رائیونڈ سے کرو نا لیجانے والے وائرس سے مرنے لگے

محکمہ صحت کے حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ لاہور کے رائے ونڈ مرکز میں 11 سے 15 مارچ تک ہونے والے سالانہ تبلیغی اجتماع سے ہزاروں لوگ کرونا وائرس لے کر گھروں کو گئے ہیں جن میں سے دو افراد 30 مارچ کے روز کراچی میں انتقال کر گے۔ یہ دونوں افراد رائیونڈ اجتماع میں شریک ہوئے تھے اور ان کا کرونا ٹیسٹ پازٹیو آیا تھا۔
کراچی میں ان دو افرادکی موت اور کرونا وائرس کے کیسز میں مزید اضافے کے ساتھ اب وہ لوگ اور ان کے خاندان کے افراد بھی خوف کا شکار ہیں جو کہ رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرکے واپس آئے ہیں۔ رائیونڈ اجتماع میں شرکت کرکے کراچی اور حیدرآباد واپس آنے والے کئی اور لوگوں کے کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں جس سے اس خدشے کو تقویت مل رہی ہے کہ رائیونڈ اجتماع میں شریک آٹھ لاکھ افراد میں سے بڑی تعداد کرونا وائرس کا شکار ہو چکی ہوگی۔ یہ خبریں باہر آنے کے بعد اب کراچی اور حیدر آباد کے لوگ تبلیغی جماعت کے لوگوں سے پرہیز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ 30 مارچ کو حیدر آباد کے علاقے قاسم آباد کے سہرش نگر کے رہائشیوں نے پولیس کو علاقے کی مقامی مکی مسجد میں تبلیغی جماعت کے اراکین کی موجودگی کی اطلاع دی جس کے بعد حکام نے انہیں مسجد کی حدود میں رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ اب ان کے لیے قرنطینہ مرکز ہے۔
حیدرآباد میں 15 رکنی تبلیغی جماعت کے ایک رکن نے بتایا کہ ’ہمیں یکم اپریل کو پورے پاکستان میں عام ریلوے ٹریفک کی بحالی کے ساتھ روانہ ہونا تھا لیکن اب پابند کیے جانے کے بعد ہمیں نہیں معلوم کہ ہم اس علاقے کو کب چھوڑیں گے‘۔ یہ شخص سوات سے حیدرآباد کی نور مسجد میں واقع تبلیغی جماعت کے مقامی ہیڈکوارٹر پہنچا تھا اور کچھ دن سے مکی مسجد میں قیام پذیر تھا۔ نور مسجد دراصل کراچی کے بعد سندھ کا دوسرا بڑا تبلیغی جماعت کا مرکز ہے جبکہ ایک اور بڑا تبلیغی مرکز سکھر میں واقع ہے۔
حیدرآباد میں پولیس کے ذریعے پابند کیے جانے والے تبلیغیوں نے بتایا کہ وہ سوات سے رائے ونڈ لاہور گئے اور پھر حیدرآباد کی نور مسجد پہنچے جہاں سے وہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کے لیے سہرش نگر گئے تھے اور اب وہاں کی مکی مسجد میں پابند ہیں۔ یہ جان کر کے رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے کراچی کے دو افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں، مکی مسجد میں موجود تبلیغی بھی پریشان ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان کے کرونا ٹیسٹ کروائے جائیں تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ وہ اس وائرس کا شکار ہیں یا نہیں۔
یاد رہے کہ رائیونڈ میں ہونے والے اس اجتماع میں سینکڑوں افراد شامل تھے اور یہ 11 سے 15 مارچ تک منعقد ہوا تھا۔ وزارت صحت کے مطابق رائیونڈ اجتماع میں وائرس لگنے کے بعد 30 مارچ کو کراچی میں 2 افراد کی موت ہوئی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود رائے ونڈ اجتماع منعقد کرنے کی اجازت دی گئی۔
پنجاب کے سرکاری عہدے داروں نے اس وقت کہا تھا کہ کرونا وائرس یا کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر اجتماع کو ملتوی کرنے کی ان کی تمام ’درخواستوں‘ کو منتظمین نے مسترد کردیا تھا۔ تاہم یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مولانا طارق جمیل نے وزیراعظم سے تبلیغی اجتماع منعقد کرنے کی خصوصی اجازت حاصل کی تھی۔
