دوبارہ بھرتی ہونے والا بزدار کا پھوپھا راشی افسر نکلا


وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے جس پھوپھا تیمور بزدار کو پولیس سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھاری معاوضے پر میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سپشل برانچ کا ڈائریکٹر لگایا ہے اس پر بزدار کا سگا بھائی ایوب بزدار باقاعدہ ایک پریس کانفرنس کر کے کرپشن اور زمینوں پر قبضے کے الزام لگا چکا ہے. ایسے میں یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر کس مجبوری کے تحت کپتان کے وسیم اکرم پلس عثمان بزدار نے اپنے بھائی کے الزامات اور تیمور بزدار کے خلاف کرپشن کی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے قواعد نرم کر کے اہم عہدہ دیا ہے؟
یاد رہے کہ گزشتہ برس 18 مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے سگے بھائی سردار ایوب بزدار نے ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے پھوپھا امیر تیمور بزدار، جو اس وقت ڈی پی او ساہیوال تعینات ہیں، اپنی کرپشن کی وجہ سے ہمارے خاندان کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ایوب بزدار نے الزام لگایا تھا تیمور بزدار نے اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے کرپشن کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے اور پولیس کے ذریعے خانیوال میں ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے، بزدار کے چھوٹے بھائی ایوب کا کہنا تھا کی اس شخص کی وجہ سے ہمیں آئے روز عدالت میں پیشیاں بھگتنا پڑ رہی ہیں۔ ایوب بزدار کا کہنا تھا کہ اب جب میرا بھائی سردار عثمان وزیراعلیٰ پنجاب ہے تو تیمور بزدار نے پینترا بدل لیا ہے اور یہ تاثر دے رہا ہے کہ آئی جی پنجاب سمیت دیگر افسران کی پوسٹنگ اور تبادلے اس کے مشورے سے ہوتے ہیں۔ ایوب نے پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنے بھائی وزیراعلی عثمان بزدار کو کئی مرتبہ تیمور بزدار کی کرپشن، عہدے کے ناجائز استعمال اور منفی سرگرمیوں سے آگاہ کیا ہے لیکن انہوں نے صبر کا مشورہ دیا اور کہا کہ شاید ہمارا پھوپھا کبھی سدھر جائے۔
ایوب بزدار نے اہنے پھوپھا تیمور بزدار پر کرپشن کے ذریعے مال بنانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ امیر تیمور نے ڈیرہ غازی خان، بہاولپور اور دیگر شہروں میں زمینوں پر قبضے کر رکھے ہیں، ڈیرہ غازی خان میں تیمور بزدار کا ایک ارب روپے مالیت کا پلازہ بھی ہے، ان سے پوچھا جائے کہ اتنی قلیل تنخواہ میں انہوں نے پلازہ اور دیگر جائیدادیں کیسے بنائیں۔ ایوب بزدار نے موقف اختیار کیا کہ امیر تیمور بزدار ہمارے خاندان اور قبیلے پر بدنامی کا بدنما داغ بنا ہوا ہے، انکا کہنا تھا کہ امیر تیمور نے پولیس کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اس کے ذریعے لوٹ مار کرتا ہے۔
اپنی پریس کانفرنس میں ایوب بزدار نے اعلی حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ امیر تیمور کے بارے میں کرپشن کی تحقیقات ہونی چاہئیں، مگر تحقیقات تو دور کی بات، عثمان بزدار نے اپنے پھوپھا کو ریٹائرمنٹ کے بعد تین لاکھ روپے تنخواہ پر سپیشل برانچ جنوبی پنجاب میں ڈائریکٹر لگوا دیا ہے۔ یاد ریے کہ ایوب بزدار نے اپنے الزامات کو دہراتے ہوئے اس وقت کے آئی جی پولیس پنجاب ڈاکٹر شعیب دستگیر کے نام درخواست بھی لکھی مگر کچھ ہی عرصے بعد شعیب دستگیر کی چھٹی کروادی گئی اور یوں تیمور بزدار کے خلاف درخواست بھی داخل دفتر ہو گئی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے بھائی ایوب بزدار کی پریس کانفرنس پر امیر تیمور نے ردعمل دیتے ہوئے الٹا ایوب کو کرپٹ قرار دیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے پھوپھا تیمور بزدار نے تب یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایوب بزدار کے حوالے سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ نے ڈائریکٹو جاری کیا ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے ایوب بزدار کسی بھی سرکاری دفتر میں غیرقانونی کام کرانے آئے تو نہ کیا جائے بلکہ پہلے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو آگاہ کیا جائے۔ امیر تیمور نے کہا تھا کہ عثمان بزدار کا چھوٹا بھائی اور ان کا بھتیجا ایوب بزدار بدنام آدمی ہے، اور اپنے فرنٹ مین کے خلاف فراڈ کا مقدمہ خارج کروانے کے لئے یہ الزام تراشیاں کر رہا ہے۔ تیمور بزدار نے دعویٰ کیا تھا کہ مونس علی بزدار نامی شخص کے خلاف رحیم یار خان میں فراڈ کا مقدمہ درج ہے، اور ایوب بزدار یہ کیس ختم کروانے کے لیے مجھے دباؤ میں لانے کی کوشش کررہا تھا لیکن اس غیرقانونی کام میں مدد نہ کرنے پر ایوب نے پریس کانفرنس کرکے میرے خلاف الزامات لگائے۔
دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پچھلے برس قومی احتساب بیورو نے عثمان بزدار کے خلاف رشوت لے کر ایک مقامی ہوٹل کو شراب کا لائسنس جاری کرنے کے جو احکامات دیے تھے ان کے پیچھے بھی امیر تیمور کا ہاتھ تھا کیونکہ جس فور سٹار ہوٹل کو لائسنس دلوایا جا رہا تھا اس کا مالک امیر تیمور کا ذاتی دوست ہے اور اسی کے ذریعے رشوت کی رقم آگے پہنچائی گی۔ تاہم وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بزدار کے خلاف یہ ریفرنس بنانے پر سخت ردعمل آنے کے بعد قومی احتساب بیورو نے اس کیس کو سرد خانے کی نذر کر رکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button