راوی منصوبہ: حکومت 1250 روپے فی مرلہ پر زمین ہتھیانے لگی

ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھر دینے کے نعرے لگانے والی کپتان حکومت لاہور میں اپنے چہیتوں کو نوازنے کے لیے دریائے راوی پر ایک نیا شہر آباد کرنے کی آڑ میں زبردستی عوام سے انکے گھر اور زمینیں ہتھیانے میں مصروف ہے جس سے 80 ہزار لوگ متاثر ہوں گے۔
اس حکومتی منصوبے کے متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت ان سے زبردستی 1250 روپے مرلہ کے حساب سے زمین چھین رہی ہے جو کہ ایک کلو گوشت کی قیمت بنتی ہے۔
پنجاب حکومت کے راوی ریور فرنٹ منصوبے کی زد میں نہ صرف غریب عوام کے 20 ہزار سے زائد گھر آرہے ہیں بلکہ 74 ہزار ایکڑ سے زائد زرخیز ترین زرعی زمین بھی اس کی نظر ہو جائے گی جس پر اس وقت مختلف پھلوں کے باغات اور فصلیں لہلہا رہی ہیں۔ زرعی زمینوں کے متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے انکی زمین خریدنے کےلیے جو ریٹ متعین کیا ہے وہ فی ایکڑ دو لاکھ روپے ہے جو کہ 25 ہزار روپے کنال اور 1250 روپے مرلہ بنتا یے۔ انکا کہنا یے کہ کپتان حکومت کا یہ فحش مذاق تو ہماری نسلوں کو بھوکا مارنے والی بات ہے۔ راوی ریور فرنٹ منصوبے کے متاثرین کا کہنا یے کہ حکومت ہماری زرخیز زمینوں پر پلازے بنانا چاہتی یے، پھر ہم اور ہمارے بچے ان پلازوں میں مزدوری کریں گے لہازا یہ ہم سے نہیں ہوگا اور ہم کسی صورت حکومت کو اپنی زمینیں نہیں دیں گے۔ تاہم دوسری حکام کا کہنا ہے کہ زمینوں کے مالکان کو ہر صورت اپنی زمین بیچنا ہوگی چونکہ اس حوالے سے زمین کے حصول کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ لاہور رنگ روڈ اور سیالکوٹ موٹروے کے ٹول پلازہ سے ایک کچی سڑک نیچے کی طرف جاتی ہے۔ بائیں طرف شہر کی حدود شروع ہونے سے پہلے رنگ روڈ کے اطراف فیکٹریوں کا ایک سلسلہ ہے۔ دائیں طرف موٹر وے کے نیچے سے گزرتے ہوئے کھیتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اور پہلا گاؤں کرول آتا ہے جس کے پاس گزشتہ برس موٹروے پر ریپ کا واقعہ گھناؤنا پیش آیا تھا۔ ہزاروں گھروں پر مشتمل اس گاؤں کے ساتھ کچے پکے راستوں پر دیہات کا ایک سلسلہ ہے جو دریائے راوی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اس سڑک پر چھوٹا سا گاؤں بکن وال واقع ہے جس کے باہر خاردار تاروں کے حصار میں بھاری مشینیں کھڑی ہیں جو بظاہر تعمیراتی کام میں استعمال ہوتی ہیں۔ بکن وال میں آج کل کسان سر جوڑے بیٹھے ہیں اور اپنی زمینوں کو بچانے کےلیے حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں وزیر اعظم عمران خان کے ’ویژن‘ کے مطابق ایک نیا شہر بسایا جانا ہے جس کا نام راوی ریور فرنٹ منصوبہ رکھا گیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے الگ سے ایک محکمہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنایا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ بتایا جا رہا تھا کہ اس منصوبے سے بظاہر زیادہ لوگ متاثر نہیں ہوں گے اور اس کی زد میں آنے والی زیادہ تر زمین ’بنجر‘ ہے۔ تاہم یہ حکومتی موقف سراسر جھوٹا ثابت ہوا ہے اور اس منصوبے کی زد میں آنے والی زمینوں پر باغات اور لہلہاتی فصلیں لاتی فصلی کھڑی ہیں۔

