داسو حملے سے لاتعلقی کا بھارتی دعویٰ مسترد

اپنے بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزارت خارجہ کے مضحکہ خیز دعوے کومسترد کرتا ہے۔ دوسری جانب چین نے خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہستان کے علاقے داسو میں چینی انجینئرز اور اہلکاروں پرحملے سے متعلق پاکستان کی تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا ، چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے مختصر وقت میں بڑی پیش رفت دکھائی ہے،چین پاکستانی اقدامات کو سراہتاہے ، چینی منصوبوں کی حفاظت کے لیے مل کر سکیورٹی پلان بہتربنائیں گے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے موقف اپنایا تھا کہ داسو میں چینی انجینئرز کی گاڑی پر حملہ بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ ہے ، حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور اس سازش میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان ایجنسی این ڈی ایس شامل تھی جبکہ وزارت خارجہ نے بھی داسو دہشتگرد حملے کی تحقیقات کی تمام تفصیلات جاری کر دی ہیں جس میں بتایا گیا کہ داسو دہشتگرد حملہ 14 جولائی کو ہوا، 10 چینی، 3 پاکستانی شہری ہلاک ہوئے، پاکستان نے دہشتگرد حملے کی جامع تحقیقات کیں ، ہر موقع پر نتائج سئ چین کو آگاہ کیا، دہشتگرد حملے میں ملوث نیٹ ورک کو افغانستان میں را اور این ڈی ایس کا تعاون حاصل تھا، کالعدم ٹی ٹی پی سوات نے دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایما پر حملہ کیا۔
