رانا ثنا اللہ کےخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع

قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ اور ان کے خاندان کے خلاف بھی منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کردی۔
ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور نے رانا ثنا اللہ اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی۔اس ضمن میں کہا گیا کہ ڈی جی نیب نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب وقاص احمد کو تحقیقات سونپ دیں۔
خیال رہے کہ نیب کی جانب سے پہلے ہی رانا ثنا اللہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق رانا ثنا اللہ کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت تحقیقات شروع کی گئیں۔رانا ثنا اللہ کے خلاف 13 نومبر کو انکوائری انوسٹی گیشن میں تبدیل ہوئی جبکہ نیب حکام وقاص احمد کو انوسٹی گیشن مکمل کرکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔نیب لاہور کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کے خلاف پہلے ہی وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاچکے ہیں۔چیئرمین نیب نے رانا ثنااللہ کے خلاف جاری وارنٹ گرفتاری پر دستخط کردیے تھے۔اس ضمن میں بتایا گیا تھا کہ رانا ثنااللہ کے خلاف 9 نومبر کو وارنٹ گرفتاری تیار کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ ستمبر میں مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں انہوں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سوالوں کے جوابات دیے تھے۔رانا ثنااللہ نے اس ضمن میں متعلقہ ریکارڈ بھی پیش کیا تھا۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں کے نام پر جائیدادیں جمع کیں جس کی مجموعی مالیت 40 کروڑ روپے بنتی ہے۔دوسری جانب رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس جعلی بینک اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی بے نامی املاک ہیں۔
