دو دہائیوں کی جنگ کے بعدافغانستان سے امریکی انخلا مکمل

دو دہائیوں کی جنگ کے بعد آخر کار افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا مکمل کرلیا گیا ہے ، صدر جو بائیڈن کی مقرر کردہ 31 اگست کی تاریخ سے کچھ گھنٹے قبل ہی امریکہ کی طویل ترین جنگ اپنے اختتام کو پہنچی ہے ۔
جنگ اور انخلا کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مک کینزی نے کہا آخری امریکی طیارے کابل ہوائی اڈے سے امریکی وقت پیر کی دوپہر تین بج کر 29 منٹ (کابل میں رات 12 بجے سے ایک منٹ پہلے) پر اڑے۔انہوں نے کہا کہ کچھ امریکی شہری افغانستان میں رہ گئے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ وہ ملک چھوڑ سکیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے پیچھے رہ جانے والے امریکیوں کی تعداد 200 سے کم بتائی ’ممکنہ طور پر سو کے قریب‘ اور کہا کہ ان کا محکمہ انہیں نکالنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔روئٹرز کے مطابق انہوں نے فوج کی سربراہی میں ہونے والے انخلا کے مشن کو تاریخی اور بہادر قرار دیا اور کہا کہ امریکہ پیچھے رہ جانے والے شہریوں اور ملک سے نکلنے کے خواہش مند افغان شہریوں کی مدد کے لیے کام کرتا رہے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ افغانستان کے ساتھ سفارت کاری اب قطری دارالحکومت دوحہ سے کرے گا، اس میں قونصل خانے کا کام اور انسانی بنیادوں پر امداد شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے افغانستان سے تعلقات کا نیا باب اب شروع ہوا ہے۔ یہ ایسا ہے جس میں ہم سفارت کاری پر زور دیں گے۔افغانستان سے امریکہ کے آخری طیارے کے جاتے ہی منگل کی صبح کابل میں ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کے مناظر دیکھنے کو ملے جب طالبان جنگجو اپنی فتح کا جشن مناتے رہے۔
روئٹرز کے مطابق پنٹاگون نے اعلان کیا کہ آخری امریکی پرواز پیر کی رات کے آخری منٹ روانہ ہوئی اور اب تمام امریکی فوجی ملک سے باہر ہیں۔طالبان ترجمان نے بھی اعلان کرتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا کہ آج رات 12 بجے باقی امریکی فوجی بھی کابل ایئرپورٹ چھوڑ گئے اور ہمارے ملک کو مکمل آزادی مل گئی۔‘اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے پیر کو ایک ہنگامی اجلاس میں قراردار منظور کی جس میں طالبان پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے وعدے پر قائم رہیں کہ ملک چھوڑنے والوں کو جانے کی مکمل آزادی ہوگی۔
تاہم اس قرارداد میں انخلا کے لیے کابل میں محفوظ زون قائم کرنے کا کوئی ذکر نہیں تھا جس کے بارے میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں گذشتہ روز کہہ چکے تھے۔برطانیہ ، امریکہ اور فرانس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو 13 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔اس میں کہا گیا کہ سکیورٹی کونسل یہ توقع کرتی ہے کہ طالبان ’افغانستان سے جانے والے تمام افغانوں اور غیر ملکیوں کو محفوظ اور منظم طریقے سے انخلا کرنے دیں گے۔قرارداد میں امید ظاہر کی گئی کہ طالبان اپنے تمام وعدوں پر پورا اتریں گے جن میں 27 اگست کا ان کا بیان بھی شامل ہے کہ افغانوں کو کسی بھی راستے بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔
اس کے علاوہ طالبان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہ کریں اور افغانستان میں تمام فریقین بشمول خواتین کے ایک منظم اور انکلسیو حکومت قائم کریں۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ طالبان ، افغانستان کی سرزمین کو کسی ملک کو دھمکانے یا حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور نہ ہی دہشت گردوں کو پناہ دینے یا ٹریننگ یا مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے۔‘
بشکریہ :انڈیپنڈنٹ اردو
