رشوت وصولی کی ویڈیو عمران کے کہنے پر لیک ہونے کا انکشاف


معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں منظر عام پر آنے والی خیبرپختونخوا اسمبلی کے ممبران کی رشوت وصول کرنے کی ویڈیو وزیراعظم عمران خان کی مرضی سے جاری کی گئی ہے تاکہ آنے والے سینٹ الیکشن میں اپنے اراکین پر دباؤ ڈالا جاسکے اور اگلا الیکشن خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ پر کروانے کے لیے رائے عامہ ہموار کی جا سکے.
باخبر حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ ویڈیو 2018 میں ہی وزیراعظم عمران خان کو دکھا دی گئی تھی لیکن انہوں نے تب سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے خاموشی اختیار ک۔ تاہم اب جب کہ وفاقی حکومت سینٹ الیکشن میں لوٹا کریسی روکنے کے لئے اپنے اراکین اسمبلی کو ساتھ رکھنے کے لیے خفیہ رائے شماری کے بجائے اوپن بیلٹ پر الیکشن کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے، اس ویڈیو کو مارکیٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ویڈیو کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ وفاقی وزیر فواد چودھری کی تجویز پر کیا گیا۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ ویڈیو جاری کر کے حکومت نے اپنے لیے ایک نئی مشکل کھڑی کر دی ہے چوںنکہ پیسے وصول کرنے والے کم از کم دو سابق اراکین صوبائی اسمبلی نے یہ دعوی کر دیا یے کہ انہیں ایک ایک کروڑ روپیہ تب کی صوبائی حکومت نے سپیکر ہاؤس میں بلا کر دیا اور پیسے تقسیم ہوتے وقت تب کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور اسپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر بھی وہاں پر موجود تھے۔
دوسری طرف ویڈیو مارکیٹ ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان بھی سفید جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ جب یہ ویڈیو مارکیٹ ہونے کے بعد وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنے اراکین نے اسمبلی کے خلاف 2018 میں الیکشن کیوں نہیں لیا تھا تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وہ اس حوالے سے کچھ نہیں جانتے تھے اور انہیں ابھی یہ ویڈیو دکھائی گئی ہے۔ تاہم جیو ٹی وی نے وزیراعظم عمران خان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ان کی 2018 کی اس تقریر کی ویڈیو چلا دی جس میں وہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے اراکین اسمبلی کی رشوت وصول کرنے کی ویڈیو موجود ہے اور وہ جھوٹی قسم کھانے والوں کو اور خود کو معصوم کہنے والوں کو ویڈیو دکھانے کو تیار ہیں۔
تاہم رشوت وصولی کی یہ ویڈیو مارکیٹ ہونے کے بعد بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دو منٹ گیارہ سیکنڈ دورانئے پر مبنی اس ویڈیو میں عوامی نمائندوں کے سامنے نوٹوں کا ڈھیر لگا ہواہے اور بھاؤ کے بعد نوٹ بیگوں میں ڈال کر دینے کے مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ حکومت نے یہ ویڈیو تو جاری کر دی لیکن جب اس میں خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیر قانون سلطان محمد خان کے بھی نظر آنے پر شور مچا تو ان سے استعفیٰ لے لیا گیا۔ اس استعفے کے بعد سے اب حکومتی اراکین یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ رشوت لینے کی ویڈیو نے ان کا یہ موقف درست ثابت کردیا ہے کہ سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے ہونا چاہئے نہ کہ خفیہ بیلٹ پر۔ لیکن دوسری طرف عوامی حلقوں میں بحث ہو رہی ہے کہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب تحریک انصاف حکومت اوپن بیلٹنگ کے حق میں بات کرتے ہوئے صدارتی ریفرنس بھیج کر سپریم کورٹ کی رہنمائی حاصل کر رہی ہے۔ لہذا اسکو جاری کرنے میں یقینا حکومت کا اپنا ہاتھ ہے۔ باخبر حکومتی ذرائع کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ ویڈیو حکومت نے تیار کی تھی اور وزیراعظم کے پاس پہلے سے موجود تھی جسے اب موقع دیکھ کر لیک کیا ہے۔ یہ بھی اعتراض کیا جارہا ہے کہ عمران خان کے پاس اگر یہ ویڈیو پہلے سے موجود تھی تو پھر بھلا کیسے انہوں نے سابق وزیر قانون سلطان محمد خان کو کابینہ کا حصہ بنایا۔ یاد ریے کہ 2018 میں بھی اپنی پارٹی کے 20 لوگ نکالتے وقت عمران خان نے بڑے وثوق سے کہا تھا کہ ان کے پاس پکے ثبوت ہیں کہ کس نے ووٹ بیچا ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں بھی وہی چہرے ہیں، جن کو ووٹ بیچنے کے الزام میں نکالا جا چکا ہے۔
اس حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایک موجودہ رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘یہ ویڈیو ایک ٹریلر ہے جس کا بقیہ حصہ آنا ابھی متوقع ہے۔’ انہوں نے کہا کہ اگر ویڈیو غور سے دیکھی جائے تو اس میں ایک بااثر شخصیت کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جن کا نام لینے سے میڈیا کترا رہا ہے۔اگر یہی کڑیاں ملائی جائیں اور یہ کہا جائے کہ یہ ویڈیو عمران خان کے پاس پہلے سے موجود تھی تو وہ سلطان محمد خان کے حوالے سے کیوں خاموش رہے؟
اس حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے بتایا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ویڈیو کہاں سے آئی ہے البتہ وزیر اعظم کو نکالے گئے 20 افراد سے متعلق یقینی اطلاع خود پارٹی کے اندر سے ملی تھی، جسے بعد ازاں ووٹوں کی گنتی نے صحیح ثابت کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ‘تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے عبید اللہ مایار کے بیانات بھی دروغ گوئی پر مبنی ہیں کیونکہ نہ تو یہ سپیکر ہاؤس ہے اور نہ ہی ویڈیو میں نظر آنے والے لوگوں کا سپیکر ہاؤس آنا جانا تھا۔’ بقول کامران بنگش: ‘جن لوگوں کی پانچ سالہ کارکردگی پہلے ہی اچھی نہیں تھی اور ان کے اپنے حلقوں سے جیتنے کا کوئی امکان نہیں تھا، ان کو ہی تحریک انصاف الیکشن کے لیے کروڑوں روپے بھلا کیوں دیتی؟ انیون نے کہا کہ یہ سپیکر ہاوس نہیں ہے بلکہ ایک ذاتی رہائش گاہ ہے، جہاں ان لوگوں کو پیپلز پارٹی کی جانب سے پیسے دیے گئے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نگہت اورکزئی نے اس ویڈیو کو رد کرتے ہوئے اسے حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے ایک ‘سازش’ قرار دیا ہے۔ کامران بنگش کے بیانات کے ردعمل میں نگہت اورکزئی نے کہا کہ ‘یہ ایک ٹمپرڈ ویڈیو ہے، جسے ایڈیٹنگ کرکے موجودہ شکل دی گئی ہے۔’ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی ہارس ٹریڈنگ پر یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی انہیں سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ان چار پانچ ارکان کی حمایت درکار تھی جو ویڈیو میں نظر آرہے ہیں۔ بقول نگہت اورکزئی: ‘پی ٹی آئی کو اپنے نمائندوں پر اعتبار نہیں ہے اور ملک میں رواں سیاسی حالات کے تناظر میں وہ آئین میں کسی ترمیم کی صلاحیت بھی کھوچکے ہیں، لہذا عمران خان کی حکومت نے اپنی اوپن بیلٹنگ والی بات منوانے کے لیے پہلے صدارتی آرڈیننس کا سہارا لیا اور اب اس ویڈیو کو سامنے لاکر عدالت عظمیٰ پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے حق میں فیصلہ آجائے۔’ نگہت اورکزئی کے مطابق تحریک انصاف نے اپنے اس ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے اپنے ہی ارکان کو قربانی کے بھینٹ چڑھا دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے سینیٹرز کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کاروائی کا ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی اس ویڈیو کے مصدقہ ہونے پر یقین رکھتی ہے۔
یہ ویڈیو، جو بظاہر دو حصوں میں تقسیم ہے، میں دو مختلف مقامات دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک حصے میں ایک لاؤنج ہے، جس میں میز کے اوپر نوٹوں کے بنڈل رکھے گئے ہیں اور جنہیں پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی بیگوں میں ڈالتے جارہے ہیں جبکہ دوسرے حصے میں ایک دفتر میں پیپلز پارٹی کےایم پی اے محمد علی شاہ باچاسگریٹ کے کش لگاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کے سامنے بھی نوٹوں کے بنڈل نظر آرہے ہیں۔ اس ویڈیو کے حوالے سے کئی سوالات جواب کے منتظر ہیں لیکن ان پر کوئی بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جبکہ جو بیانات اب تک سامنے آئے ہیں، انہوں نے مزید سوالوں کو جنم دے دیا ہے۔ جیسے کہ ویڈیو ریکارڈ کس نے کی تھی؟ اور اتنا عرصہ خاموش رہنے کے بعد ایک ایسے وقت میں یہ ویڈیو کیوں لیک کی گئی جب کہ سینیٹ الیکشن میں بہت کم وقت رہ گیا ہے اور اوپن بیلٹ کا طریقہ کار اپنانے کی بات بھی ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ اس ویڈیو کو لیک کرنے سے کس کو کیا فائدہ یا نقصان ہوگا؟
ایک سوال یہ بھی ہے کہ ویڈیو اتنا عرصہ سنبھال کر رکھنے والے اگر اتنے ہی اصول پسند اور ایماندار تھے تو وہ خیبر پختونخوا کے فارغ کر دیے جانے والے وزیر قانون کے حوالے سے تین سال تک خاموش کیوں رہے جب کہ وہ بھی اس ویڈیو میں صاف نظر آرہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ آیا قومی احتساب بیورو اس بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا آغاز کرے گا؟ یا تحریک انصاف کی حکومت اپنی صفوں میں موجود بدعنوان عناصر اور سیاست میں استعمال ہونے والی رقوم کے حوالے سے تحقیقات شروع کرنے کے لیے نیب کو مینڈیٹ دے گی؟
اس سے پہلے مردان کے سابق رکن صوبائی اسمبلی علی عبیداللہ مایار نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ نقد رقم اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی موجودگی میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کی سرکاری رہائش گاہ پر تقسیم کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو نقد رقم تقسیم کرنے کے معاملے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں متعدد میٹنگز میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سینیٹر فدا محمد خان نے سینیٹ کے انتخابی مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ خود قانون سازوں کے اس پینل میں تھے جو پی ٹی آئی کے ایک اور نامزد اُمیدوار ایوب آفریدی کو ووٹ دینے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔
عبید اللہ مایار کے ان بیانات کی حمایت ایک اور سابق ایم پی اے زاہد درانی نے کی جسے ویڈیو میں عبید اللہ مایار کے ساتھ بیٹھا دیکھا جاسکتا ہے۔ زاہد درانی نے کہا کہ وہ اسپیکر کے گھر پر تھے جسے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ‘مویشی منڈی’ میں تبدیل کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی سرکاری رہائش گاہ پر یہ نقدی قانون سازوں میں تقسیم کی گئی اور انہوں نے ایک کروڑ روپے کی نقد پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے مجھے بتایا تھا کہ آپ اس رقم کو پارٹی کے جھنڈے لگانے اور اپنے حلقے میں دیگر سرگرمیاں کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں’۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ اپوزیشن اور حکمران جماعتوں کے دونوں ممبران نقد وصول کرنے کے لیے اسپیکر کے گھر گئے تھے۔ لیکن قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر جو اس وقت کے پی اسمبلی کے اسپیکر تھے، نے اس سے انکار کیا کہ ان کی نگرانی میں اسپیکر کے گھر پر یہ نقدی قانون سازوں کو تقسیم کی گئی تھی۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے اصرار کیا کہ نہ تو ویڈیو میں دکھائی جانے والی جگہ اسپیکر کا گھر ہے اور نہ ہی اس معاملے سے ان کا کوئی لینا دینا ہے۔ تاہم ان کے سابق ساتھیوں کا اصرار ہے کہ اسد قیصر ہمیشہ کی طرح جھوٹ بول رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button