رشوت سکینڈل کے 2 مرکزی کرداروں کو انکوائری سے پہلے ہی کلین چٹ مل گئی

2018 کے سینیٹ الیکشن سے پہلے خیبرپختونخواہ کے اراکین صوبائی اسمبلی میں رشوت تقسیم کرنے والے دو مرکزی کرداروں پرویز خٹک اور اسد قیصر کو معاملے کی تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی کلین چٹ دے دی گئی ہے جس سے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مقصد فوت ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ 2018 میں سینیٹ الیکشن سے پہلے جب پی ٹی آئی اراکین اسمبلی میں پیسے تقسیم کئے گئے تو اس وقت اسد قیصر خیبرپختونخواہ اسمبلی کے سپیکر تھے اور پرویز خٹک وزیر اعلی تھے جنکی موجودگی میں اراکین صوبائی اسمبلی کو سپیکر ہاوس میں پیسے دیے گئے تھے اور اس تمام عمل کی ایک خفیہ ویڈیو بھی بنائی گئی تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے جس کے ایک اہم ترین ممبر وفاقی وزیر چوہدری فواد نے اب یہ اعلان کیا ہے کہ کمیٹی کی تحقیقات کا بنیادی مقصد ان اراکین سینیٹ کا پتہ لگانا ہے جنہوں نے پیسے دے کر ممبران اسمبلی کے ووٹ حاصل کیے تھے۔ فواد چوہدری نے اس تاثر کو سختی سے رد کیا کہ کمیٹی اس بات کا تعین بھی کرے گی کہ آیا سابق وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور سابق سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر رشوت دینے کے عمل میں شامل تھے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نا تو رشوت سپیکر ہاؤس میں تقسیم کی گئیں اور نہ ہی اسد قیصر اور پرویز خٹک کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔
یعنی حکومت نے رشوت سکینڈل کے دونوں مرکزی کرداروں کو تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی کلین چٹ دے دے دی ہے حالانکہ رشوت وصول کرنے والے دو اراکین اسمبلی عبیداللہ مایار اور زاہد درانی نے یہ دعوی کیا ہے کہ رشوت سپیکر ہاؤس میں دی گئی اور وزیراعلی پرویز خٹک کی موجودگی میں سب کچھ ہوا۔
تاہم پرویز خٹک اور اسد قیصر نے ان دعوؤں کی نفی کی ہے۔ لیکن عمومی تاثر یہی ہے کہ رشوت سکینڈل پر وزیراعظم عمران خان سے لے کر پرویز خٹک تک سبھی حکومتی شخصیات جھوٹ بول رہی ہیں۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ان کو رشوت تقسیم والی ویڈیو کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ لیکن ان کا یہ سفید جھوٹ تب پکڑا گیا جب پاکستانی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر ان کی 2018 کی ایک تقریر وائرل ہوگئی جس میں وہ یہ اعلان کر رہے تھے کہ انکے پاس پی ٹی آئی اراکین صوبائی اسمبلی کی رشوت وصولی کی ویڈیو آ چکی ہے۔
اراکین اسمبلی کو پیسے دینے کے معاملے سے باخبر مستند حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس ویڈیو کے دو حصے ہیں اور دونوں کو ایڈیٹ کر کے ایک ویڈیو بنائی گئی ہے۔ ویڈیو کا وہ حصہ جس میں اراکین اسمبلی صوفے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور انہیں پیسے دیے جارہے ہیں، یہ جگہ سپیکر ہاؤس بتائی جا رہی ہے جبکہ اس کا دوسرا حصہ جس میں پی پی پی کے سابق رکن بیٹھے ہیں، یہ کسی اور جگہ پر بنائی گئی ہے۔‘ دوسری طرف وفاقی وزیر پرویز خٹک نے کہا ہے کہ یہ ویڈیو سپیکر ہاؤس کی نہیں بلکہ اسلام آباد میں واقع ایک گھر کی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک کی بات ٹھیک ہے کیونکہ لیک شدہ ویڈیو کا ایک حصہ پشاور کے سپیکر ہاؤس کا ہے لیکن اس میں چند ہی اراکین اسمبلی ہیں، جن کو پیسے دیے جارہے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ’اسلام آباد کے جس گھر کی بات ہو رہی ہے وہ بھی ٹھیک ہے کیونکہ کچھ اراکین کو وہاں پر پیسے دیے گئے تھے۔یہ خریدو فروخت ایک مقام پر نہیں بلکہ مختلف مقامات پر کی گئی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا یے کہ ویڈیو کا دوسرا حصہ جس میں پی پی پی کے محمد علی شاہ باچا سگریٹ سلگا رہے ہیں، 2015 میں فلمایا گیا جبکہ باقی حصہ جس میں پیسے دیے جا رہے ہیں ، یہ 2018 کی ویڈیو ہے۔‘
ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’اس قسم کی مزید ویڈیوز بھی سامنے آئیں گی، جن میں باقی اراکین اسمبلی کو پیسے لیتے ہوئے دیکھا جا سکے گا۔‘ ذرائع کا کہنا یے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ویڈیو کے جس حصے میں پیسے دیے جا رہے ہیں، یہ سپیکر ہاؤس ہی ہے اور اس بات کی تصدیق کوئی بھی موقع پر جا کے کر سکتا ہے کہ یہ ویڈیو سپیکر ہاؤس کی ہی ہے۔
دوسری طرف قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے اپنی ایک ٹویٹ میں تردید کی ہے کہ یہ ویڈیو سپیکر ہاؤس کی ہے۔اسد قیصر نے لکھا: ’خفیہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی جگہ سپیکر ہاؤس پشاور ہے اور نہ میرا اس معاملے سے کوئی لینا دینا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انہیں 2018 میں چیئرمین عمران خان نے بتایا کہ اس طرح کا لین دین ہوا ہے اور ساری پارٹی کا فیصلہ تھا کہ ان ارکان کے خلاف کارروائی کی جائے، انہوں نے کہا کہ مجھ پر الزامات صرف معاملے سے توجہ ہٹانے کی بھونڈی کوشش ہے۔‘
وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات کے لیے ایک حکومتی کمیٹی تو تشکیل دے دی ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اس بات کی تحقیقات ہی نہیں کرنی کہ رشوت دینے والے حکومتی لوگ کون تھے تو پھر ایسی تحقیقات کا کوئی فائدہ نہیں۔
