دنیا دہلی میں مسلمانوں پر مظالم کا فوری ایکشن لے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہیں، دنیا دہلی کی صورت حال کا فوری نوٹس لے۔
اپنے نے ایک بیان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا نے صدر ٹرمپ کی پریس کانفرنس کو اپنے مقاصد میں استعمال کرنے کی کوشش کی تاہم صدر ٹرمپ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ہے جبکہ پاکستان عرصے سے کہتا چلا آ رہا ہے کہ بھارت میں مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2 روز سے دہلی میں 10 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں جبکہ عمارتوں کو نذر آتش، پیٹرول پمپس اور کاروباری مراکز کو جلایا جا رہا ہے، دنیا کو دہلی کی صورت حال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ عمران خان میرے دوست ہیں، صدر ٹرمپ نے عمران خان کے ساتھ وعدے کے مطابق کشمیر پر بھارتی وزیراعظم سے بات کی، صدر ٹرمپ کی طرف سے بار بار ثالثی کی پیش کش بھارتی بیانیے کی نفی ہے۔
گزشتہ روز نئی دہلی میں پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم (عمران خان اور نریندر مودی) سے اچھے تعلقات ہیں اور دونوں ممالک میں ثالثی کے لیے جو بھی مدد فراہم کر سکا کروں گا۔مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بھی مدد یا ثالثی جو ہو سکا کروں گا، پاکستان کشمیر کے مسئلے پر کام کر رہا ہے، کشمیر بہت سے لوگوں کے لیے طویل عرصے سے حلق کا کانٹا بنا ہوا ہے، ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے بھارتی بیانیے کی نفی ہو گئی ہے کہ کشمیر اُن کا اندرونی مسئلہ ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ٹرمپ نے بن کہے پاکستان کے مؤقف کی تائید کر دی، امریکی صدر کا بیان پاک امریکا تعلقات میں بہتری کا عکاس ہے۔افغان امن سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکا طالبان امن معاہدے میں سہولت کاری کی ہے، معاہدے پر 29 فروری کو دستخط ہوں گے۔
بعد ازاں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا سال مکمل ہونے کی مناسبت سے وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 27 فروری بھارت کو پیغام تھا کہ وہ کسی جارحیت کا ہرگز نہ سوچے.
تقریب سے خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 26 فروری 2019 کو بھارت نے جارحانہ اقدام کیا، 27 فروری کو پاکستان نے بھارت کی حارحیت کا مؤثر جواب دیا اور ہمارا پیغام تھا کہ بھارت کسی بھی جارحیت کا نہ سوچے۔
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کیلئے تعاون کرتا رہا ہے، 29اپریل کو دوحا میں افغان امن معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کس نے باہمی مذاکرات کا عمل معطل کیا ؟ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تمام پڑوسیوں کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات غیرقانونی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوج تعینات کی گئی، لوگوں کو محصور کیا گیا، بھارت ناکام ہے اور ناکام ہوتا رہے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے بابری مسجد شہید کی اور پاکستان نے کرتارپور راہداری بنائی، بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیریوں کو محصور کر رکھا ہے، بھارت کشمیریوں کی حق خوداردیت کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارتی حکومت کی پالیسی کی وجہ سے 48 گھنٹوں سے نئی دہلی فسادات کی زد میں ہے، بھارت کے یکطرفہ اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں، دہشتگردی کو شکست دینے پر قوم کو پاک فوج پر فخر ہے۔