علاقے کے متاثرہ کسانوں نے اپنی زمینیں بچانے کےلیےایک باقاعدہ تنظیم بھی بنا لی ہے جس کو ایکشن کمیٹی کا نام دیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کے کنوینئر میاں مصطفی رشید نے کھیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پنجاب کی زرخیز ترین زمین ہے۔ یہ گندم دیکھیں اتنے موٹے خوشے آپ کو پورے پنجاب میں نہیں ملیں گے۔ وہ آلو کا کھیت دیکھیں، یہ آلو جب مارکیٹ میں آتا ہے تو منڈی کی قیمت نیچے آجاتی ہے اور لوگ سستا آلو کھاتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ یہ زمین بنجر ہے۔ اور ان لہلہاتے کھیتوں کے درمیان یہ سامنے کھڑی مشینری ہمارا منہ چڑا رہی ہے کہ کسی وقت بھی یہ کھیت ہم سے چھین لیے جائیں گے۔ لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر آم، امرود اور فالسوں کے باغات ہیں جنہیں ختم کر کے یہاں پلازے کھڑے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا یے اور اس کے عوض ہمیں چند سو روپے فی مرلہ زمین کی قیمت آفر کی جارہی ہے۔ ایک اور کسان شفقت علی نے بتایا کہ یہاں لوگوں کی صرف دو دو تین تین ایکڑ یا پانچ ایکڑ زمین ہے جو فصلوں کی کمائی سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ کیوں کہ سبزی تیار ہونے میں کم وقت لیتی ہے تو سال میں انکی کئی فصلیں تیار ہو جاتی ہیں اور ایک ایک فصل دو دو لاکھ روپے دے جاتی ہے۔ لیکن حکومت نے یہ زمین خریدنے کےلیے جو ریٹ متعین کیا ہے وہ فی ایکڑ دو لاکھ روپے ہے جو بارہ سو پچاس روپے مرلہ بنتا ہے۔ اتنے میں تو مشکل سے ایک کلو گوشت آتا ہے لہازا یہ ہماری نسلوں کو بھوکا مارنے والی بات ہے۔

مصطفٰی رشید نے بتایا کہ راوی فرنٹ کے منصوبے میں تین سو سے زائد دیہات آ رہے ہیں جن کی زمین پچاس ہزار ایکڑ سے زیادہ ہے۔ اور لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ راوی فرنٹ کا منصوبہ نیا نہیں ہیں اور پرانا اتنا کہ اس کی جڑیں قیام پاکستان کے زمانے سے جا ملتی ہیں۔ لاہور کی ضلعی حکومت کے مطابق سب سے پہلے راوی فرنٹ کا منصوبہ 1947 میں شہر کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا جس کے خدوخال اگرچہ مختلف تھے لیکن وہ تھا راوی کے گرد ہی۔ دوسری مرتبہ یہ منصوبہ اس وقت منظر عام پر آیا جب مسلم لیگ ن کے پنجاب میں دوسرے دور حکومت کے دوران 44 ایکڑ پر اس بنانے کی بات ہوئی۔ تاہم اس وقت بھی یہ معاملہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔

البتہ موجودہ حکومت نے بالآخر راوی کنارے نیا شہر بسانے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے بنائی جانے والی راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق یہ پراجیکٹ ایک لاکھ دو ہزار ایکڑ زمین پر بنے گا۔ موجودہ حکومت نے اگست 2020 میں اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جب کہ اس کی تعمیر کی فیزیبلٹی کی ذمہ داری سنگاپور کی ایک نجی کمپنی مین ہارڈت کو دی گئی ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ منصوبہ یعنی نیا شہر ساڑھے تین کروڑ افراد کو سمونے کی گنجائش رکھتا ہے۔ یہ پراجیکٹ اگلے تیس سال میں مکمل ہوگا جب کہ اس کے خدوخال لندن میں بہنے والے دریائے تھیمز سے ملتے ہیں اور یہ آئیڈیا بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین کا ہے۔

منصوبے کے مطابق دریائے راوی کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اس کا پانی بی آر بی سمیت دیگر نہری نظام سے لیا جائے گا۔
اس منصوبے میں ساٹھ لاکھ درخت، تین بیراج اور چھ پانی صاف کرنے کے پلانٹ لگائیں جائیں گے جو نالہ نما راوی کا پانی صاف کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے مطابق ’اس منصوبے سے 50 ہزار ارب روپے پاکستان کی معیشت میں داخل ہوں گے۔ لاہور سے ہیڈ بلوکی تک یہ منصوبہ چار سو چودہ مربع کلومیٹر پر مشتمل ہوگا۔‘ مین ہارڈت کمپنی کے مطابق اس منصوبے سے 74 ہزار ایکڑ سے زائد زرعی زمین متاثر ہوگی اور قریب 20 ہزار سے زائد گھر متاثر ہوں گے۔ جب کہ 80 ہزار افراد اس منصوبے کی زد میں آئیں گے۔

چنانچہ ہزاروں کسانوں نے اس منصوبے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جسکے بعد ابتدائی سماعت میں عدالت نے پنجاب حکومت کو زرعی زمین راوی ریور فرنٹ پراجیکٹ کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کا حکم دیا۔ 27 فروری کو جاری ہونے والے اس حکم نامے میں نہ صرف حکومت سے اس منصوبے کی تفصیلات طلب کی گئیں بلکہ کسانوں کو بھی جامع جواب داخل کروانے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن پنجاب حکومت اس عدالتی حکم کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے ابھی تک ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ زمین حاصل کر لی ہے اور اس منصوبے پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔ دوسری جانب کسان ایکشن کمیٹی کے مطابق حکومتی اہکار ان کو بے جا تنگ کر رہے ہیں اور آئے روز حکومتی اہلکار دیہات میں راوی روڈ فرنٹ پروجیکٹ کے خلاف ان کی جانب سےلگائے گئے آگاہی کے بینرز اتار رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس عدالتی جنگ میں حکومت کامیاب ہوتی ہے یا غریب کسان۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button