دنیا کے 81 ممالک مہلک کورونا وائرس سے متاثر،3 ہزار سے زائد ہلاک

دنیا کے 81 ممالک کے 90 ہزار سے زائد افراد مہلک کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف سعودی عرب نے کورونا وائرس کی وجہ سے خلیجی تعاون کونسل کے شہریوں کی سعودی عرب میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے.
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق خطے کے باہر سے آنے والے افراد کو سعودی عرب میں داخل ہونے سے قبل 14 روز کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔ رپورٹ میں وزارت داخلہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جی سی سی ریاستوں، متحدہ عرب امارات، کویت، اومان اور قطر، سے آنے والے مسافروں کو وہاں مسلسل 14 روز گزارنے ہوں گےاور ان میں کورونا وائرس کی کوئی علامت نہیں ہونی چاہیے جس کے بعد انہیں داخلے کی اجازت ہوگی۔
دوسری طرف کورونا وائرس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں تمام اسکول اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو اتوار سے 4 ہفتوں کے لیے بند کردیا گیا۔ یہ اقدام ملک میں 6 نئے کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد اٹھایا گیا۔ ان 6 متاثرہ مریضوں میں 2 روسی، ایک اطالوی، ایک جرمن اور ایک کولمبیئن شخص شامل ہے جو یو اے ای ٹور سائیکلنگ ایونٹ سے منسلک گزشتہ کیسز سے جڑے ہیں۔
ریاستی خبر رساں ادارے وام کی نے ٹوئٹ کی کہ ‘وزارت تعلیم نے اسکولوں کے لیے موسم بہار کی قبل از وقت چھٹیوں کا اعلان کیا ہے’۔ موسم بہار کی چھٹیاں 15 مارچ سے ہونی تھی تاہم اب یہ 8 مارچ سے ہوں گی اور 3 ہفتوں کے بجائے 4 ہفتوں تک جاری رہیں گی۔
کورونا وائرس چین کے علاوہ دیگر ممالک میں تیزی سے پھیلنے لگا جبکہ جنوبی کوریا نے وبا کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔
گزشتہ برس دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے سامنے آنے والا کورونا وائرس پاکستان سمیت دنیا کے 81 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور دنیا بھر کے ممالک اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔دنیا بھر میں کورونا وائرس کے 90 ہزار سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں جن میں سے زیادہ تعداد چین میں ہے لیکن ایران، اٹلی، جنوبی کوریا اور امریکا میں وائرس سے مزید ہلاکتیں سامنے آنے کے بعد مختلف ممالک نے نئے قرنطینہ زونز اور سفری پابندیاں لگانے پر غور شروع کر دیا ہے۔چین میں کورونا وائرس کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 38 افراد ہلاک اور 118 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔نئے کیسز سامنے آنے کے بعد چین میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 80 ہزار 270 ہو گئی ہے تاہم اس میں سے 49 ہزار 919 افراد صحتیاب ہو کر گھروں کو روانہ ہو چکے ہیں۔
جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے مزید 516 کیسز سامنے آنے کے بعد وہاں کے صدر مون جے ان نے کووڈ 19 کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے کورونا وائرس کے خدشے کے باعث متحدہ عرب امارات، مصر اور ترکی کا اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ اٹلی اور ایران میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد بالترتیب 79 اور 77 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکا میں بھی 9 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مراکش، انڈورا، آئس لینڈ، ارمینیا اور ارجنٹینا میں کورونا وائرس کے پہلے پہلے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ ممالک کی تعداد 81 تک پہنچ گئی ہے۔جنوبی کوریا کے صدر مون کے ان نے متحدہ عرب امارات، مصر اور ترکی کا دورہ کورونا وائرس کی وجہ سے منسوخ کردیا۔صدارتی بلو ہاؤس کے ترجمان کانگ من سیوک نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘ملک بھر میں حال ہی میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا ہے دورے پر نہیں جائیں گے’۔
چین میں نئے کورونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 38 ہلاکتیں ہوئیں تاہم نئے کیسز کی تعداد مسلسل تیسرے روز بھی کم رہی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چین میں قومی سطح پر ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 981 ہوگئی اور کل 80 ہزار 200 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔چین میں وائرس کے مرکز ہوبے میں کل 115 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ دیگر حصوں میں 4 کیسز سامنے آئے۔حالیہ ہفتوں میں چین میں قرنطینہ اقدامات کی وجہ سے اعداد و شمار میں کمی آئی ہے تاہم دیگر ممالک سے چین میں وائرس کے واپس آنے کی تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔
تاجکستان کی حکومت نے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے شہریوں سے مساجد جانے سے گریز کرنے کا کہا ہے تاہم وسطی ایشیائی ملک میں تاحال کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ریاستی کمیٹی برائے مذہبی امور کے ترجمان نے فیس بک پر لکھا کہ مساجد جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے تاہم متعدد اماموں کی درخواست پر یہ تجویز ٹیبل پر موجود ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سماجی ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘دنیا بھر کے ماہرین نے کووڈ-19 نوول کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بڑے اجتماعات سے گریز کرنے کا کہا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کے پیش نظر اس سال میں میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ہولی ملن کے پروگرام میں شرکت نہیں کروں گا’۔ریاستی نشریاتی ادارے دور درشن سمیت نجی ٹی وی چینلز این ڈی ٹی اور سی این این-نیوز18 نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نئی دہلی میں 21 اطالوی سیاحوں کے ٹیس کیا گئے تھے جن میں سے 15 میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 190 ہوگئی اور متاثرین کی تعداد 93 ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ 50 ہزار افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔چین میں سب سے زیادہ متاثرین موجود ہیں جہاں سے وائرس پھیلا تھا جس کے بعد جنوبی کوریا کا نمبر آتا ہے جہاں تعداد 5 ہزار 328 متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button