رؤف حسن پرحملہ قاتلانہ تھا،تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے

پاکستان تحریک انصاف نے رؤف حسن پر حملے کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن سے کروانے کا مطالبہ کردیا۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا پریس کانفرنس کرتے ہوے کہنا تھا کہ بلیڈ کا حملہ رؤف حسن کی شہہ رگ کاٹنے کے لیے کیا گیا اور چھری نما تیز دھار والے آلے سے ان کا چہرہ چیر ڈالا، کوئی بڑا حادثہ ہونے جارہا تھا ۔ رؤف حسن نے بڑی بہادری سے سب معاملے کو دیکھا۔ لہذا جو ایف آئی آر درج کی گئی اس میں رؤف حسن نے سب واضح طور پر بتایا تھا لیکن ہم اسلام آباد پولیس کی ایف آئی آر کو مسترد کرتے ہیں اور یہ کس کے دباؤ میں لکھی گئی ہے؟ اس ایف آئی آر میں دہشتگردی نام کی چیز نہیں، یہ دہشتگردی نہیں تو کیا تھا، نا ان کا بٹوہ چھینا گیا نا کچھ اور ہوا سیدھا ان پر حملہ کیا گیا تو یہ ایک لپٹی ایف آئی آر لکھ کے اسے دبانا چاہتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ رؤف حسن کو انصاف ملنا چاہیے، میں عمران خان کا پیغام دے رہا ہوں کہ اگر ہمارے کسی بھی لیڈر کے اوپر حملہ ہوا تو ہم پر امن احتجاج شروع کردیں اور اس کا پریشر اس وقت کی کرپٹ حکومت پر ہوگا۔ جس معاشرے میں قانون کی بالا دستی نہیں ہوگی وہاں سرمایہ کاری نہیں ہوگی، اور ایسے ملک کا نظام نہیں چلے گا، پاکستان میں لاقانونیت ہے، اسلام آباد پولیس کے لوگ تھانوں اور ناکہ بندیوں پر بیٹھ کر رشوت اکٹھے کرتے ہیں، یہ واردات دن دھاڑے ہوئی ہے۔
