دپیکا پڈوکون امریکہ میں اور کام کیوں نہیں کرنا چاہتیں؟


بھارتی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ دپیکا پڈوکون نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں امریکہ میں نسل پرستی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ جب بھی امریکہ جاتی ہیں، ہمیشہ پریشان ہو جاتی ہیں۔ دپیکا کا کہنا ہے کہ مجھے بار بار نسل پرستی کا وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے جو کسی لڑکی کے ساتھ پیش نہیں آنا چاہئے۔ بالی ووڈ کی کامیاب ترین اداکارہ دپیکا پڈوکون کا ہالی ووڈ میں کام کرنے کے حوالے سے کہنا ہے کہ انکا امریکہ میں نسل پرستی کا شکار بننے کے بعد وہاں مزید کام کرنے کو دل نہیں کرتا۔ دپیکا پڈوکون نے کہا کہ مجھ سے میرے مداح پوچھتے ہیں کہ میں نے بین الاقوامی فلموں میں زیادہ کام کیوں نہیں کیا؟ اسکا جواب یہ ہے کہ میں جب بھی امریکا جاتی ہوں کچھ ایسی چیز ہو جاتی ہے جو مجھے پریشان کر دیتی ہے۔

بھارتی اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں سائنسدان ہیں، دنیا کے بہترین ڈاکٹرز ہیں کوئی چاہے ٹیکسی ڈرائیور ہے یا کسی کا سٹور ہے، ہم وہی ہیں جو ہم ہیں، ہالی ووڈ میں مزید کام نہ کرنے کے حوالے سے اداکارہ نے مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں انہیں بتانا چاہتی ہوں کہ یہ میں نے طے نہیں کیا بلکہ حالات کے جبر نے طے کیا ہے۔ بالی ووڈ اداکارہ نے کہا کہ امریکہ میں ہمیں باتوں اور رویوں سے جتلایا جاتا ہے کہ ہم ان سے کتنے مختلف ہیں۔
دپیکا نے امریکا میں ایک ہالی ووڈ اداکار سے ملاقات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’اس نے میری تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت اچھی انگریزی بول لیتی ہوں۔ پہلے تو میں اس بات کو سمجھ نہیں پائی کہ اس بات کا کیا مطلب ہے، پھر مجھے احساس ہوا کہ اس نے مجھ پر طنز کیا ہے، دپیکا نے کہا کہ کیا ان لوگوں کے یہ لگتا ہے کہ ہم ہندوستانی انگریزی نہیں بول سکتے۔

یاد رہے کہ دپیکا پڈوکون ہالی ووڈ کی کئی فلموں میں مرکزی کردار ادا کر چکی ہیں وہ ایک ایسی بھارتی اداکارہ ہیں جن کی ہالی ووڈ میں برانڈ ویلیو ہے، وہ لیوائس، اڈیڈاس، نائیکی سمیت کئی بڑے برانڈز کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

Back to top button