دو نمبر عمران اسماعیل کے بعد تھرڈ کلاس ٹیسوری بھی گورنر

کچھ برس پہلے ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ ایم کیو ایم پاکستان سے نکال دیے جانے والے کامران خان ٹیسوری کا پارٹی میں دوبارہ شمولیت کے چند ہی روز بعد گورنر سندھ لگا دیا جانا ایک حیران کن واقعہ قرار دیا جا رہا ہے جو خود متحدہ مہاجر قیادت کے لیے بھی ناقابل یقین ہے۔ مخالفین کی جانب سے ایک ایجنسی کا ٹاوٹ قرار پانے والے کامران تیسوری کراچی میں سونے کے کامیاب تاجر کی حیثیت سے معروف ہیں اور کنٹرکشن کے کاروبار سے بھی وابستہ ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دو نمبر عمران اسماعیل کے بعد اب تھرڈ کلاس کامران ٹیسوری کا گورنرسندھ مقرر کیا جانا صوبے کے ساتھ ایک مذاق ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ وفاقی حکومت بھی برابر کی ملوث ہے۔ ٹیسوری مشرف دور میں سیاست میں گھسایا گیا تھا۔ موصوف نے تب کے وزیرِ اعلیٰ ارباب غلام رحیم سے قربت حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ فنکشنل میں شمولیت اختیار کر لی، لیکن کچھ عرصہ بعد مشکوک حرکتوں کی وجہ سے اسے پارٹی سے نکال دیا گیا۔

2017 میں الطاف حسین پر پابندی عائد ہونے کے بعد جب مہاجر پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوئی تو ڈاکٹر فاروق ستار متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ بنا دیے گے۔ انہوں نے ٹیسوری کو شدید اختلافات کے باوجود پارٹی میں اہمیت دیتے ہوئے صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دے دیا لیکن انتخابی شکست موصوف کا مقدر بنی، بعد میں فاروق ستار نے کامران ٹیسوری کو ڈپٹی کنوینر بنا دیا اور سینیٹ کا ٹکٹ دینے کی سفارش بھی کی۔ حالانکہ انہیں ایسا کرنے کے لیے خفیہ ایجنسی کہتی تھی، لیکن
اس معاملے پر سینئر قیادت کی جانب سے شدید مخالفت کے بعد فاروق ستار کے خلاف بغاوت ہو گئی اور انہیں پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنا پڑ گئی۔ ایسے میں اگست 2022 میں فاروق ستار کی ایم کیو ایم پاکستان میں واپسی کی کوشش شروع ہوئی جو ناکام ہوگئی لیکن لیکن کامران ٹیسوری کو پارٹی میں واپسی لے لیا گیا۔ ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ بھائی لوگوں پر ٹیسوری کو واپس لینے کے لیے شدید دباؤ تھا چنانچہ انہیں ڈپٹی کنوینر کے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔

ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین کی متفقہ تائید سے پارٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے اس فیصلے کی توثیق کی، اس طرح کامران ٹیسوری کی کامرانیوں کا سفر جاری ہے اور اب وہ ایجنسی کی سفارش اور صدر علوی کی منظوری سے گورنر سندھ تعینات ہو گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کامران ٹیسوری کو واپس ایم کیو ایم کا حصہ بنوانے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ انہیں مہاجر پارٹی کے کھاتے میں گورنر سندھ لگوایا جائے کیونکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے پاور شیئرنگ فارمولے میں گورنر کا عہدہ ایم کیو ایم کو دیا جانا تھا۔ گورنر سندھ کا عہدہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے دو نمبر گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کی استعفے کے بعد سے خالی تھا۔ حکومتی اتحاد میں شامل ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کی تجویز پر کامران خان ٹیسوری کو گورنر سندھ کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔

ترجمان ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ پہلے انکے پارٹی نے پانچ نام اس عہدے کیلئے تجویز کیے تھے جن پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی کیونکہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس نہیں ملی سکی۔ ان ناموں میں وسیم اختر، عامر خان اور نسرین جلیل بھی شامل تھے۔ دوسرے مرحلے میں پارٹی نے دو نام وفاق کو ارسال کیے جن میں سابق رکن قومی اسمبلی عبدالوسیم اور کامران ٹیسوری شامل تھے۔صدرِ نے دوسرے مرحلے میں بھیجے گئے کامران ٹیسوری کے نام کو منظور کرکے انہیں گورنر سندھ تعینات کر دیا۔ایم کیو ایم ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی رابطہ کمیٹی دعاگو ہے کہ کامران ٹیسوری بحیثیت گورنر سندھ وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی قائم رکھنے کا کردار بخوبی ادا کر سکیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن 2028 کے بعد ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والے پاور شئیرنگ معاہدے کے بعد کامران ٹیسوری کا سیاسی باب نہ صرف بند ہوگیا تھو بلکہ ان کی فاروق ستار سے دوستی بھی ختم ہو گئی تھی۔ لیکن چند روز پہلے کامران ٹیسوری کی اچانک واپسی نے اس بند باب کو دوبارہ کھول دیا کیوں کہ ایم کیو ایم تحریک انصاف اور پی ڈی ایم اور صوبائی سطح پر پیپلز پارٹی سے معاہدے کرنے کے باوجود نہ تو لاپتہ کارکنان کو رہا کروا سکی اور نہ ہی اپنے دفاتر کو فعال کر سکی۔ بلدیاتی نظام پر ہونے والے مذاکرات بھی ہوا میں لٹکے ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت کو یقین دھانی کروائی گئی تھی کہ کامران ٹیسوری کی باعزت واپسی سے چٹکی بجاتے ہی لاپتہ کارکنان کی بازیابی اور دفاتر کو کھولنے کی اجازت مل جائے گی چنانچہ خالد مقبول صدیقی نے ان کا نام بطور گورنر سندھ تجویز کر دیا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کامران ٹیسوری کو ایم کیو ایم پاکستان میں ایک آؤٹ سائڈ پر تصور کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ گورنر سندھ کا عہدہ ہمیشہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے آدمی کو ملتا ہے، چاہے وہ وہ عشرت العباد ہو یا عمران اسماعیل۔

Back to top button