قبول ہوتی دعا!

تحریر : انصار عباسی
بشکریہ : روزنامہ جنگ
کوئی آٹھ دس دن پہلے میرا ایک کالم جنگ میں شائع ہوا جس کا عنوان تھا ”دعا کریں ایسا ہی ہو“۔ لگتا ہے میری اور آپ کی دعا قبول ہو رہی ہے۔ امریکا اور ٹرمپ ذلیل ہو رہے ہیں، اسرائیل کو وہ مار پڑ رہی ہے جو اُس نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا، جبکہ نیتن یاہو کی ایک کے بعد ایک وڈیو یہ ثابت کرنے کیلئے سامنے آ رہی ہے کہ ابھی تک وہ جہنم رسید نہیں ہوا۔ میں نے اپنے اُس کالم میں لکھا تھا کہ:”خطرہ ٹلتا ہوا نظر آ رہا ہے کہ مسلمان ممالک آپس میں جنگ چھیڑ دیں گے۔ میری دعا ہے کہ ایسا کچھ نہ ہو جو ٹرمپ اور نیتن یاہو کیلئےبڑی مایوسی کا باعث ہو گا۔ اگر اُن کی مسلمان ممالک کو آپس میں لڑانے کی سازش اُن پر الٹی پڑ جائے، خطے میں امریکی اڈوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے، ایران میں رجیم چینج نہ ہو سکے، اور امریکی و اسرائیلی خود اس جنگ کے اثرات سے متاثر ہوں تو پھر امریکا اور اسرائیل دونوں کمزور ہوں گے۔ دعا کریں ایسا ہی ہو۔”
اللّٰہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ایران کو چند دنوں میں تباہ و برباد کر کے وہاں اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنے کا خواب دیکھنے والے امریکا اور اسرائیل کو لینے کے دینے پڑ رہے ہیں۔ ایران جس طرح ان دونوں کا مقابلہ کر رہا ہے اور اُن کی ہر چال کو اُنہی پر الٹ رہا ہے، اُس نے دوسروں کے علاوہ امریکا و اسرائیل کوبھی حیران کر دیا ہے۔ اب تو ٹرمپ نے بھی کہا دیا ہے کہ ایران کے اس ردعمل کے بارے میں اُسے اندازہ نہ تھا۔ اسرائیل جس کا خطے میں ایک طاقتور ملک کا تاثر بنا ہوا تھا، وہ پاش پاش ہو چکا ہے، یہاں تو دنیا کا واحد سپر پاور امریکا اور اس کی چوہدراہٹ کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔ ہر قسم کا اسلحہ استعمال کر لیا گیا، لیکن نہ ایران میں رجیم چینج ممکن ہوئی اور نہ ہی وہ ایران کو دفاعی طور پر جھکا سکے۔ بلکہ امریکا اور اسرائیل کو دنیا بھر میں تنہائی کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی بدمعاشی دکھانے کی کوشش کی، لیکن ایران کے خلاف اس جنگ میں وہ نہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو اپنے ساتھ شامل کر سکا، نہ اُس کے بار بار کہنے پر چین، جاپان، نیٹو، جنوبی کوریا ،آسٹریلیا یا کوئی دوسرا ملک آبنائے ہرمز کو امریکی نیوی کے کنٹرول میں لانےکیلئے اُس کے ساتھ ملا۔ بلکہ سب نے ٹرمپ کو صاف جواب دے دیا کہ وہ اس جنگ میں کسی صورت امریکا و اسرائیل کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ اب تو ٹرمپ کی یہ حالت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اُسے کسی کی ضرورت نہیں۔ نہ نیٹو، نہ یورپی یونین، نہ برطانیہ، نہ جاپان، نہ چین۔ سب انکاری ہو گئے۔ یہ ٹرمپ اور امریکا کیلئے بہت بڑا جھٹکا ہے۔ امریکا، جسکی پوری دنیا ہاں میں ہاں ملاتی رہی، جس نے گزشتہ کچھ دہائیوں میں کئی اسلامی ممالک کو تباہ کیا اور وہاں لاکھوں افراد کو نشانہ بنایا۔ اُسے اب جس صورتحال کا سامنا پہلی بار کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ امریکا کے طاقت کیلئے “Beginning of the end” کا ایک بڑا موڑ ہے۔ یہاں امریکا کے اندر بھی ٹرمپ کے ایران جنگ شروع کرنے پر شدید مخالفت ہو رہی ہے، جبکہ یورپ سمیت دنیا بھر میں یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ امریکا اور اسرائیل نے جس طرح ایران سے جنگ شروع کی، اُس نے اقوام متحدہ کو عملی طور پر غیر مؤثر کر دیا ہے۔ اس لیے اب دنیا کو کسی ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں اس انداز میں کسی دوسرے ملک پر جنگ مسلط نہ کی جا سکے۔ یعنی امریکا و اسرائیل کی بدمعاشی اب دنیا کو قبول نہیں۔
دوسری طرف ایران نے نہ صرف میری بلکہ بہت سوں کی توقع سے بڑھ کر امریکا اور اسرائیل کو اب تک جنگ میں اپ سیٹ کیا ہے۔ ایران کے خلیجی ممالک، جہاں امریکی اڈے موجود ہیں، پر جوابی حملوں پر اگرچہ یہ خدشہ ابھی تک برقرار ہے کہ کہیں مسلمان ممالک آپس میں نہ لڑ پڑیں، لیکن شکر ہے کہ ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ اس میں خلیجی ممالک کا ایران پر جوابی حملے نہ کرنے کا فیصلہ بہت خوش آئند ہے۔ ایران کو چاہیے کہ وہ اپنے ان برادر مسلمان ممالک کے حوالے سے اپنی جنگی حکمت عملی میں احتیاط کرے، جبکہ ان تمام ممالک کو سعودی عرب کی طرح امریکا کو اپنی زمین ایران پر حملے کیلئےاستعمال کرنے کی قطعی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ پاکستان کو اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔بہرحال آپ سب سے گزارش ہے کہ مسلمانوں کے حق میں اور اسلام کی سربلندی، امریکا اسرائیل اور بھارت سمیت اسلام دشمنوں کی ناکامی اور نامرادی کے لیے اپنی دعائیں جاری رکھیں۔
