دہلی میں احتجاج: ہلاکتیں 11 ہوگئیں، دفعہ 144 نافذ

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں شہریت کے متنازع قانون کےخلاف احتجاج کے دوران ہنگاموں میں ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی۔بھارتی حکومت نے شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو قابو میں رکھنے کے لیے دہلی کے شمال مشرقی علاقے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا جہاں پیرا ملٹری فورسز کی 35 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔
علاقےمیں اسپیشل سیل، کرائم برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جب کہ مقامی پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کرلی گئی ہے۔نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں اتوار سے جاری ہنگاموں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔نئی دہلی پولیس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ پرتشدد واقعات میں اب تک 11 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
نئی دہلی کے گرو تیج بہادر اسپتال کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہنگاموں میں 9 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں پولیس اہلکار رتن لال بھی شامل ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق شمال مشرقی علاقوں میں پرتشدد واقعات میں نیم فوجی دستوں اور پولیس کے کئی اہلکاروں سمیت 135 افراد زخمی ہو ئے ہیں۔گرو تیج بہادر اسپتال کے حکام نے بتایا کہ اسپتال میں 31 افراد کو لایا گیا جس میں سے 10 کی حالت تشویشناک ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق موج پور اور بابر پور کے علاقوں میں پرتشدد احتجاج جاری ہے جب کہ فائر بریگیڈ کے عملے کو بھجن پورا کے علاقے سے آتشزدگی کی 45 کالیں موصول ہوئیں۔
