دنیا بھر کی اسمبلیوں میں ایک چوتھائی خواتین پارلیمنٹیرینز ہیں

بین الاقوامی پارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ممالک کی پارلیمان میں خواتین پارلیمنٹیرینز کی تعداد ایک چوتھائی ہے۔
آئی پی یو کی رپورٹ میں سال 2018 کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں خواتین پارلیمنٹیرینز کی تعداد 24.9 فیصد ہے۔
آئی پی یو کے سیکریٹری جنرل مارٹن چونگونگ کے مطابق حالیہ برس میں ‘مثبت پیش رفت ہوئی ہے’ کیونکہ 1995 میں یہ شرح صرف 11.3 فیصد تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘لوگوں کے سوچنے کے انداز میں ایک تبدیلی آئی ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ 25 برس قبل تک کوشش تھی کہ پارلیمنٹ میں 30 فیصد تک خواتین کی نمائندگی ہو لیکن آج 50-50 پر مشتمل صنفی برابری کا تصور عام ہے۔ اس ضمن میں بتایا گیا کہ روانڈا، کیوبا، بولیویا اور متحدہ عرب امارات کی پارلیمنٹ میں صنفی برابری موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا کی پارلیمنٹ میں 31.3 فیصد اور برطانوی پارلیمنٹ میں خواتین اراکین کی تعداد 30 فیصد ہے۔
عالمی ادارے کے مطابق بحر الکاہل کے خطے میں پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی افسوس ناک حد تک کم ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بحرالکاہل میں صرف 19.4 فیصد خواتین پارلیمنٹ میں موجود ہیں جب کہ اسی خطے کے تین ممالک مائیکرونیشیا، پاپوا نیوگنی اور وانواتو میں کوئی خاتون رکن نہیں ہے۔
ادارے کی سیکریٹری جنرل نے متنبہ کیا کہ دنیا بھر میں اب واضح طور پر ‘خواتین کی پارلیمنٹ میں شمولیت میں اضافہ’ ہوا، پچھلے برس پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی میں صرف 0.6 فیصد اضافہ ہوا جب کہ اس سے قبل 0.9 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا تھا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘جب خواتین کی سیاسی شرکت کی بات کی جائے تو مخالفت ہوتی ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم اس مخالفت کو پیچھے دھکیل دیں’۔
