دو دن بعد آزادی مارچ نیا رخ اختیار کرے گا

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کیلئے احتجاج کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنونئیر اکرم درانی کا کہنا ہے کہ حکومت پر مزید دباو بڑھانے کا فیصلہ ہو گیاہے، آزادی مارچ 2 روز بعد ایک نیا رخ اختیار کرے گا’۔ سارے پتے نہیں دکھائیں گے۔ کچھ پتے اپنے پاس بھی رکھیں گے، حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کئی تجاویز زیر غور ہیں ‘آئندہ چند روز میں اقدامات کیے جائیں گے جن کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا’۔
ذرائع کے مطابق جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما اکرم خان درانی کی زیر صدارت اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں رہبر کمیٹی نے پلان بی کی منظوری دے دی ہے۔ جس کے تحت صوبائی دارالحکومتوں میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی میں صدر عارف علوی کیخلاف مواخذے کی تحریک لانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم درانی کا کہنا تھا کہ ‘مولانا فضل الرحمان نے چوہدری پرویز الہی سے کہا ہے کہ جو فیصلہ ہو گا رہبر کمیٹی کے ممبران کے زریعے ہی ہو گا’۔ اکرام درانی کا مزید کہنا تھا دھرنا جاری ہے اور دھرنا دینے والے کارکنوں کے لیے ٹینٹ اور کھانے پینے کا بندوست کر رہے ہیں۔ اکرم درانی کا کہنا تھا کہ نوشہرہ سے مزید قافلے دھرنے میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں اور ان کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ۔ حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اکرام درانی کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی کی جانب سے رہبر کمیٹی کے مطالبات کے حوالے سے تاحال کوئی تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔اکرم درانی نے مزید کہا کہ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں تمام اپوزیشن جماعتوں نے دھرنے میں شریک جے یو آئی (ف) کے کارکنان کے جذبے کو سراہا ہے۔ ان کے بقول ’ہم ایک ہی استعفیٰ چاہتے ہیں اور اسی سے تمام مسائل حل ہوں گے۔‘
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر، مسلم لیگ (ن) کے ایاز صادق، امیر مقام، جمعیت علما پاکستان کے اویس نورانی، جمعیت اہل حدیث کے شفیق پسروری، قومی وطن پارٹی کے ہاشم بابر، نیشنل پارٹی کے سینیٹر طاہر بزنجو اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے شرکت کی۔
قبل ازیں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ‘جلد قوم کو خوشخبری دیں گے، پرامید ہیں، چیزیں بہتری کی طرف جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘معاملے کے حل کے لئے جوڈیشل کمیشن سمیت بہت ساری تجاویز ہیں، جس پر مولانا راضی ہوں گے اسی پر بات کریں گے’۔مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات سے قبل صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘سب دعا کریں کوئی فیصلہ حتمی ہوجائے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری طرف سے پوری کوشش جاری ہے کوئی کمی نہیں چھوڑنی، انشاءاللہ اچھا نتیجہ نکلے گا’۔انہوں نے کہا کہ ‘جب تک معاملہ حل نہیں ہوتا کوشش جاری رہے گی’۔
خیال رہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کا ’آزادی مارچ‘ 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوا تھا اور مارچ کے شرکا اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 کے گراؤنڈ اور کشمیر ہائی وے پر دھرنا دئیے ہوئے ہیں۔
