دہشت گردملک توڑناچاہتے ہیں بات چیت نہیں ہوسکتی،راناثنااللہ

وزیراعظم کے مشیرراناثنااللہ کاکہناہے کہ دہشتگردوں کی کوئی ناراضی نہیں بلکہ یہ پاکستان کے دشمن ہیں جو ملک کو توڑنا چاہتے ہیں، اس لیے ان سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ مجرمانہ سرگرمیاں چند گروہ مل کر کہیں بھی کر سکتے ہیں۔ بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن ہیں، ان کی کوئی ناراضی نہیں، یہ کہنا غلط ہے کہ دہشتگردوں سے بات کریں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ لوگ اس نظام پر یقین رکھتے ہیں یا کبھی اس کا حصہ بنے ہیں؟
رانا ثنااللہ نے کہاکہ سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکاروں اور 33 سویلینز کو شہید کیا گیا جبکہ کارروائیوں کے دوران 170 دہشتگرد ہلاک اور کچھ گرفتار بھی ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ابہام پیدا کرنے سے دہشتگردوں کو تقویت ملتی ہے، اس لیے کسی اگر مگر کے بغیر دہشتگردوں کو دہشتگرد کہا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ معرکہ حق میں دشمن کو ذلت آمیز شکست ملی اور اب ان دہشتگردوں کو بھی اسی انجام سے دوچار کیا جائے گا۔جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد دہشتگردوں کی لاشیں کس نے قبضے میں لیں۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں دہشتگرد بسیں روک کر بے گناہ لوگوں کو شہید کرتے ہیں، بچوں اور خواتین کے سامنے لوگوں کو گولیوں سے چھلنی کرنا بدترین درندگی ہے۔ جعفر ایکسپریس پر حملہ انسانیت کے خلاف سنگین ترین جرم ہے اور معصوم شہریوں کا قتل کسی جدوجہد یا ناراضی کا جواز نہیں بن سکتا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کو بدترین شکست دی، یہ دہشتگرد دشمن کے آلۂ کار ہیں اور دشمن کی ایما پر سب کچھ کر رہے ہیں۔ معرکۂ حق میں پاک فوج نے بھرپور ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بہکے ہوئے عناصر کے ذریعے پراکسی جنگ لڑی جا رہی ہے، دہشتگرد دشمن ملک کی ایما پر آپریشن سندور ٹو کے تحت مجرمانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔
