رمیز راجہ کا جواری کھلاڑیوں کو جیل بھجوانے کا مطالبہ

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سابق کرکٹر سلیم ملک کو معافی دے کر بورڈ میں کوئی عہدہ دینے کی افواہوں کے بعد سابق کپتان رمیز راجہ نے بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو دوبارہ موقع دینے کی بجائے ان کو جیل بھجوا کر نشان عبرت بنا دینا چاہیے۔
سلیم ملک کو بورڈ میں کوئی عہدہ دئیے جانے کی تجویز اورعمر اکمل پر تین سال کی پابندی بارے تبصرہ کرتے ہوئے سابق کپتان رمیز راجہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا کہ جواریوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ان کو نشان عبرت بنایا جانا چاہئے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث تمام موجودہ اور سابقہ پاکستانی کھلاڑیوں کو جیل بھجوا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سلیم ملک اور عمر اکمل بھی فکسنگ کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ اگر سخت ترین کاروائی کرتے ہوئے ایسے جواریوں کو جیل کا راستہ نہ دکھایا گیا تو پھر بورڈ کو مستقبل میں بھی اس طرح کے مذید واقعات کے لیے تیار رہنا چاہئے۔
رمیز راجہ نے اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمر اکمل نے بھی اب اپنا نام اب فکسنگ کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں لکھوا لیا ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ انہوں نے کیا سوچ کر یہ حرکت کی، رمیز نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ عمر نے احتیاط کیوں نہیں برتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بکی کی پیشکش کو رپورٹ نہ کرنا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا کہ میچ فکسنگ کرنا کیونکہ جیسے ہی آپ ریڈ لائن عبور کرتے ہیں تو آپ کو سزا ملنی ہی ملنی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرکٹ فکسنگ کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ اور پاکستانی کرکٹ اس طرح کی مزید میچ فکسنگ کی خبروں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
رمیز راجہ نے کہا کہ کم عمری سے ہی عمر اکمل کے پاس پیسہ، ہنر، شہرت سب کچھ تھا لیکن شاید اسکی صحبت ٹھیک نہیں تھی۔ ہم بار بار اپنے جونیئر کو سمجھاتے رہے ہیں کہ کھیل کے سفیر کی حیثیت سے آپ کی کیا ذمے داری بنتی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ عمر کی نظر میں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا۔ رمیز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی میچ فکسنگ کی تاریخ سب کے سامنے ہے، ہر عہد، ہر سیزن میں ایسی کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہوتی رہی ہے لیکن موجودہ دور کے کھلاڑیوں نے ماضی کے کھلاڑیوں سے بھی کچھ نہیں سیکھا جنہوں نے غلط ذرائع سے پیسہ کمانے کی بجائے ملک کے لئے عزت کمائی۔
رمیز راجہ نے شائقین کرکٹ اور پاکستانی معاشرے سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی کہ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو معافی نہ دیں کیوں کہ یہ کھلاڑی ایسی حرکت کر کے پاکستان کا نام ڈبوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک آدھ کیس ہو تو شاید ہم انہیں معاف بھی کردیں لیکن ہماری میچ فکسنگ کی تاریخ 20 سے 25 سال پرانی ہے جس سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا لہٰذا ایسے جرم کی کوئی معافی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے کیوں کہ پاکستان کرکٹ کو بہت ٹھیس پہنچ چکی ہے، ہم نے بہت مرتبہ معافی تلافی کر لی لیکن ہمیں اس کے بدلے میں کچھ نہیں ملتا۔ سابق کپتان نے کہا کہ مجھے عمر اکمل کے حوالے سے اس لیے زیادہ تکلیف پہنچی کیونکہ ان کے پاس ٹیلنٹ تھا لیکن اب ان پر پابندی لگ چکی ہے اور اس حرکت سے انہوں نے ناصرف اپنا بلکہ اپنے اہلخانہ کا نام بھی ڈبویا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button