خیبر پختونخوا میں PTI کو الیکشن میں فری ہینڈ کیسے ملا؟

9 مئی میں شرپسندانہ کارروائیوں کے بعد جہاں ایک طرف تحریک انصاف مسلسل زیر عتاب ہے وہیں دوسری طرف آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے عمرانڈوز کاغذات نامزدگی چھیننے اور امیدواروں کی گرفتاریوں کا واویلا کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم روزنامہ امت کہ ایک رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کو مکمل فری ہینڈ دیدیا گیا ہے۔ تاہم 9 مئی کے بعد بلوں میں چھپے بیٹھے پی ٹی آئی رہنماؤں کو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال میں مشکلات کا سامنا ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق آئندہ عام انتخابات کے لئے پی ٹی آئی کو خیبرپختونخواہ میں فری ہینڈ دیا گیا ہے اور روپوش رہنماؤں کی کاغذات نامزدگی بھی سکون سے جمع کرائے گئے ہیں اور اب ان کی کاغذات نامزدگی کے بعد جانچ پڑتال کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ جو انتہائی مشکل ہے کیونکہ وکلا نے جو کام کرنا تھا کرلیا۔ لیکن اب مخالف امیدواروں کے اعتراضات کو دور کرنا ایک مشکل کام ہے، جس کی وجہ سے کاغذات نامزدگی کی تصدیق کے لئے پیش ہونے پر گرفتاری اور پیش نہ ہونے پر کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لئے امیدواروں کو ایک ہفتے کے اندر اندر RO کے سامنے پیش ہونا ہوگا جبکہ پیش نہ ہونے کی صورت میں کاغذات مسترد تصور ہوں گے۔ دوسری جانب 9 مئی کے واقعات میں مطلوبہ پی ٹی آئی کے ایک درجن سے زائد ارکان کی گرفتاری کا قوی امکان ہے۔

مخالف امیدواروں نے شرپسند عمرانڈوز کو میدان سے باہر رکھنے کے لئے تگڑے وکلا کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ جس کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی جمع کرائی گئی دستاویزات کا چیلنج ہونا یقینی ہے جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران فارم پر اصل دستخط کی تصدیق کے لئے پی ٹی آئی امیدواروں کو طلب بھی کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ اشتہاری مجرمان ہیں جن میں مراد سعید، اعظم خان سواتی، علی امین گنڈا پور سمیت ایک درجن سے زیادہ امیدوار شامل ہیں اور پولیس نے ان پر نظر رکھنی ہے اور اگر یہ لوگ جلوسوں کی شکل میں آتے ہیں تو RO کے لئے مشکلات پیدا ہوگی۔ جس کیلئے پولیس نے دیگر سیکیورٹی اداروں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان افراد کی گرفتاری کی صورت میں پی ٹی آئی کو ان کے حلقوں میں دیگر امیدواروں کو اتارنا پڑے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ امیدوار کی جانب سے امیدوار کا وکیل بھی پیش ہوسکتا ہے لیکن اگر مخالف اعتراض اٹھائے یا RO ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتا ہے تو امیدوار RO کے سامنے پیش ہونے کا پابند ہے اور اگر کوئی امیدوار ایسا نہیں کرتا تو اس کے کاغذات مسترد کئے جائیں گے۔ اور RO کے اختیارات کو کسی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ مخالف امیدوار بھی اس طرح تاک میں ہوتے ہیں کہ مخالف کو میدان سے آؤٹ کردیا جائے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن خیبرپختون کے مطابق خیبر پختونخواہ کی صوبائی اسمبلی کی 115 جنرل نشستوں کے لئے 3 ہزار 349 مرد اور 115 خواتین امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال جاری رہی اور یہ سلسلہ 30 دسمبر تک مکمل ہوگا۔ اس دوران بینکوں، بجلی کمپنیوں، پی ٹی سی ایل سمیت کئی اداروں کے نمائندوں نے اپنی بقایاجات کے حصول کے لئے RO کے ساتھ رابطے رکھے ہوئے ہیں اور RO کے دفاتر سمیت الیکشن کمیشن سے فہرستیں حاصل کر رکھی ہیں، تاکہ نادہندہ افراد سے بقایاجات وصول کرسکے۔ اس بار ایک ارب سے زائد کے بقایاجات وصول کرنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق زیادہ بقایاجات زرعی ترقیاتی بینک کے ہیں اور ان کو وصول کرنے کا یہ ایک سنہری موقع ہے۔

Back to top button