رمیش کمار کو دلا کہنے والے شہباز گل کا اپنا کردار کیاہے؟

وزیراعظم عمران خان کے زبانن دراز معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کو ایک لائیو ٹی وی پروگرام میں گندی گالیاں دینے کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ عمران خان کے خلاف بغاوت کر جانے والے حکومتی جماعت کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کا شہباز گل کے ساتھ ایک ٹی وی پروگرام میں آمنا سامنا ہوا تھا جہاں موقع ملتے ہی اپنی سیاسی تربیت کے عین مطابق شہباز گل نے رمیش کو گندی گالیاں بکنا شروع کر دیں اور انہیں مسلسل "دلا” کہہ کر مخاطب کیا۔ رمیش کمار کا موقف تھا کہ انہوں نے عمران خان سے اصولی اختلاف کی بنا پر ان کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم شہباز گل تحمل سے ان کی بات کا جواب دینے کی بجائے گالیاں دینے پر اتر آئے اور کم از کم دس مرتبہ انہیں "دلا” کہہ کر بلایا۔ اس ٹی وی پروگرام کی ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد شہباز گل ہر جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہیں اور انکی مذمت کی جا رہی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کی جانب سے اقلیتی رکن قومی اسمبلی کو گالیاں دینے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف نے گالیاں بکنے کے علاوہ منتخب رکن قومی اسمبلی کو دھمکیاں بھی دیں جن کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے اور شہباز گل کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ شہباز گل نے رمیش کمار کو صرف اس لئے گالیاں دیں کہ وہ اقلیتی رکن قومی اسمبلی ہیں اور اس ملک میں اقلیتی کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی ہی کی رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ نے بھی سندھ ہاؤس اسلام آباد میں قیام پذیر ارکان قومی اسمبلی کے لیے غیر اخلاقی الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ کہ سندھ ہاؤس کو رنڈیوں کا چکلہ بنا دیا گیا ہے، شہباز گِل اور عالیہ حمزہ کی ٹی وی پروگرامز میں کی گئی نازیبا گفتگو پر لوگ سراپا احتجاج ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اپنے کپتان والی ہی گندی زبان استعمال کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گالی کا کلچر متعارف کروانے والے عمران خان کی ٹیم کے تقریبا تمام اراکین ہی گالیاں دینے میں مہارت رکھتے ہیں اور ان کے اسی ٹیلنٹ کی وجہ سے کپتان انہیں اپنے قریب رکھتا ہے۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین نے دنیا ٹی وی کے پروگرام اینکر کامران شاہد کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ کا ٹی وی پروگرام خاندان کے تمام افراد دیکھتے ہیں جن میں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی شامل ہوتی ہیں، ایسے میں اگر ایک بدزبان شخص نے گندی گالیاں بکنا شروع کر دی تھیں تو اسکی بکواس بند کرنا میزبان کا فرض تھا لیکن موصوف نے اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کی غرض سے سے کوئی مداخلت نہ کی اور چپ سادھ کر گالیاں سنتے رہے۔ ایک اور صارف سحر انور نے ٹویٹ میں لکھا کہ کیا لائیو نیشنل ٹی وی پر اس طرح کی بازاری زبان استعمال کرنے والے گندے شخص کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہوگی یا نہیں؟ یاد رہے کہ کامران شاہد کے پروگرام میں موجود مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان اسمبلی عظمیٰ بخاری اور شہلا رضا نے شہباز گِل کی بکواس کے بعد بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف ضیاء جان نے لکھا کہ رمیش کمار دلا قرار دینے والے شہباز گل کا اپنا کردار یہ ہے کہ اسے ماضی میں اسلام آباد کی دو یونیورسٹیوں سے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے پر برخاست کیا گیا۔ موصوف پر وزیراعظم عمران خان کا معاون خصوصی بننے کے بعد دوائیوں کے کاروبار میں اربوں روپے کمانے کا الزام ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ شہباز گل نے گالیوں کی زبان میں اپنے سیاسی مخالفین کو جواب دیا ہو۔
