دبئی کا حکمراں بھی ‘میرا جسم میری مرضی’ مہم کی لپیٹ میں

برطانوی ہائیکورٹ نے دبئی کے ارب پتی حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم پر ان کی سابقہ اہلیہ اور بیٹیوں کی طرف سے لگائے جانے والے اغوا، مرضی کے خلاف دبئی واپسی، تشدد اور دھمکانے کے الزامات کو درست قرار دے دیا ہے جس کے باعث شیخ محمد بن راشدکو بین الاقوامی سطح پر شدید سبکی کا سامنا ہے۔
برطانوی عدالت نے آٹھ ماہ پہلے شروع ہونے والے مقدمے کا فیصلہ شہزادی حیا کے حق میں سنا دیا ہے جو گزشتہ برس اپنے دو بچوں کے ساتھ دبئی سے فرار ہو کر لندن پہنچی تھیں اور کہا تھا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ شیخ محمد نے اس مقدمے کے فیصلے کی اشاعت پر پابندی لگوانے کی کوشش کی لیکن عدالت نے اسے عوامی مفاد میں قرار دیتے ہوئے اس کی درخواست مسترد کر دی اور مقدمے کے فیصلے کی اشاعت کا حکم جاری کردیا۔
یاد رہے کہ اپریل 2018 میں دبئی کے حکمران 70 سالہ شیخ محمد بن راشد المکتوم کی 35 سالہ بیٹی شیخہ لطیفہ نے امریکی خاتون دوست اور فرانسیسی سابق فوجی جاسوس کی مدد سے فلموں کی طرز پر ’دبئی‘ سے فرار ہونے کی ناکام کوشش کی تھی۔ شیخہ لطیفہ کو ’دبئی سے فرار‘ ہونے کی کوشش کے دوران بھارتی اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ افواج نے بحیرہ عرب سے گرفتار کر لیا اور تب سے شہزادی لاپتہ ہیں اور تاحال ان کے حوالے سے کسی کو کوئی علم نہیں۔ شیخہ لطیفہ کے لاپتہ ہونے کی گونج 5 مارچ 2020 کو لندن کی ہائی کورٹ میں اس وقت سنائی دی جب دبئی کے حکمران کے خلاف ان کی اہلیہ شہزادی حیا بنت حسین کی درخواست پر برطانوی عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا۔ لندن ہائی کورٹ نے دبئی کے حکمران کی فرار ہونے والی اہلیہ شہزادی حیا کی درخواستوں پر فیصلہ دسمبر 2019 میں ہی محفوظ کرلیا تھا تاہم شیخ محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے اپنے خلاف دائر درخواستوں کے خلاف برطانوی سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا جس نے ہائی کورٹ کو فوری طور پر فیصلہ نہ سنانے کی ہدایت کی تھی۔
دبئی کے بادشاہ نے برطانوی سپریم کورٹ سے یہ استدعا بھی کی تھی کہ ان کے اور ان کی فرار ہونے والی اہلیہ شہزادی حیا کے درمیان تنازع کے لندن ہائی کورٹ کے فیصلے کو خفیہ رکھا جائے کیوں کہ مذکورہ معاملات ان کے نجی معاملات ہیں تاہم برطانوی سپریم کورٹ نے دبئی کے حکمران کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کو فیصلہ سنانے اور اس کی اشاعت کا حکم دیا تھا۔ کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو معلوم ہوا کہ 70 سالہ محمد راشد المکتوم نے اپنی دو بیٹیوں کو اغوا کیا جب کہ اپنی اہلیہ شہزادی حیا کو بھی طاقت کے زور پر قید کرکے ہراساں کیا۔
ہائی کورٹ آف انگلینڈ اینڈ ویلز کے فیملی ڈویژن کی سربراہی کرنے والے جج اینڈریو مکارلین نے شیخ محمد کو شیخہ شمسہ کو برطانوی شہر کیمبرج سے اگست 2000 میں اغوا کا حکم دینے اور اس کی منصوبہ بندی میں ملوث قرار دیا، اس وقت شیخہ شمسہ 19 برس کی تھیں۔ جج نے سماعت کے دوران کہا کہ شیخہ شمسہ کو دبئی واپسی پر مجبور کیا گیا تھا اور گزشتہ 2 دہائیوں سے ان کی آزادی چھینی گئی ہے، علاوہ ازیں شمسہ کی بہن 35 سالہ شیخہ لطیفہ کو 2 مرتبہ 2002 اور 2018 میں پکڑ کر دبئی واپس لایا گیا تھا۔ انہیں پہلی مرتبہ فرار ہونے کی کوشش سے قبل اپنے والد کی ہدایات پر 3 سال تک کے لیے قید کیا گیا تھا، مارچ 2018 میں ان کی دوسری قید عالمی شہ سرخیوں کا حصہ بنی تھیں لیکن تاحال وہ لاپتہ ہیں اور وہ اس وقت کہاں اور کس حال میں ہیں اس بات کا علم کسی کو نہیں۔
برطانوی عدالت نے گواہوں کے بیانات سننے کے بعد قرار دیا کہ شیخ محمد اپنی ایک اور شادی سے دو بیٹیوں کے اغوا اور جبری دبئی واپسی کے بھی ذمہ دار ہیں۔ شیخہ شمسہ برطانیہ کے علاقے سرے میں اپنی خاندانی رہائشگاہ سے سن 2000 میں فرار ہوئی تھیں لیکن انھیں شیخ کے ایجنٹوں نے کیمبرج شائر میں پکڑ لیا اور بیہوش کر کے دبئی لے گئے جہاں وہ اب بھی اپنی مرضی کے خلاف رہ رہی ہیں۔ کیمبرج شائر پولیس کی طرف سے ان سے ملاقات کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی تھی۔
یاد رہے کہ شیخہ لطیفہ نے سن 2002 اور 2018 اپنے والد کے قید سے فرار ہونے کی ناکام کوششیں کیں۔ پہلی کوشش کے بعد ان کے والد نے انہیں تین سال تک دبئی میں قید رکھا۔ دوسری کوشش کے دوران انہیں انڈیا کی ساحلی حدود کے قریب سے پکڑا گیا تھا اور وہ اس کے بعد سے دبئی میں اپنے گھرمیں نظر بند ہیں۔ جج نے شیخ لطیفہ کی طرف سے ایک وڈیو میں لگائے گئے الزامات کو درست قرار دیا اور کہا کہ شیخ کی حکومت میں ان دونوں خواتین کی آزادی چھین لی گئی ہے۔
اردن کی45 سالہ شہزادی حیا کی 2004 میں 70 سالہ شیخ محمد سے شادی ہوئی تھی اور وہ ان کی چھٹی اور سب سے کم عمر بیوی تھیں۔ ان کے 7 اور 11 سال کے دو بچے ہیں۔ دوسری طرف شیخ محمد کے وکلاء کا الزام ہے کہ شہزاد یحییٰ نے بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے برطانوی باڈی گارڈ سے تعلقات قائم کر لیے تھے۔ ابتدائی طور پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ شہزادی حیا شوہر کی جانب سے دھوکے باز اور بے وفا جیسے خطاب دیے جانے اور خود کو درپیش خطرات کی وجہ سے فرار ہوئیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ اس دوران شیخ محمد کی طرف سے ان کو دھمکانے کی ایک مہم شروع ہو گئی اور دو بار ان کے سرہانے پستول ملا جس کا سیفٹی کیچ کھلا ہوا تھا۔ ایک بار ان کے گھر کے باہر ہیلی کاپٹر بھی اترا اور ان کو کہا گیا کہ انہیں صحرا میں ایک جیل میں لے جایا جائے گا۔ چنانچہ شہزادی حیا اپریل 2019 میں اپنے دونوں بچوں کے ساتھ برطانیہ آ گئی تھیں۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم نے شہزادی حیا کے علم میں لائے بغیر 7 فروری 2019 کو شہزادی کے والد اردن کے شاہ حسین کی 20ویں برسی پر انہیں طلاق دے دی تھی۔شہزادی حیا اردن کے سابق بادشاہ حسین بن طلال کی بیٹی اور حالیہ بادشاہ عبداللہ کی بہن ہیں اور دبئی کے حکمران کی چھٹی اہلیہ ہیں۔
