رحیم یار خان: ٹرین آتشزدگی سے 75 افراد جاں بحق

کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں رحیم یار خان کے قریب آتشزدگی سے اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 75 افراد جاں بحق جب کہ 44 سے زائد زخمی ہوگئے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا دعویٰ ہے کہ ٹرین میں آگ سلنڈر پھٹنے سے لگی جبکہ ٹرین کے مسافروں کا کہنا ہے کہ ٹرین میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی جس نے تین بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا.
تفصیلات کے مطابق بدقسمت ٹرین کو حادثہ صبح 6:15 منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش آیا، کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس کی ایک بوگی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جو پھیلتی ہوئی دیگر دو بوگیاں تک جا پہنچی۔ ڈپٹی کمشنر جمیل احمد جمیل کے مطابق تیز گام ٹرین کی ایئر کنڈیشنڈ اور بزنس کلاس کی تین بوگیوں میں آتشزدگی ہوئی جن میں 209 مسافر سوار تھے. حادثے کا شکار دو بوگیاں امیرحسین اینڈجماعت کے نام سے بک کی گئی تھیں۔حکام کا کہنا ہے کہ آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3 میں موجود سلنڈر پھٹنے سے لگی جس نے تیزی سے مزید 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق زیادہ تر اموات آگ سے جھلسنے سے ہوئی ہیں تاہم عورتوں سمیت چند افراد نے آگ سے بچنے کی کوشش میں چلتی ٹرین سے چھلانگ لگائیں اور نوکیلے پتھروں پر گر کر جاں بحق ہوگئے۔ ڈی پی او رحیم یار خان امیر تیمور کے مطابق 75 افراد جاں بحق اور 44 سے زائد افراد کی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔حادثے میں متاثرہ زخمیوں کو ٹی ایچ کیو لیاقت پور، آر ایچ سی چنی گوٹھ اور بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں متعدد متاثرین کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ لگنے کی وجہ تبلیغی جماعت کے مسافروں کا گیس سلنڈر پھٹنا بتائی جا رہی ہے جب کہ ریسکیو خان پور، لیاقت پور اور ریلوے پولیس موقع پر موجود ہیں۔ حکام کے مطابق مسافر ٹرین میں آگ لگنے کے افسوسناک حادثے کے بعد ضلع بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ریسکیو 1122، پولیس، فائر بریگیڈ، سمیت دیگر امدادی ٹیموں کی جانب سے جاری ریسکیو آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد متاثرہ بوگیوں کو ٹریک سے ہٹا دیا گیا ہے اور ٹرینوں کی آمدورفت بحال ہو گئی ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=VzhRfo4rcr0
ذرائع کے مطابق جل کر جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جاں بحق افراد کی شناخت کیلئے ڈی این اے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، ریلوے انتظامیہ نے حادثہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو انشورنس کی مد میں 15لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والوں کو50ہزار روپے سے3لاکھ روپے تک دینے کا اعلان کیا ہے۔
اس ضمن میں وزیر ریلوے شیخ رشید نے حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حادثہ ٹرین کی اکانومی کلاس میں ہوا جس میں کچھ لوگ سلنڈر جلا کر ناشتہ بنا رہے تھے، واقعے میں ٹرین کی تین بوگیاں متاثر ہوئیں. انہوںنے مزید بتایا کہ لوگ رائیونڈ اجتماع پر جا رہے تھے، مسافروں کے دو سلنڈر پھٹنے کے باعث بوگیوں میں آگ لگی اور زیادہ تر ہلاکتیں مسافروں کے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ کھاریاں اور ملتان میں برن یونٹس ہیں لہٰذا شدید زخمیوں کو رحیم یار خان منتقل کردیا گیا ہے۔ وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ریلوے کی غلطی نہیں بلکہ مسافروں کی غلطی ہے، مسافروں نے ناشتہ بنانے کے لیے سلنڈر جلایا جس کے بعد چلتی ٹرین میں آگ لگ گئی۔ شیخ رشید نے کہا کہ مسافر ٹرین میں سلنڈر کیسے لے کر پہنچے اس کی تحقیقات کی جائے گی، مسافر چولہے اپنے تھیلے میں رکھ دیتے ہیں اور قانون سے نہیں ڈرتے، کراچی سے مسافر سلنڈر لے کر چڑھے تو نوٹس لیں گے، چھوٹے اسٹیشنوں پر اسکینر کا نظام موجود نہیں لہٰذا تحقیقات کریں گے کہ مسافر سلنڈر لیکر کس اسٹیشن سے چڑھے۔
دوسری طرف ٹرین مسافروں کا کہنا ہے کہ تیز گام میں آتشزدگی کا واقعہ سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے پیش آیا۔ ٹرین کی ایک بوگی میں اے سی کے شارٹ سرکٹ سے آگ لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری بوگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسافروں کا مزید کہنا ہے کہ آگ لگنے کے بعد فوری طور پر ٹرین نہیں روکی گئی اور نہ ہی آگ بجھانے کیلئے کوئی اقدامات کئے گئے. ٹرین چلتی رہی جس کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔


