رنگ گورا کرنے والی فیئر اینڈ لولی کریم کو اب نام بدلنا ہوگا


رنگ گورا کرنے والی مشہور زمانہ فیس کریم "فیئر اینڈ لولی” بنانے والوں نے اپنے برانڈ کے متعصبانہ نام پر شدید تنقید ہونے کے بعد کریم کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کبھی کہا جاتا تھا گورےرنگ کا زمانہ کبھی ہو گا نہ پرانا۔۔ لیکن امریکہ میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت اور اس کے نتیجے میں چلنے والی ’بلیک لائیوز میٹر‘ یعنی ’سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی اہم ہیں‘ کی تحریک کے نتیجے میں لگتا ہے کہ سیاہ یا گندمی رنگت کا زمانہ آنے والا ہے اور مستقبل قریب میں خوبصورتی کا معیار گوری رنگت نہیں رہے گی اور ہر کوئی گنگناتا نظر آئے گا کالا سیاہ کالا۔۔۔ میرا کالا ہے دلدار تے گوریاں نوں پراں کرو۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں عمومی طور پر گوری رنگت کو خوبصورتی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان ہو یا انڈیا اکثر نوجوان لڑکیاں اپنی رنگت نکھارنے اور خود کو گورا کرنے کے لیے کئی پاپڑ بیلتی ہیں۔ رنگت نکھارنے والی اکثر کریموں کو ’فیئر اینڈ لولی‘ کہہ کر ہی پکارا جاتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں رنگ گورا۔کرنے والی کریم کا سب سے بڑا برینڈ یہی ہے۔ ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں رنگ گورا کرنے والی کریموں کی کمائی اربوں روپے ہوتی ہے اور گزشتہ چند سال سے ایسی مصنوعات کو نسلی تعصب کے خلاف قرار دے کر ان کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا جاتا رہا ہے۔
تاہم امریکہ میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت اور اس کے نتیجے میں چلنے والی ’بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک شروع ہونے کے بعد امریکہ میں تین پاکستانی سہیلیوں نے صرف 2 ہفتے کی تحریک کے بعد "فئیر اینڈ لولی” بنانے والی کمپنی سے منوالیا ہے کہ صرف فیئر ہی لولی نہیں ہوتا اورصرف سفید رنگت یا گورے پن کو خوبصورتی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ یونی لیور نے عوامی دباؤ کے بعداپنی مشہور زمانہ کریم فئیر اینڈ لولی کا نام بدلنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکہ کی ریاست ہیوسٹن میں مقیم انعم نے امریکہ کی مختلف ریاستوں میں رہنے والی اپنی دو سہیلیوں حرا اور ماروی نے باہمی مشاورت سے سفید رنگت کی برتری کو بڑھاوا دینے میں رنگت گوری کرنے والی کریموں خاص کر ’فیئر اینڈ لولی‘ کے عمل دخل کو سامنے لانے کیلئے ایک تحریک شروع کی اور واضح کیا کہ گہری رنگت کے خلاف تعصب سے خواتین ہی نہیں بلکہ مرد بھی متاثر ہوئے ہیں۔
9 جون 2020 کو ان سہیلیوں نے اپنی آن لائن پٹیشن میں مطالبہ کیا کہ فیئر اینڈ لولی اور گورے پن کی تشہیر کرنے والی دوسری مصنوعات پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے. یونی لیور کے سی ای او کے نام لکھی اس پٹیشن کی 15 دنوں میں 94 ملکوں کے13 ہزار سے زیادہ افراد نے حمایت کی۔ جس کے بعد پاکستان اور بھارت سمیت ایشیا میں رنگ گورا کرنے والی خواتین کی مقبول کریم فیئر اینڈ لولی بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنی یونی لیور نے اعلان کیا ہے کہ کریم کا نام تبدیل کیا جائے گا اور یونی لیوراپنی مصنوعات سے رنگت کی سفیدی اور گورے پن جیسے الفاظ ہٹا دے گی۔
