دہری شہریت، وزیر اعظم کی معاون خصوصی تانیہ ایدروس مستعفی

دہری شہریت پر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدورس نے اپنی شہریت سے متعلق تنقید کے باعث استعفی دے دیا۔تانیہ ایدورس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ میری شہریت کے معاملے پر ریاست پر اٹھنے والی تنقید ڈیجیٹل پاکستان کے مقصد کومتاثر کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی کی حیثیت سے میں نے اپنا استعفیٰ جمع کرادیا ہے، میں اپنی بہترین صلاحیت کے ساتھ اپنے ملک اور وزیر اعظم کے وژن کی خدمت جاری رکھوں گی۔
Criticism levied towards the state as a consequence of my citizenship status is clouding the purpose of Digital Pakistan. In the greater public interest, I have submitted my resignation from the SAPM role. I will continue to serve my country and the PM’s vision to my best ability pic.twitter.com/BWBvBvO6uz
— Tania Aidrus (@taidrus) July 29, 2020
یاد رہے کہ کابینہ ڈویژن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے 4 معاونین خصوصی کی دہری شہریت سامنے آنے کے بعد اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دہری شہریت کے حامل افراد کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور اب وزیر اعظم کی دہری شہریت کی حامل پہلی معاون خصوصی تانیہ ایدروس نے استعفیٰ دے دیا ہے.
وزیر اعظم کی سابق معاون خصوصی تانیہ ایدروس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ میری دہری شہریت پرسوال اٹھائے جا رہے تھے اس لئے میں نے عوامی مفاد میں استعفیٰ دیا ہے کیونکہ مجھ پر ہونے والی تنقید سے پاکستان کا ڈیجیٹل ویژن متاثر ہو رہا تھا. انھوں نے مزید کہا کہ میں پاکستان کی خدمت کے جزبے سے ملک واپس آئی تھی لیکن میری کینیڈین شہریت بارے بہت باتیں کی گئیں. انھوں نے کہا کہ میری پیدائش کینیڈا میں ہوئی وہاں پیدا ہونا میری خواہش نہیں تھی. میں نے استعفیٰ دے دیا ہے تاہم پاکستان کو جب بھی مستقبل میں میری ضرورت ہو گی میں حاضر ہوں گی.
دوسری طرف ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تانیہ ایدروس نے عہدے سے استعفیٰ دیا نہیں لیا گیا ہے۔تانیہ ایدروس کے خلاف ایس ای سی پی میں کمپنی رجسٹریشن کے اعتراضات سامنے آئے تھے۔ ذرائع کے مطابق تانیہ ایدروس کے استعفے کی اصل وجہ مفادات کا ٹکراؤ تھا۔ تانیہ ایدروس نے ڈیجیٹل پاکستان فاؤنڈیشن کے نام سے کمپنی بنا رکھی تھی. ان کی کمپنی ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ تھی جس کے ڈائریکٹرز میں جہانگیر ترین بھی شامل تھے۔ تانیہ ایدروس کی کمپنی 27 فروری 2020ء کو رجسٹرڈ کرائی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تانیہ ایدروس کی کمپنی سامنے آنے کے بعد وزیراعظم نے وضاحت مانگی تھی لیکن وہ تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہیں.تانیہ ایدروس پر ڈیجیٹل پا کستان فاونڈیشن کے فنڈز کے استعمال سے متعلق بھی شکایات تھیں۔ وزیراعظم نے معاملات کی انکوائری کے لیے کمیٹی تشکیل دی۔ تانیہ ایدروس ان اعتراضات اور شکایات پر کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکی. ڈیجیٹل پا کستان فاونڈیشن میں یو ایس ایف فنڈز کے استعمال پر بھی مبینہ طور پر بےضابطگیاں سامنے آئیں تھی۔ تانیہ ایدروس کو جہانگیر ترین کی سفارش پر وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا.
یاد رہے کہ تانیہ ایدروس 20 سال پہلے پاکستان سے بیرون ملک چلی گئی تھیں اور انہوں نے پہلے امریکا کی برانڈیز یونیورسٹی سے بائیولوجی اور اکنامکس میں بی ایس کی ڈگری لی اور پھر میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی سے ایم بی اے کیا۔بعد ازاں انہوں نے ایک اسٹارٹ اپ کلک ڈائیگنوسٹک کی بنیاد رکھی اور اس کی ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا تھا۔بعد ازاں گوگل کی جنوبی ایشیا کی کنٹری منیجر کے طور پر 2008 سے 2016 تک کام کیا اور پھر انہیں گوگل کے پراڈکٹ، پیمنٹ فار نیکسٹ بلین یوزر پروگرام کی ڈائریکٹر بنادیا گیا اور دسمبر 2019 میں انہیں ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ حال ہی میں کابینہ ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن سے معلوم ہوا ہے کہ 19 غیر منتخب کابینہ اراکین میں سے وزیراعظم کے 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت کی حامل ہیں اس وقت جن معاونین خصوصی کی دوہری شہریت سامنے آئی ہے، ان میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر اور معاون خصوصی برائے توانائی ڈویژن شہزاد قاسم امریکہ، معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری برطانیہ جبکہ معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایس ایدروس کینیڈا کی شہریت کی حامل ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گِل اور معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف امریکہ، معاون خصوصی برائے پارلیمانی کوآرڈینیشن ندیم افضل گوندل کینیڈا اور تانیہ ایدروس سنگاپور کی رہائش رکھتے ہیں۔
