دوران انٹرویو گالیاں دینے پر صحافی نے خلیل الرحمٰن قمر پر مقدمہ کردیا

میرے پاس تم ہو جیسے ڈرامے لکھنے والے مصنف خلیل الرحمٰن قمر پر رواں برس مارچ میں اس وقت ملک بھر میں شدید تنقید کی گئی تھی جب انہوں نے 3 مارچ 2020 کی شب نجی ٹی وی کے پروگرام ’آج عائشہ احتشام کے ساتھ‘ میں عورت مارچ پر بحث کے دوران ماروی سرمد کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا تھا۔
مذکورہ انٹرویو کے چند دن بعد سوشل میڈیا پر خلیل الرحمٰن کی جانب سے ایک صحافی کو دیے گئے انٹرویو کی کچھ کلپز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جن میں ڈراما نگار کو صحافی پر چلاتے ہوئے دیکھا اور سنا جا سکتا تھا۔ مختصر دورانیے کی ویڈیوز میں خلیل الرحمٰن قمر کی گفتگو کا انداز انتہائی جارحانہ تھا اور وہ صحافی پر سوال کرنے پر چلاتے دکھائی دیے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ جب صحافی نے ڈرامہ نگار سے پوچھا کہ وہ بہت مقبول ہیں اور بہت سارے لوگ ان کے ڈائیلاگز کو پسند کرتے ہیں، وہ لوگ جب خلیل الرحمٰن قمر کا یہ رویہ دیکھتے ہوں گے تو انہیں برا نہیں لگتا ہوگا؟۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے صحافی کی اسی سوال پر ڈرامہ نگار آپے سے باہر نکل گئے اور انہوں نے انہیں گالیاں دینا شروع کردیں اور ساتھ ہی کیمرے کو بند کرنے کا بھی کہا۔ صحافی کے ساتھ نامناسب رویے پر بھی خلیل الرحمٰن قمر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور بعد ازاں مذکورہ صحافی نے ڈرامہ نگار کے خلاف گالیاں دینے کے معاملے پر عدالت سے رجوع کرلیا تھا۔
صحافی فرخ شہباز وڑائچ نے لاہور کی سول عدالت میں خلیل الرحمٰن قمر کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا اور ان کی درخواست پر عدالت میں سماعت ہوئی اور عدالت نے ڈرامہ نگار کو جواب داخل کرانے کے لیے نوٹس جاری کردیا۔
صحافی فرخ شہباز وڑائچ کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں کہا گیا ہےکہ ماروی سرمد کے ساتھ خلیل الرحمٰن کے فحش زبان والے واقعے کے بعد ڈرامہ نگار کا انٹرویو کیا تو انٹرویو کے دوران خلیل الرحمٰن آپے سے باہر ہوگئے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مناسب سوال کرنے پر ڈرامہ نگار آپے سے باہر ہوگئے اور انہوں نے سوال کا جواب دینے کے بجائے کیمرے کے سامنے صحافی کو گالیاں دینا شروع کیں اور دھمکی دیتے ہوئے کیمرے کو بند کرنے کا کہا۔ صحافی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ خلیل الرحمٰن قمر نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم بھی چلائی اور اس مہم کے بعد انہیں قتل کی دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں۔ شہباز وڑائچ نے دائر کیے گئے مقدمے میں دعویٰ کیا ہے کہ خلیل الرحمٰن قمر کی جانب سے ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے انہیں دھمکیاں دینے کی وجہ سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچا ۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت خلیل الرحمٰن قمر کو 5 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔
سول کورٹ میں ہونے والی مختصر سماعت کے دوران صحافی کی جانب سے ناصر چوہان ایڈوکیٹ پیش ہوئے اور عدالت نے مختصر سماعت کے بعد ڈرامہ نگار کو 17 مئی تک جواب داخل کرانے کےلیے نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت کو 17 مئی تک ملتوی کردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button