واضح رہے کہ فیئر اینڈ لولی کو پاکستان اور بھارت سمیت ایشیائی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں خواتین اور خصوصی طور پر نوجوان اور کم عمر لڑکیاں رنگ گورا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ فیئر اینڈ لولی کریم کے اشتہارات میں بھی کمپنی گوری لڑکیوں کو دکھانے سمیت گورے رنگ کو کامیابی کی ضمانت قرار دیتی رہی ہے۔ فیئر اینڈ لولی پر بھی پاکستان اور بھارت سمیت ایشیا بھر میں تنقید کی جاتی رہی ہے، جس کے اب کمپنی نے اس کا نام تبدیل کرنے کا اعلان کردیا۔ یونی لیور کے بیوٹی اینڈ پرسنل کیئر ڈویژن کے صدر سنی جین نے اعتراف کیا کہ وہ ’فیئر‘ لفظ کو ’وائٹ‘ اور ’لائٹ‘ جیسا ہی سمجھتے ہیں جو خوبصورتی اور گوری رنگت کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ سنی جین کے مطابق وہ اس لفظ کو درست نہیں مانتے اور اب اپنی تصحیح کرنا چاہتے ہیں۔ کمپنی نے اپنی ٹوئٹ کے ذریعے بھی آگاہ کیا کہ جلد ہی کمپنی ’فیئر‘ ’وائٹ‘ اور’لائٹ‘ جیسے لفظوں کا استعمال بند کردے گی۔ان الفاظ کی جگہ متبادل لفظ استعمال کیے جائیں گے جو رنگت کے لیے قابل قبول بھی ہوں اور ان سے نسلی تعصب بھی نہ جھلکتا ہو۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کمپنی کب تک فیئر اینڈ لولی کریم کا نام تبدیل کرے گی اور آیا اب مذکورہ کریم کی تشہیر کے لیے ماضی کی طرح معروف بولی وڈ و پاکستانی اداکاراؤں کی خدمات حاصل کی جائیں گی یا نہیں؟
کمپنی کے اعلان کے بعد بھارت و پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں لوگ کمپنی کے فیصلے کی تعریف کر رہے ہیں اور اس تبدیلی کو آغاز بھی قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان میں خواتین نے یونی لیور کے اس اعلان کی حمایت کی ہے۔ مدیحہ جاوید کا کہنا تھا کہ ’نسل پرستی جیسے معاملات پر بات ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں یہ ایک اچھا قدم ہے۔ لیکن ایسے فیصلوں کے اثرات نیچے تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ لوگ اس کو کیسے لیں گے۔‘
بلاگر اجالا علی خان کہتی ہیں کہ ’یونی لیور کے اس فیصلے سے گوری رنگت اور خوبصورتی کے درمیان تعلق کو ختم کردیا گیا ہے۔ اس قدم سے یہ نکتہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خوبصورتی صرف ایک رنگت سے نہیں جوڑی جاسکتی۔ ہر رنگت خوبصورت ہو سکتی ہے۔‘
تاہم بہت سی خواتین کا خیال ہے کہ کریموں کے نام بدلنے سے زیادہ سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ماہر تعلیم فریحہ یوسف کہتی ہیں کہ ’جس طرح نوجوان نسل پرستی کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں، اب لوگوں کو خوبصورتی سے متعلق اپنا محدود نکتہ نظر تبدیل کرنا ہوگا۔ جو ہو رہا ہے وہ حوصلہ افزا ہے۔‘
دوسری طرف عمیمہ احمد کہتی ہیں کہ ’برینڈ بدلنے سے زیادہ مائنڈ سیٹ یعنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہےاور جب ایسا ہوگا تو ہی یہ ممکن ہوسکے گا کہ ہمارے معاشرے میں رنگت کی بنیاد پر نفرت کی زہریلی سوچ پھیلنے سے رُک جائے۔ اور ہماری آنے والی نسل کو یہ سن کر بڑا نہ ہونا پڑے کہ ’فیئر از ایکول ٹو لولی‘ یعنی گورا ہی خوبصورت ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button