رفح پر وحشیانہ حملہ، اقوام متحدہ کے ماہرین کا اسرائیل پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

فلسطینی سرزمین میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانی سمیت اقوام متحدہ کے 50 سے زائد ماہرین نے رفح پر وحشیانہ بمباری کے بعد اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے سمیت متعدد پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے 50 سے زائد ماہرین نے منگل کے روز غزہ کے محفوظ ترین مقام رفح پر اسرائیل وحشیانہ بمباری کے بعد اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی بمباری سے رفح کے پناہ گزین کیمپ میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں رفح خیموں میں عارضی پناہ لینے والے 45 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ درجنوں جھلس کر زخمی ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے بیان میں واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رفح میں ہونے والی تباہی کے دوران لوگوں کی دلخراش تصویریں سامنے آئی ہیں جن میں نوزائیدہ بچوں کے جسمانی اعضاء اور لوگوں کو زندہ جلتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس حملے کی کوئی وجوہات نہیں تھیں اور یہ ایک بلاامتیاز کارروائی تھی جس کے نتیجے میں ہولناک تباہی دیکھی گئی اور لوگ جلتے ہوئے پلاسٹک کے خیموں کے اندر پھنسے رہے۔
ماہرین نے غزہ پر اسرائیلی حملے روکنے میں عالمی برادری کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہےکہ اسرائیل کی جانب سے یہ وحشیانہ حملے جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
ماہرین کی جانب سے رفح پر حملے کی آزادانہ تحقیقات کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے سمیت دیگر پابندیاں فوری طور پر عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ظلم، بین الاقوامی قانون اور نظام کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، یہ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں نسل کشی بیرونی دباؤ کے بغیر آسانی سے ختم نہیں ہوگی۔ اسرائیل کو پابندیوں، انصاف، تجارت، شراکت داری اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کی معطلی کا سامنا کرنا ہو گا۔
واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف کے جنگ بندی اور حملے روکنے کے حکم کے باوجود منگل کے روز اسرائیل کے ٹینک پہلی بار رفح میں داخل ہو گئے جہاں لاکھوں فلسطینیوں نے حملوں کے لیے پناہ لی ہوئی ہے۔ اسرائیلی حملے میں 24 گھنٹوں کے دوران 230سے زائد فلسطینیوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس سے قبل اسرائیل نے جبالیہ، نصیرت اور غزہ سٹی میں کیمپوں پر حملوں میں 160 فلسطینیوں کا قتل کیا۔

Back to top button