داعش کا علاقائی سربراہ شیخ خراسانی، افغانستان سے گرفتار

افغان انٹیلی جنس سروس کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیاء اور مشرقِ بعید میں داعش کا سربراہ، ضیاء الحق عرف ’شیخ عمر خراسانی‘ اپنے دو سینئر ساتھیوں سمیت کابل سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سکیورٹی کی جانب سے جاری بیان میں گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جنوبی ایشیاء میں دہشت گرد تنظیم کے سربراہ ابو عمر خراسانی سمیت ان کی خفیہ ٹیم کے سربراہ اور پبلک ریلیشن آفیسر کو کابل میں گرفتار کر لیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سروسز خطے میں دہشت گرد تنظیموں کے اہم رہنماؤں کی گرفتاری اور ان تنظیموں کے مشترکہ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے کارروائی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ داعش کے جنوبی ایشیائی گروپ کی افغانستان میں زیادہ بڑے پیمانے پر موجودگی نہیں البتہ گروپ کی جانب سے حالیہ عرصے میں کابل میں کیے جانے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ ہفتے افغان سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ کابل میں دہشت گرد حملوں میں ملوث داعش اور حقانی نیٹ ورک کے 8 دہشت گردوں سمیت ایک سکھ کو گرفتار کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ رواں سال 29 فروری کو طالبان اور امریکا کے درمیان افغانستان میں امن کے قیام کے سلسلے میں تاریخی معاہدہ ہوا تھا البتہ ملک میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے سبب ملک میں پائیدار امن کا قیام خطرے میں پڑ گیا ہے۔
معاہدے کے بعد سے طالبان کی جانب سے غیر ملکی افواج پر حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس کے برعکس غیر ملکی افواج پر حملوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
پیر کو ملک میں سڑک کنارے نصب چار بم دھماکے ہوئے جس میں ایک بچے سمیت کم از کم 4 شہری زخمی ہوئے لیکن کسی بھی گروپ نے ان دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
افغانستان میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات پر امریکا نے طالبان سے حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر طالبان نے افغانستان سکیورٹی فورسز پر حملے بعد نہ کیے تو وہ ان کا دفاع کرنے اور طالبان پر جوابی حملے کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے غیر ملکی افواج پر حملے نہیں کیے جا رہے لیکن معاہدے کے بعد سے ان کی جانب سے مقامی فورسز پر مسلسل حملے کیے جاری ہیں اور وہ اب اوسطاً روزانہ 55 حملے کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 29 فروری کو معاہدے پر دستخط کے بعد سے اب تک طالبان ساڑھے 4 ہزار سے زائد حملے کر چکے ہیں اور اس میں سب سے زیادہ وہ صوبے متاثرہ ہوئے ہیں جہاں اب تک کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
