خیبر پختون خواہ کے 75 سرکاری ملازمین گرفتار، 50 گاڑیاں ضبط

وفاقی حکومت نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر یلغار کی ایک اور ناکام کوشش کرنے والے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور کے قافلے میں شامل درجن پولیس والوں اور چار درجن ریسکیو اہلکاروں کو گرفتار کرنے کے علاوہ 50 سے زائد سرکاری گاڑیاں بھی ضبط کر لی ہیں۔خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ گنڈا پور کے قافلے میں شامل ریسکیو 1122 کی 10 ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کے پانچ ٹینکرز سمیت 50 سے زائد سرکاری گاڑیاں پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے اپنی تحویل میں لے لی ہیں۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد ڈی چوک احتجاج کے لیے خیبر پختونخوا سے وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پارٹی ورکرز کے علاوہ سرکاری ملازمین اور پولیس والوں کی بڑی تعداد اسلام آباد پہنچی تھی تاکہ ڈی چوک پر دھرنا دیا جا سکے، لیکن وفاقی حکومت نے کنٹینرز لگا کر پورا شہر بند کر دیا تھا لہذا گنڈاپور اپنے مشن میں ناکام رہے جس کے بعد وہ پراسرار طور پر 24 گھنٹے غائب رہے اور پھر خیبر پختون خواہ اسمبلی میں اچانک نمودار ہو گئے۔
بتایا جاتا ہے کہ جب علی امین گنڈا پور اسلام اباد پہنچنے کے فورا بعد اچانک غائب ہو گئے تو ان کے جلوس کے شرکا بھی بکھر گے۔ اس دوران جب اسلام آباد پولیس نے کے پی سے آئے ہوئے مظاہرین کی دھلائی شروع کی تو ایمبولنسز اور فائر بریگیڈ کے علاوہ سرکارہ کرینوں کے ڈرائیورز سب کچھ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق چار اور پانچ اکتوبر کو اسلام آباد سے 800 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا جن میں خیبر پختون خواہ سے علی امین گنڈا پور کے ساتھ آنے والے درجن سے زائد کے پی پولیس کے جوان بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ علی امین کے قافلے میں رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کرینوں سمیت 50 سے زائد سرکاری گاڑیاں بھی شامل تھیں جو اب اسلام آباد انتظامیہ نے مال مسروقہ کے طور پر ضبط کر لی ہیں۔ خیبرپختونخوا ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایاز کے مطابق ریسکیو 1122 کی 22 گاڑیاں پولیس ضبط کر کے اہنے ساتھ لے گئی ہے جن میں ایمبولینس اور فائر وہیکل شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو نے کے پی حکومت کی درخواست پر ایمرجنسی کے لیے گاڑیاں وزیراعلی کے قافلے کے ساتھ روانہ کی تھیں جو پولیس نے ضبط کر لی ہیں اور واپس کرنے سے انکاری ہے۔ ڈی جی ریسکیو کے مطابق ریسکیو 1122 کے 50 سے زائد اہلکاروں پر کیسز درج کر کے انہیں بھی تھانوں میں بند کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت ڈسٹرکٹ گورنمنٹ مردان اور صوابی کی گاڑیاں بھی پنجاب پولیس کے قبضے میں چلی گئی ہیں۔ صوبائی وزیر سہیل آفریدی نے بتایا کہ صوبے کی سرکاری گاڑیوں کی توڑ پھوڑ سے نہ صرف کروڑوں کا نقصان پہنچایا گیا ہے بلکہ درجنوں گاڑیاں پولیس نے اپنے قبضے میں بھی لے رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اسلام آباد پولیس کے اہلکار گرفتاریوں کے دوران ہماری گاڑیوں سے قیمتی سامان بھی چوری کر کے لے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی چوک کے قریب پولیس کے اہلکاروں نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی گاڑیوں سے نقد پیسے اور قیمتی موبائیل بھی چوری کیے۔
کے پی کے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا کہنا تھا کہ ’پنجاب پولیس نے حد سے تجاوز کر کے سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ہے جس کا ازالہ ان کو کرنا پڑے گا۔ نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کی گاڑیاں ابھی بھی پولیس کے قبضے میں ہیں جن کا سیاسی احتجاج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز اور اسلام آباد پولیس کی ریڈ کے دوران کے پی ہاؤس میں موجود کے پی حکومت کی گاڑیوں کو بھی جان بوجھ کر نقصان پہنچایا گیا ہے۔‘ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے 6 اکتوبر کو 24 گھنٹے بعد منظر عام پر آ کر ایوان کو بتایا کہ کے پی ہاؤس اسلام آباد میں ان کی ذاتی گاڑی کھڑی تھی جس کے شیشے توڑے گئے جب کہ سی ایم کے پروٹوکول میں شامل گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے ابھی تک ہماری گاڑیاں اپنے قبضے میں لے رکھی ہیں جن کا حساب لیا جائے گا۔
سہیل وڑائچ نے وزیراعلی گنڈاپور کو اپنا ہیرو کیوں قرار دے دیا؟
دوسری جانب وفاقی حکومت نے چار اور پانچ اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمیں اور سرکاری مشینری کے استعمال کے حوالے سے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سرکاری ملازمین کی احتجاج میں ملوث ہونے کی تحقیق کرے گی۔ وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے منظر عام پر آنے کے بعد یہ دعوی بھی کیا ہے کہ ان کے معاون خصوصی لیاقت علی اور مشیر زرشاد خان تاحال لاپتا ہیں۔
ان کے مطابق لیاقت خان کو ان کے دیگر سکیورٹی اہلکاروں سمیت گرفتار کیا گیا ہے جبکہ زرشاد خان بھی کے پی ہاؤس سے لاپتا ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے کابینہ اراکین کے ساتھ سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو بھی گرفتار کیا ہے۔
