دہلی فسادات 7 افراد جاں بحق

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج اور امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران انتہا پسندوں اور پولیس نے امتیازی قانون کے خلاف احتجاج کرتے پُرامن عوام پر دھاوا بول دیا، دلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات میں اب تک 7 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور جبکہ تقریباً 150 لوگ زخمی ہیں ، مسلمانوں کی املاک کو جلا دیا گیا۔ کئی علاقوں سے مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
واضح رہے کہ دہلی کے شمال مشرقی حصے میں نئے متنازع شہریت قانون کے خلاف ہزاروں افراد کے احتجاج میں یہ تصادم شروع ہوا۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ امریکی صدر اپنے پہلے دورے پر 24 فروری کو بھارت پہنچے تھے، جہاں ان کی آمد کے ساتھ ہی ان احتجاج میں شدت آگئی تھی۔
ادھر اس تمام صورتحال پر برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شمال مشرقی دہلی کے 10 علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔ رپورٹ میں بتایا کہ تشدد کا نشانہ بننے والے شخص سرفراز نے بتایا کہ وہ پیر کی رات کو والد کے ہمراہ اپنے چچا کے جنازے سے واپس آرہے تھے کہ کراسنگ پل کے مقام پر ہجوم نے انہیں گھیر لیا۔ سرفراز نے بتایا کہ وہ لوگ اس مقام سے گزرنے والوں کی شناخت کی تصدیق کر رہے تھے اور جب انہوں نے مجھ سے میرا نام پوچھا تو میں نے پہلے اپنا اصلی نام نہ بتانے کی کوشش کی۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاہم انہوں نے مجھ سے پتلون اتارنے کو کہا، جس پر میں نے اپنا نام ‘سرفراز’ بتادیا اور پھر انہوں نے مجھ پر لاٹھیوں سے تشدد کیا اور آگ میں پھینک دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مشرقی دہلی کے مختلف علاقوں میں بھی زخمیوں کو اسپتال لے جانے والی ایمبولنسز پر بھی حملہ کیا گیا جب کہ ایک علاقے برجپوری میں نوجوان، بزرگ اور خواتین کے ہاتھوں سلاخیں اور ڈنڈے نظر آئے۔
ادھر بھارتی خبررساں ادارے نے اپنے فوٹوگرافر کے ساتھ ہندو مسلم کے فرق کی بنیاد پر پیش آنے واقعے کو بھی بیان کیا۔ رپورٹ میں فوٹوگرافر نے بتایا کہ کس طرح شمال مشرقی دہلی میں چیزیں ہاتھ سے نکل رہی ہیں اور مذہب کی بنیاد پر تشدد کے لیے اکسایا جارہا ہے۔ اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ میں موج پور میٹرو اسٹیشن پہنچا تھا کہ وہاں ایک ‘ہندو سینا کے رکن’ اچانک میرے پاس آئے اور میری پیشانی پر تلک لگانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اس سے میرا کام ‘آسان’ ہوجائے گا۔
انہوں نے مجھے کیمروں کے ساتھ دیکھ لیا تھا جو میرے فوٹوگرافر ہونے کی شناخت کر رہے تھے، تاہم وہ اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ بھائی ‘آپ بھی ہندو ہیں (اور) اس میں کیا نقصان ہے’۔ اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تقریباً 15 منٹ بعد علاقے میں دو گروہوں کے درمیان پتھراؤ شروع ہوگیا اور میں نے آسمان میں دھویں کے سیاہ بادل دیکھے پھر جب میں اس آگ لگنے والی عمارت کی طرف گیا تو شو مندر کے قریب کچھ افراد نے مجھے روک دیا، جب میں نے ان سے کہا کہ میں کچھ تصاویر لینے جارہا ہوں تو ان میں سے ایک نے کہا کہ ‘بھائی آپ بھی ہندو ہو؟ کیوں جارہے ہو؟ آج ہندو جاگ گیا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ کچھ دیر بعد میں رکاوٹوں سے ہوتا ہوا اس مقام پر پہنچا اور جیسے ہی تصاویر لینا شروع کیں، کچھ لوگ لاٹھی اور سلاخیں لے کر میرے گرد جمع ہوگئے، انہوں نے میرا کیمرا چھینے کی کوشش کی لیکن میری ساتھی رپورٹر نے میرے سامنے آکر انہیں روکا جس پر وہ وہاں سے چلے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ دیر بعد مجھے یہ اندازہ ہوا کہ وہ لوگ میرا پیچھا کر رہے ہیں، اسی دوران ایک نوجوان میرے پاس پہنچا اور پوچھا کہ ‘بھائی تو زیادہ اچھل رہا ہے، تو ہندو ہے یا مسلمان؟’ اور انہوں نے دھمکی دی کہ وہ میرے مذہب کی تصدیق کےلیے میری پتلون اتاردیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد میں نے اپنے ہاتھوں کو باندھا اور کہا کہ میں ایک معمولی سا فوٹوگرافر ہوں، جس کے بعد انہوں نے مجھے مزید دھمکیاں دیں لیکن پھر جانے دیا۔
فوٹوگرافر نے کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ بعد ازاں میں نے ایک رکشہ لے کر دفتر واپسی کی کوشش کی لیکن تھوڑی ہی دیر میں مجھے احساس ہوا کہ رکشے پر درج نام ہجوم کے سامنے ہمارے لیے مسئلہ ڈال سکتا ہے، اتنے میں 4 افراد نے ہمیں روکا اور کالر سے پکڑ کر رکشے سے باہر کھینچا، میں ان سے درخواست کرتا رہا کہ مجھے جانے دیں میں پریس کا رکن ہوں جبکہ رکشہ ڈرائیور بے قصور ہے۔
علاوہ ازیں انہوں نے لکھا کہ بعد ازاں ڈرائیور نے مجھے جب چھوڑا تو وہ کانپ رہا تھا۔
واضح رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے نافذ کیے گئے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج تقریباً 2 ماہ سے جاری ہے، تاہم اس میں شدت گزشتہ دنوں اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر بھارت کے دورے پر پہنچے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورہ بھارت کے دوران نئی دہلی آمد سے قبل ہی ہزاروں کی تعداد میں افراد متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ تاہم احتجاج میں صورت حال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی تھی جب گزشتہ روز اس قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں اور حامیوں کے درمیان تصادم ہوا جب کہ اس دوران پولیس بھی وہاں موجود رہی۔
منگل کو بھی کشیدگی برقرار نظر آئی جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں اسکولز بند رہے جب کہ تقریباً 5 میٹرو اسٹیشن بھی بند کردیے گئے۔
ادھر پیر کو تصادم کے بعد گرو تیگ بہادر اسپتال کے ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راجیش کالرا کا کہنا تھا کہ اسپتال لائے گئے کچھ لوگوں کو گولیوں کے زخم آئے تھے۔
پولیس کی جانب پولیس نے آنسو گیس اور دھویں کے گرینیڈ استعمال کیے لیکن اسے مجمع کو منتشر کرنے میں کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب کہ دونوں اطراف سے پتھراؤ بھی کیا گیا، جس سے علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔
پرتشدد واقعات پر دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹوئٹ کی کہ تشدد سے گریز کریں، اس سے کسی کو فائدہ نہیں، تمام مسائل کا حل پر امن طریقے سے نکلے گا۔
اس تمام صورت حال پر رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ جھڑپوں کے درمیان گاڑیاں جلی ہوئی تھیں، رکاوٹیں ٹوٹیں ہوئی تھیں اور دھویں کے بادل اٹھ رہے تھے جب کہ مظاہرین کے مقابلے میں پولیس کی تعداد کم تھی۔
عینی شاہدین نے دیکھا کہ ایک مسلم مرد اور برقع میں موجود ایک خاتون کو قانون کے حق میں احتجاج کرنے والے درجنوں افراد نے لاٹھیوں اور سلاخوں سے تشدد کیا۔
پیر کو مقامی سیاست دان نے یوگیندرا یادیو نے تشدد کو ‘فرقہ وارانہ’ قرار دیا اور پولیس سے مداخلت کرنے کا کہا لیکن عینی شاہدین نے یہ دیکھا کہ زیادہ تر پولیس اہلکار شہریت قانون کے حق میں سامنے آنے والے ہندو گروپ کے ساتھ کھڑے رہے اور انہوں نے تشدد کو روکنے کےلیے کچھ نہیں کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button