رشی کپور کی پاکستان آنے کی خواہش دل میں ہی رہ گئی

پہلے کپور خاندان کے سربراہ راج کپور، ان کے بعد شمی کپور، پھر ششی کپور اور اب رِشی کپور بھی آنجہانی ہوگئے۔ فلم بابی سے شہرت پانے والے رشی کپور اپنی زندگی کے آخری برسوں میں سوشل میڈیا پر اپنی متنازعہ پوسٹس کی وجہ سے خبروں میں ہمیشہ ان رہے۔ تاہم مدھوبالا کے ساتھ ہیرو آنے، رنبیر کے سر پر سہرا دیکھنے اور پاکستان آنے کی خواہش دل میں دبائے ہی اس دنیا سے چلے گے۔
سڑسٹھ برس کی عمر میں کینسر کے باعث موت کی وادی میں اترنے والے لیجنڈری اداکار رشی کپور کے سوگوران میں اہلیہ نیتو سنگھ، بیٹا رنبیر کپور اور بیٹی ردہما کپور شامل ہیں۔ گزشتہ برس لیجنڈ اداکار کی اہلیہ نیتو سنگھ نے رشی کپور کی بیماری سے متعلق انکشاف کیا تھا کہ انہیں کینسر کا عارضہ لاحق ہے جس کے بعد رشی نیویارک سے علاج کرانے کے واپس بھارت آگئے تھے حتیٰ کہ ڈاکٹرز نے انہیں کینسر فری قرار دے دیا تھا۔ تاہم عرفان خان کی طرح اچانک موت کا شکار ہونے والے رشی کپور بھی ان کے انتقال کے اگلے روز اچانک اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔
امریکہ سے علاج کروا نے کے بعد وطن واپس آکر رشی کپور نے امیتابھ بچن کے ساتھ 102 ناٹ آؤٹ نامی فلم بھی مکمل کی لیکن دوبارہ سے انفیکشن کا شکار ہوگئے اور جانبر نہ ہوسکے۔ رشی کپور نے صرف اپنی شاندار اداکاری سے ہی نام نہیں کمایا بلکہ سوشل میڈیا پر مخالفین کے بارے میں آگ اگلنے کے باعث ہمیشہ خبروں میں ان رہے۔ رشی نے فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اپنے مخالفین کے خوب لتے لئےاور اپنے بے باک مؤقف کے باعث متعدد دفعہ تنازعات کا شکار بھی ہو ئے۔ کچھ عرصہ قبل مہاراشٹر میں گائے کے گوشت پر پابندی لگی تو رشی نے کٹر ہندو ہونے کے باوجود ببانگ دہل کہا تھا کہ صرف گائے کے گوشت پر پابندی کیوں؟؟حکومت مرغی ،بکرے اور مچھلی کے گوشت پربھی پابندی کیوں نہیں لگا دیتی۔ رشی اکثر کہتے تھے کہ یہ جمہوریت کا دور ہے اور مجھے جو صحیح لگے گا میں وہی بولوں گا۔ میرے کچھ بھی لکھنے یا بولنے سے کسی کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ٹوئٹر پر اپنے ساتھ جھگڑا کرنے اور ان کا مذاق اڑانے والوں کے بارے میں رشی کپور کا یہی جواب ہوتا تھا کہ ان کو میں اتنی اہمیت نہیں دیتا، کیونکہ جب کوئی اہم شخصیت ان کو جواب دے تو یہ لوگ خود کو اہم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور میں ان کو یہ خوشی نہیں دے سکتا۔
اس دوران رشی نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ وہ اپنے اکاؤنٹ پر اب تک 5 ہزار سے زائد افراد کو بلاک کرچکے ہیں۔ اس معاملے میں ان کا سادہ اصول تھا کہ جس نے میرے خاندان کے بارے میں کچھ برا کہا یا کوئی اور غلط حرکت کی تو میں اسے بلاک کردوں گا۔ یہی نہیں بلکہ وہ عدم برداشت کی وجہ سے کبھی صحافیون سے تو کبھی مداحوں سے سیلفی بنانے پر جھگڑتے نظر آئے حتیٰ کہ سونم کپوراور آنند کے استقبالیہ میں مناسب طریقے سے مبارکباد نہ دینے پر سلمان خان کے بھائی اور بھابھی پر بھی برس پڑے تھے۔ رشی ان تمار تر خامیوں کے باوجود سچے اور کھرے انسان تھے۔ بے شرم وہ واحد فلم ہے جس میں رشی اپنے بیتے اور بیوی کے ساتھ نظر آئے تاہم فلم میں کام کرنے کے بعد رشی اس کی کہانی کے خلاف کھل کر بولے کہ فلم ’’بے شرم‘‘ بارے جب بھی مجھ سے کوئی سوال کیا جاتا ہے میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
اگرچہ رشی کپور عمر بھر اپنے بیٹے کو سنجے دت کے ساتھ زیادہ میل ملاپ بڑھانے سے روکتے رہے لیکن حال ہی میں جب سنجے دت کی زندگی پر بننے والی فلم سنجو ریلیز ہوئی اور اس میں رنبیر کپور کی اداکاری کو سراہا گیا تو اپنے بیٹے کی مسلسل ناکامیوں کے بعد تعریفیں سن کر رشی کپور بھی پھولے نہیں سمارہے تھے۔ اس سے قبل وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں وہ اپنے بیٹے کی فلموں کے اچھا ناقد تو نہیں لیکن عام طور پر مجھے رنبیر کی فلمیں پسند نہیں آتیں۔ فلم’’جگا جاسوس‘‘کی ناکامی کے بعد رشی کپور نے میوزک ڈائریکٹر پریتم کو کھری کھری سنائی تھیں جس کے باعث وہ شرمندہ ہوگئے تھے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ رنبیر کو کام دلوانے کے لئے رشی سے جو بن پایا وہ کیا۔ بقول رنبیر ان کے پاپا نے ایک مرتبہ ہدایتکار راجکمار ہیرانی کی والدہ کے پاؤں صرف اس لئے پکڑ لئے تھے کہ وہ اپنے بیٹے سے کہہ کر رنبیر کو فلم میں کاسٹ کرلیں۔ چند برس قبل جب ماہرہ خان اور رنبیرکپور کی سگریٹ پیتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تنقید کا طوفان اٹھا تو رشی کپور نے اس معاملے میں بیٹے کو بھرپور ساتھ دیا تھا۔ بولے میرا بیٹا جوان اورغیر شادی شدہ ہے، وہ جس سے چاہے مل سکتا اور جسے چاہے دوست بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہا دونوں کسی عمارت کے باہر سگریٹ نوشی کر رہے ہیں، ممکن ہے اندر سموکنگ کی اجازت نہ ہو۔ رشی کپور کو اپنے بیٹے رنبیر اور کترینہ کے رشتے پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ وہ زندگی بھر منتظر رہے کہ کب دونوں شادی کا حتمی فیصلہ کریں گے۔
رشی کپور نے اپنے زمانے کی مشہور ہیروئن نیتو سنگھ سے 1980 میں شادی کی تھی۔ تاہم مرنے پہلے وہ یہ انکشاف کر گئے تھے کہ وہ دراصل نیتو سنگھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ دنوں کا تعارف فلم کے سیٹ پر ہی ہوا اور اس کے بعد دونوں نے بہت سی فلمیں ایک ساتھ کیں اوراچھے دوست بن گئے لیکن بقول نیتو رشی کپور ان دنوں اچھے خاصے دل پھینک تھے اس لئے نیتو کے ساتھ کافی عرصہ فلرٹ کرتے رہے لیکن دونوں میں آہستہ آہستہ دوستی اتنی گہری ہوتی گئی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی شادی کا فیصلہ کر لیا۔
رشی کپور کی بہت سی خواہشات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ اپنے وقت کی کامیاب اور خوبصورت اداکارہ مدھوبالا کے ساتھ کام کریں، لیکن ان کی یہ خواہش حسرت ہی رہی۔ لیجنڈری اداکار رشی کپور نے 150 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 1970 میں راج کپور کی فلم ’میرا نام جوکر‘ سے کیا جس میں انہوں نے اپنے والد کے ہی بچپن کا کردار ادا کیا تھا۔اس کے بعد انہوں نے پہلی مرتبہ فلم ’بابی‘ میں مرکزی کردار ادا کیا جس سے انہوں نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ رشی کپور نے متعدد مقبول فلموں میں کام کیا جس میں لیلیٰ مجنوں، چاندنی، حنا، بول، یہ وعدہ رہا، ہم کسی سے کم نہیں، بدلتے رشتے، عجوبہ، چاندنی، امر اکبر انتھونی، دیوانہ اور دیگر مشہور فلمیں شامل ہیں۔ رشی کپور نے آخری مرتبہ 2018 میں فلم ’102‘ ناٹ آؤٹ میں اداکار امیتابھ بچن کے ساتھ کام کیا تھا جس کے بعد سے ان کی طبیعت ناساز ہوگئی تھی۔انہوں نے اپنے فلمی کیرئیر میں متعدد لیجنڈری اداکاروں سمیت نئے نوجوان اداکاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔رشی کپور نے اپنی بہترین اداکاری سے مداحوں کے دلوں میں گھر کرتے ہوئے فلم فیئر، نیشنل فلم ایوارڈز سمیت کئی اعزاز بھی اپنے نام کیے۔
رشی کپور کا پاکستان سے ایک عجیب تعلق تھا۔ کپور خاندان نے پشاور سے ہندوستان ہجرت کی اس لئے رشی کپور کے دل کے کسی نہ کسی کونے میں پاکستان بھی دھڑکتا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ اگر شمالی اور جنوبی کوریا میں دوستی ہوسکتی ہے تو انڈیا اور پاکستان کیوں ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ چند سال قبل ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں رشی کپور نے کہا تھا کہ میرا وعدہ ہے کہ ہم سب پاکستان آئیں گے بشرطیکہ دونوں ملکوں کے حالات ٹھیک ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پر امید ہوں کہ اپنی زندگی میں ایک بار پاکستان ضرور آؤں گا۔ تاہم زندگی نے وفا نہ کی اور رشی پاکستان دیکھنے کی خواہش دل میں ہی لئے اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔
