دہلی فسادات پر برطانوی اراکین پارلیمان کا حکومتِ برطانیہ سے جواب طلب

بھارتی دارالحکومت دہلی میں حالیہ مسلم کش فسادات میں 45 افراد کی اموات پر برطانوی اراکین پارلیمان نے خارجہ اور دولت مشترکہ کے دفتر (ایف سی او) پر زور دیا ہے کہ اس معاملے پر بھارتی حکومت سے کی گئی بات چیت کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
سکھ اراکینِ پارلیمان تن من جیت سنگھ دیشی اور پریت گِل کور نے دہلی فسادات پر بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسی دوران پارلیمنٹ میں ایف سی او کے نمائندوں سے فوری سوال پوچھتے ہوئے لیبر پارٹی کے رکن تن من جیت سنگھ دیشی کا کہنا تھا کہ دہلی میں حالیہ دنوں میں ہونے والے فسادات نے دردناک یادیں تازہ کردی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جب میں بھارت میں زیر تعلیم تھا (تو) 1984 میں بطور ایک مذہبی اقلیت (میں نے) سکھوں کی نسل کشی ہوتے دیکھی ہے، اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخ سے سیکھنے کی ضرورت ہے، معاشرے کو تقسیم کرنے کے ارادے رکھنے والوں (اور جو) مذہب کے نام پر قتل و غارت گری اور مذہبی مقامات تباہ کرنے پر تلے ہیں ان کے ہاتھوں بے وقوف نہیں بننا۔
انہوں نے کہا کہ میں وزیر سے پوچھتا ہوں کہ بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے گئے ظلم و ستم پر انہوں نے بھارتی ہم منصب کو کیا پیغام دیا؟۔
لیبر پارٹی کی ہی رکن پارلیمان پریت گِل کور نے بھی دریافت کیا کہ کیا وزیر بتاسکتے ہیں کہ اس بات کو یقنی بنانے کےلیے انہوں نے کیا اقدامات اٹھائے کہ بھارت میں تمام نسلی و مذہبی اقلیتیں خود کو محفوظ اور ظلم و ستم سے آزاد تصور کریں؟۔
ان کے علاوہ ایک رکن پارلیمان خالد محمود نے بھی سوال کیا کہ دہلی میں ہونے والے فسادات کے ردِ عمل میں برطانوی حکومت کیا کررہی ہے؟ خالد محمود نے کہا کہ فسادات ’تشویشناک‘ تھے اور خبردار کیا کہ بھارتی شہریت ترمیمی قانون 2019 کے تحت شہریوں کی قومی رجسٹریشن کی جائے گی جس کے بعد ملسمانوں کو ’حراستی مراکز میں رکھنے‘ کے بعد ڈی پورٹ کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کے اقدامات ان کے نعرے ’ہندوؤں کا بھارت‘ کو ’نفرت انگیز قوم پرست مظالم‘ کی صورت میں ڈھال رہے ہیں۔ خالد محمود نے ایوان کو بتایا کہ مسلمانوں کو سڑکوں پر تشدد اور قتل کیا جاتا رہا جب کہ پولیس نے کچھ نہیں کیا اور ’مودی نے انتخابی کامیابی سے مذموم فائدہ اٹھایا‘۔
خیال رہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں نئے متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران فسادات شروع ہوگئے تھے جس میں تقریباً 40 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے جبکہ دکانوں، گھروں، اسکولوں، مساجد اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔
