دنیا کے مہلک ترین وائرسز کون کون سے ہیں؟

کسی بھی علاقے یا ملک میں کسی وائرس کے پھوٹنے سے متاثرین کی تعداد چار سو بالکل اسی طرح پھیلتی ہے جیسے کسی تالاب میں کنکر پھینکنے سے لہریں ہر جانب پھیلتی ہیں ، ماضی میں دنیا بہت سارے مہلک وائرسز سے نبرد آزما ہو چکی ہے
گزشتہ 53 سالوں میں سب سے مہلک وائرس ایچ ون این ون یعنی سوائن فلو تھا جس نے 2009 میں 2 لاکھ 84 ہزار 500 افراد کی جانیں لیں ، یہ وائرس 100 ممالک میں پھیلا جن میں چین ، فلپائن ، ویت نام ، شمالی اور جنوبی کوریا اور دیگر عرب ممالک شامل تھے۔
اسی طرح 1976 میں ایبولا وائرس کسی عفریت کی طرح پھیلا اور 13 ہزار 562 افراد کی ہلاکت کا سبب بنا ، یہ وائرس 9 ممالک میں پھیلا۔
2012 میں مرس نامی وائرس 858 افراد کی موت کی وجہ بنا، یہ وائرس 28 ممالک میں پھیلا۔سال 2002 کی بات جائے تو سارس نامی وائرس نے 774 جانیں لیں اور 29 ممالک میں پھیلا ، 2013 میں آنے والےایچ 7، این 7 برڈ فلو سے 616 افراد لقمہ اجل بنے ، اس دور میں سب شرح اموات کے حوالے سے نیپا وائرس سرفہرست رہا جس سے متاثرہ 513 افراد میں سے 398 جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ شرح 77 فیصد تھی۔
موجودہ دور میں درپیش کورونا وائرس کی بات کی جائے تو اس سے اب تک صرف 3 فیصد لوگ ہی دنیا سے رخصت ہوئے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا جس سے شرح اموات بھی بڑھ جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button