دہشت گرد حملوں سے پاک چین سی پیک منصوبے ٹھپ ہونے کا خدشہ

خیبر پختونخوا کے شہر بشام میں 24 مارچ 2024 کو ہونے والے دہشت گرد حملے میں پانچ چینی انجینیئرز کی ہلاکت کے بعد چین نے پاکستانی حکام کو وارننگ دی ہے کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو پاکستان میں مختلف سی پیک پراجیکٹس پر کام کرنے والے باشندے واپس بلا لیے جائیں گے جس سے یہ منصوبے ٹھپ ہو سکتے ہیں۔ چین نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان حملوں میں ملوث دہشت گرد گروپس کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کی جائے کیونکہ ان میں صرف پاکستانی جہادی ہی نہیں بلکہ چین مخالف شدت ہسند عناصر بھی شامل ہیں۔واضح رہے 24 مارچ کو بشام میں ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی اسلام آباد سے داسو جانے والی چینی انجینیئرز کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی تھی جس کے نتیجے میں پانچ چینی باشندوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ پاکستان میں چینی انجینیئرز یا اہلکاروں پر ہونے والا پہلا حملہ نہیں تھا۔ اس سے قبل بھی پاکستان کے مختلف حصوں میں چینی باشندے شدت پسندوں اور عسکریت پسندوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔چین نے پاکستان میں سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جن پر کام کرنے کی غرض سے چینی انجینئرز اور کارکنان کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اب تک پاکستان میں 15 چینی انجینیئرز مختلف حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ 2021 میں داسُو کے مقام پر ہونے والے حملے کے بعد چینی حکام بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے تھے اور اس دوران انھوں نے پاکستان سے سکیورٹی معاملات پر واضح بریفنگ طلب کی تھی۔ اس کے بعد گوادر میں 2022 اور 2023 میں سکیورٹی صورتحال کے بارے میں بھی چین نے تحفظات کا اظہار کیا تھا، جسکے نتیجے میں سویلین اور فوجی حکام نے مشترکہ میٹنگز کی تھیں۔ اس دوران یہ بات یہ بھی سامنے آئی تھی کہ چینی انجینیئرز کی حفاظت افغانستان کے حالات سے جڑی ہے۔
بی بی سی نے پاکستان میں اِس نوعیت کے بڑھتے حملوں کے پیش نظر چینی حکومت کے خدشات کو سمجھنے کے لیے سی پیک منصوبوں سے جُڑے پاکستانی حکام اور علاقائی تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔ پاکستانی حکام اور ان معاملات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ چین نے اپنے باشندوں کی حفاظت کے لیے پاکستانی فوجی اور سویلین حکام پر واضح کیا ہے کہ اگر یہ حملے نہ رکے تو چین اپنے باشندوں کو واپس بھی لے جا سکتا ہے۔ بیجنگ میں ’چائنا گلوبل ٹیلی وژن نیٹ ورک‘ سے منسلک چینی صحافی شین شوئے نے بتایا کہ ’اِس وقت چین میں سب سے زیادہ فکر پاکستان میں موجود چینی انجینئیرز کی حفاظت کی ہے۔ میڈیا پر ہونے والے تجزیے اس بات پر مرکوز ہیں کہ پاکستان چینی باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کون سے درکار اقدامات کر رہا ہے۔
شین شوئے نے کہا کہ ’اس وقت چینی حکام اپنے انجینئیرز کی حفاظت کو لے کر پریشان ہیں اور ساتھ میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے پر پاکستان پر زور بھی ڈال رہے ہیں۔‘ لیکن انھوں نے کہا کہ چین کی ریاستی پالیسی میں ایک بات واضح ہے کہ سی پیک منصوبوں پر کام چلتا رہے گا اور دونوں ملک اسے رُکنے نہیں دیں گے۔انھوں نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر چین کے منصوبوں کو دیکھا جائے تو ’اس وقت دنیا بھر میں بڑھنے والی شدت پسندی سے چین کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔ چین کو مغربی افریقہ اور پاکستان میں اپنے شہریوں کی حفاظت کے بارے میں خدشات ہیں۔‘
دوسری جانب پاکستان میں 16 اپریل کو منعقد ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز میں فوج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’افغانستان کی سرزمین پر سرگرم دہشتگرد گروہ پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔‘ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کے لیے سب سے بڑی پریشانی اپنی معیشت کو بہتر کرنا اور ملک میں سرمایہ لانا ہے۔اس وقت چین کے علاوہ سعودی عرب بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن شدت پسندی کے واقعات نہ رُکنے کی صورت میں پاکستانی حکام کو ایک خوف یہ بھی ہے کہ جو چند سرمایہ کار پاکستان میں کاروبار کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ بھی کہیں کسی اور ملک کا رُخ نہ کر لیں۔ شدت پسندی اور عسکری معاملات پر نظر رکھنے والے صحافی احسان اللہ ٹیپو محسود کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں سرمایہ کاری کے فقدان کو لے کر پریشانی واضح نظر آتی ہے۔ اس وقت پاکستانی حکام کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ وہ چینی حکام کو باور کروائیں کہ وہ اپنے سکیورٹی پلان کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔‘
پاکستان کی جانب سے متعدد بار کہا جا چکا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کی پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ اعلیٰ حکام کے مطابق وہاں مقیم شدت پسند پاکستان میں سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان اور چین دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ملک میں چینی انجینیئرز پر ہونے والے حالیہ حملوں میں تحریکِ طالبان پاکستان ملوث ہے۔ وہیں دوسری جانب چین کے سرکاری میڈیا میں اس واقعے پر نشر ہونے والی خبریں بھی ٹی ٹی پی اور چینی مسلمانوں کی جہادی تنظیم ’ای ٹی آئی ایم‘ کو پاکستان میں اپنے شہریوں پر ہونے والے حملے کا ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہے۔ای ٹی آئی ایم کا مطلب ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ ہے، جس کے بارے میں چین کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند گروہ چینی شہریوں پر حملہ کرتا رہا ہے۔
