رمضان ٹرانسمیشن نے احسن خان کی زندگی کیسے بدلی؟

معروف ٹی وی سٹار احسن خان نے انکشاف کیا ہے کہ رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کے بعد ان کی نجی زندگی بالکل تبدیل ہو گئی ہے، وہ سکالرز کی باتوں کا واپس گھر جا کر مطالعہ بھی کرتے ہیں جب فلسطین کی بات کرتے ہیں تو یہ ممکن نہیں کہ کوئی انسان اس سے دُکھی نہ ہو، کوئی مردہ انسان ہی ہوگا جسے فلسطین کے بارے میں نہ معلوم ہو۔انہوں نے بتایا کہ فلسطین کی حالت دیکھ کر سوچتا ہوں کہ اللہ کی ہمارے اوپر کتنی رحمت ہے، فلسطین میں ہونے والے ’’نسل کشی‘‘ کے دوران اداکاروں کی جانب سے ایوارڈز شو میں شرکت یا پرفارمنس کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید پر بھی احسن خان نے کھل کر گفتگو کی۔اداکار نے کہا کہ ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پبلک ہیں تو لوگوں کو یہ حق ہے کہ وہ ہم سے سوال کریں، لیکن ہماری ذاتی زندگی میں کیا چل رہا ہے وہ ہر وقت سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کرسکتے، مظلوم پر جب ظلم ہوتا ہے تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس پر آواز اٹھائیں، مجھے ان کی توقعات سے کوئی اختلاف نہیں، ہاں یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ کسی کے دباؤ میں آکر وہ آواز اٹھائیں یا نہ اٹھائیں۔احسن خان نے کہا کہ وہ خود دنیا میں ہونے والے مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں، چاہے وہ پاکستان میں مسیحی برادری سے متعلق ہوں یا بچوں کیساتھ ہراسانی کے واقعات ہوں، انہوں نے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے، جب آپ کے پاس پلیٹ فارم ہے تو اس کا فائدہ اٹھائیں اور اپنی آواز دنیا تک پہنچائیں۔رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کے بارے میں احسن خان نے کہا کہ انہیں رمضان شو کی میزبان کرنے میں بہت مزہ آتا ہے، میری فیملی میں دینی ماحول زیادہ ہے اس لیے بچپن سے اس مہینے کا احترام سکھایا گیا، کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کریں گے کیونکہ ان کا کام اداکاری، فلمیں اور ٹی وی ہے، وہ رمضان شو میں آنے والے سکالرز سے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں، شو کے دوران مذہبی سکالرز کی جانب سے دی گئی آگاہی کا واپس گھر جا کر مطالعہ کرتا ہوں، میں اس کام میں بہت سنجیدہ ہوں۔بطور اداکار رمضان شو کی میزبانی پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید پر احسن خان نے کہا کہ میں اس شو کا صرف میزبان ہوں کوئی اسکالر نہیں ہوں، مجھے لگتا ہے کہ رمضان ٹرانسمیشن کرنے کیلئے میری نجی زندگی میں بہتری آئی، یعنی میرا اللہ سے تعلق مزید گہرا ہوا ہے، اگر میں یہ میزبانی نہ کرتا تو میری زندگی میں خلل ہوتا۔بیٹی کی پیدائش کے حوالے سے بتایا کہ یہ بہت خوبصورت احساس ہے، یہ اللہ کی رحمت ہے، مجھے بچے بہت پسند ہیں، اس لیے گھر میں ایک یا دو بچے بہت کم ہوتے ہیں، اگر آپ بچوں کی اچھی پرورش کرسکتے ہیں تو زیادہ بچے ہونا بُری بات نہیں ورنہ آج کل کے تو حالات بہت خراب چل رہے ہیں۔

Back to top button