دنیا کے 10 خطرناک ترین پانی والے مقامات کونسے ہیں؟

عموماً چھٹیاں منانے یا پکنک پر جانے کےلئے پانی والے مقامات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ چاہے وہ سمندر ہو، جھیل ہو یا سوئمنگ پول، پکنک کا مزا پانی والے مقامات پر ہی آتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں دنیا میں کئی ایسے پانی والے مقامات بھی موجود ہیں جہاں جانا اپنی جان کو گنوانے کے مترادف قرار دیا جاتا ہے.
بیلائیز میں واقع گریٹ بلیو ہول دنیا کے خطرناک ترین پانی والے مقامات میں سے ایک ہے کیوں کہ اس کی سطح پر جو بھی چیز جاتی ہے یہ اسے ڈبو دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی ایسے بہت سے منچلے موجود ہوں جو یہاں جانا چاہتے ہیں کیوں کہ یہ ڈائیونگ کےلئے دنیا کی سب سے بہترین جگہ ہے۔
جیکبس ویل، ٹیکساس امریکہ میں موجود 30 فٹ گہری اور قدرتی طور پر کرسٹل کی طرح صاف اور چمکدار پانی پر مشتمل ایک جھیل ہے اور یہ بھی دنیا کے خطرناک ترین ڈائیونگ مقامات میں سے ایک ہے۔ جیکبس ویل کی نچلی سطح میں غاروں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے اور اگر کوئی اس میں پھنس جائے تو اس کےلئے نکلنا تقریباً ناممکن سا ہوجاتا ہے۔
امریکہ میں ہی موجود میچیگن جھیل بھی برمودا ٹرائینگل کی طرح بڑی ہی خطرناک جگہ ہے جہاں کئی ہوائی جہازوں کو ایسے حادثات پیش آئے ہیں جن کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ یہ جھیل سالانہ سینکڑوں لوگوں کی جان لیتی ہے۔
تنزانیہ میں موجود ناٹرون جھیل کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ نمکین ترین جھیلوں میں کیا جاتا ہے۔ نمکیات کی کثرت کی وجہ سے اس کا رنگ سرخ بھی ہوجاتا ہے۔ اس جھیل کے پانی کا درجہ حرارت مختلف مقامات پر 120 ڈگری تک بھی پہنچ جاتا ہے جس کی وجہ سے یہاں صرف 3 قسم کی مچھلیاں ہی پائی جاتی ہیں۔
ڈاھب میں موجود بلیو ہول نامی مقام بھی ڈائیونگ کےلئے دنیا کے خطرناک ترین جگہوں میں شمار کیا جاتا ہے کیوں کہ یہاں بے شمار ڈائیورز اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ تجربہ کار ڈائیورز کا کہنا ہے کہ یہاں صرف بہت زیادہ تجربہ رکھنے والے ڈائیورز ہی تیر سکتے ہیں ورنہ نتائج بہت خطرناک سامنے آتے ہیں۔
یو ایس میں موجود ہورس شو جھیل کی نچلی سطح سے وافر مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا ہے جو ہر جاندار چیز کےلئے بڑا خطرہ ہے۔ یہ جھیل ابھی تک 4 افراد کی موت کی وجہ بن چکی ہے۔
ڈومینیکا کے پہاڑوں کے درمیان واقع ابلتی ہوئی جھیل کے پانی کا درجہ حرارت 198 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ اس جھیل میں نہانے پر بالکل سختی سے پابندی ہے کیوں کہ اس جھیل کے پانی کو نارمل سے ابلتے ہوئے پانی میں تبدیل ہونے میں صرف کچھ سیکنڈز ہی لگتے ہیں۔
پرتگال اسپین میں ریو ٹنٹو نامی ایک دریا ہے جس میں بیکٹیریا اور جراثیم اتنی زیادہ تعداد میں ہیں کہ پانی کا رنگ بھی لال ہوگیا ہے اور اس میں ڈائیو کرنا جان لے جاتا ہے۔
پانی کے اندر برف کے بڑے بڑے تودے، 80 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہوا اور چیزوں کا کم دکھائی دینا ڈریک پیسج کو دنیا کے خطرناک ترین پانی والے مقامات میں داخل کردیتا ہے۔
ظاہری طور پر پرسکون نظر آنے والی کیوو جھیل انتہائی خطرناک اور جان لیوا ہے اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تہیں پائی جاتی ہیں جب کہ ایک کیوبک میٹر میں 55 بلین میتھین پائی جاتی ہے۔ اس جگہ میں معمولی سا زلزلہ بھی ایک بڑا دھماکہ کر سکتا ہے اور اس جھیل کے اطراف 2 ملین لوگوں کےلئے خطرہ بن سکتا ہے۔
