ ہر دس منٹ کے بعد کرپٹو کرنسی کی مائننگ ہوتی ہے۔ کرپٹو کرنسی مائن کرنے کے بعد صارف اس کرنسی کی خریداری بھی کرسکتا ہے اور اسے بحیثیت اثاثہ اپنے پاس بھی رکھ سکتا ہے۔
تاہم پاکستان میں ابھی تک کرپٹو کرنسی کے حوالے سے باقاعدہ قانون موجود نہیں۔ اسٹیٹ بینک کی بھی کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ اسٹیٹ بینک نے 2018 میں ایک سرکولر جاری کیا تھا جس میں بینکوں کو بتایا گیا تھا کہ وہ کرپٹو کرنسی میں کسی قسم کی ٹریڈنگ یا ٹرانزیکشن پراسس نہیں کریں گے اور نہ ہی کرپٹو کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کو خدمات فراہم کریں گے کیوں کہ ایسی ٹرانزیکشن غیر قانونی خریدو فروخت میں استعمال ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ ٹیلی ویژن میزبان وقار ذکا نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک پیٹیشن بھی دائر کی تھی جس میں سوال اٹھایا گیا کہ اسٹیٹ بینک نے کس قانون کے تحت کرپٹو کرنسی پر پابندی لگائی ہے؟ اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس نے کرپٹو کرنسی پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی ہے، اور عوام کو پریس ریلیز کے ذریعے صرف آگاہ کیا گیا تھا کہ کرپٹو کرنسی سے متعلق ابھی تک اس نے کوئی پالیسی وضع نہیں کی ہے۔ سٹیٹ بینک کا مزید کہنا تھا کہ کرپٹو کرنسی کے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معاونت کےلیے استعمال ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں شدت پسند گروپوں کو بٹ کوائن کے ذریعے مالی معاونت کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ سندھ پولیس کے مطابق گزشتہ ماہ کراچی میں انہوں نے ایک یونیورسٹی طالب علم کو بٹ کوائن کے ذریعے شدت پسند گروپ کو پیسے بھیجوانے کے الزام میں گرفتار کیا۔
