دینی حلقوں کا PTV پر ترکش ڈرامہ دکھانے کے خلاف فتوی

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پی ٹی وی پرترک ڈرامہ سیریل ارطغرل یا ’ترک گیم آف تھرونز دکھائے جانے کے اعلان کو پاکستان کے مذہبی حلقوں نے مسترد کرتے ہوئے اس عمل کو ایک فتوے کے ذریعے ناجائز اور حرام قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر مسلمانوں کی فتوحات کی کہانی پر مبنی شہرہ آفاق ترکش ڈرامہ ’دی ترک گیم آف تھرونز‘ یا ’دیریلیش ارطغرل‘ یکم رمضان سے اردو ڈبنگ کے ساتھ پی ٹی وی پر نشر کرنے کا اعلان ہوا ہے. پی ٹی وی نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اعلان کیا ہے کہ یہ شہرہ آفاق ڈرامہ یکم رمضان المبارک سے رات سوا آٹھ بجے پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہوا کرے گا۔
تاہم اب جامعۃالعلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے جید علما نے فتوی دیتے ہوئے اس ڈرامے کو دیکھنا شرعا حرام قرار دے دیا ہے۔ یہ فتوی جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کےعلامہ محمد یوسف نے جاری کیا ہے۔ ان سے اس سوال پر فتوی مانگا گیا تھا کہ 150 سے زائد قسطوں پر مبنی خلافت عثمانیہ سے متعلق ترکش ڈرامے ارطغرل کو بنانے اور پاکستان میں اس ڈرامے کو اسلامی پس منظر کے ساتھ نشر کرنے پر شریعت کا کیا حکم ہے جبکہ اس کے تمام واقعات مستند بھی نہیں ہیں اور جھوٹ سچ کی آمیزش رکھتے ہیں؟
جامعہ بنوریہ کے عالم سے کیے گئے سوال کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ مذکورہ ترکش ڈرامہ اس انداز میں بنایا گیا ہے کہ ایک بار دیکھنے پر ہی ناظر کو اپنے سحر میں قید کرلیتا ہے، بعض نام نہاد علماء اور خود ساختہ مفکرین بڑے بڑے مضامین لکھ کر اس ڈرامے کو دیکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں لہذا ایسے حالات میں ضروری ہے کہ اس ڈرامے کی شرعی حیثیت اور اسے دیکھنے یا نہ دیکھنے کے حوالے سے عوام کی صحیح رہنمائی فرمائی جائے۔
سوال کے جواب میں جامعہ بنوری کراچی کے علامہ محمد یوسف بنوری کی جانب سے جاری کیے گے فتوے میں کہا گیا ہے کہ ”کسی بھی جائز مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ناجائز طریقہ اپنانا درست نہیں، خلافتِ عثمانیہ کے تاریخی دور کی روئیداد تاریخ کی کتابوں کے مطالعہ اور اس سے متعلق لٹریچرعام کرکے ہوسکتی ہے،اس کے لیے فلم یا ڈرامہ بنانا اور دیکھنا یا دکھانا جائز نہیں ہے۔ یہ فتوی دیتے ہوئے مولانا نے ایک سابقہ فتوے کا حوالہ بھی دیا جس میں کہا گیا تھا کہ "اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈرامہ یا فلم دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے کیونکہ ٹی وی پر آنے والے پروگرام اور فلموں میں موسیقی اور ناچ گانے، بد نگاہی کے اسباب سے خالی نہیں ہوتے، لہذا اس قسم کے پروگراموں کے دیکھنے کی ترغیب دینا اشاعتِ فحش و گناہ میں معاونت کے مترادف ہونے کی وجہ سے جائز نہیں”۔
واضح رہے کہ ترکش ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل‘ کی کہانی سلطنت عثمانیہ کے قیام سے قبل کی ہے اورمسلمان سپہ سالار ارطغرل غازی کے گرد گھومتی ہے۔ ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ 13 ویں صدی کے ترک سپہ سالار ارطغرل غازی نے کس طرح منگولوں اور صلیبیوں کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ یہ ڈرامہ پاکستان میں اردو زبان میں پیش کیے جانے سے قبل ہی دنیا کے 60 ممالک میں مختلف زبانوں میں نشر کیا جا چکا ہے۔ یہ مقبول ترین ڈرامہ پانچ سیزن اور مجموعی طور پر 179 قسطوں پر مبنی ہے جسے 2014 میں ٹی آر ٹی پر نشر کیا گیا تھا اور اب یہ ڈرامہ ’نیٹ فلیکس‘ سمیت دیگر آن لائن اسٹریمنگ چینلز پر موجود ہے۔
تاریخ بتاتی یے کہ ارطغرل نامی سپہ سالار کی وفات کے چند سال بعد ہی ان کے چھوٹے بیٹے ’عثمان‘ نے 13 ویں صدی کے آغاز میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام کا اعلان کیا اور مسلمانوں کی یہ عظیم سلطنت تقریبا 600 سال تک یعنی 1920 تک قائم رہی۔ سلطنت عثمانیہ کو پہلی جنگ عظیم کے بعد انگریزوں نے سازش کے تحت ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ اسی سلطنت میں موجود کئی علاقے آج دنیا کے نقشے میں آزاد ملکوں کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ’ترک گیم آف تھرونز‘ کے نام سے جانے والی دیریلش سیریز عالمگیر مقبولیت کی حامل ہے اور 60 سے زائد ملکوں میں اس ٹی وی شو کے مداحوں کی ایک کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ یہ ڈرامہ نہ صرف مغرب میں بکھرے مسلمانوں میں مقبول ہے بلکہ یہ مشرق وسطی، جنوبی افریقہ اور حیرت انگیز طور پر جنوبی امریکا میں بھی زبردست مقبولیت سمیٹ رہا ہے۔
اس ڈرامہ سیریز کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ارطغرل کی طاقتور اور پُرعزم خواتین پاکستانی اور بھارتی ڈراموں میں روتی ہوئی خواتین سے بہت زیادہ مختلف نظر آتی ہیں۔ ڈرامے میں خواتین کو ضرورت پڑنے پر اکثر اوقات اپنے شوہروں کی جگہ بے یا سردار کا کردار ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، وہ تلواروں اور خنجروں سے لڑتی ہیں اور کسی کو خوش کرنے کی خاطر اپنے لیے چُنے گئے کسی مرد سے چپ سادھے شادی نہیں کرتیں چاہے وہ سلطان ہی کیوں نہ ہو۔
ڈرامہ نقادوں کے مطابق کہانی میں سے مذہبی پہلو نکال بھی دیا جائے تب بھی ارطغرل آپ کو ایک لمحے کے لیے بھی اکتاہٹ نہیں ہونے دے گا۔ تاہم اب جامعہ بنوریہ کے فتوے کے بعد اس ڈرامے کے حوالے سے نئی بحث کے جنم لینے اور ڈرامہ پی ٹی وی پر دکھائے جانے پر مذہبی حلقوں کا رد عمل سامنے آنے کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button