رواں مالی سال تجارتی خسارے میں 26.5 فیصد کمی

پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 26.5 فیصد تک کم ہوکر 15 ارب 77 کروڑ ڈالر ہوگیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 21 ارب 46 کروڑ ڈالر تھا۔
یہ کمی بنیادی طور پر غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور مجموعی طلب کو کم کرنے کے اٹھائے گئے حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کے بعد برآمدات میں دہرے ہندسے کی کمی کی وجہ سے آئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر یہ فروری میں 14.6 فیصد کم ہوکر ایک 90 کروڑ دالر ہوگیا جب کہ گزشتہ سال کے اسی ماہ میں یہ 2 ارب 26 کروڑ ڈالر تھا۔
ادھر وزارت تجارت کی جانب سے جاری مالی سال کے دوران سالانہ تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے 31 ارب ڈالر سے کم ہوکر تقریباً 12 سے 19 ارب ڈالر تک کم ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔
علاوہ ازیں ادارہ شماریات کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران درآمدات 31 ارب 42 کروڑ ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کی 36 ارب 56 کروڑ ڈالر سے 14.06 فیصد کم ہے۔
اسی طرح فروری میں درآمدی اشیاء کی مالیت میں 1.71 کمی ہوئی اور یہ 4 ارب 7 کروڑ ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4 ارب 14 کروڑ ڈالر تھی۔
ماہ فروری میں برآمدات گزشتہ سال کے اسی مہینے کے ایک ارب 88 کروڑ روپے سے بڑح کر 2 ارب 14 کروڑ ڈالر ہوگئی جو 13.82 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
جولائی 2019 سے فروری تک برآمدی آمدنی میں 3.65 اضافہ ہوا اور یہ 15 ارب 64 کروڑ ڈالر ہوگئی جو گزشتہ سال کے انہیں ماہ میں 15 ارب 9 کروڑ روپے تھی۔
دوسری جانب سالانہ بنیادوں پر خدمات (سروسز) کے شعبے میں برآمدات 5.18 فیصد تک بڑھ کر رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں 3 ارب 23 کروڑ ڈالر رہی۔
تاہم ماہانہ بنیادوں پر خدمات کے شعبے کی برآمدی آمدنی فروری میں 0.21 فیصد کم ہوکر یہ سالانہ بنیادوں پر 49 کروڑ 61 لاکھ 20 ہزار ڈالر ہوگئی۔
خیال رہے کہ سال 19-2018 میں خدمات کی برآمدی آمدنی گزشتہ سال کے 5 ارب 28 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 5 ارب 37 کروڑ ڈالر ریکاڑڈ کی گئی جو معمولی اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
دریں اثنا مالی سال 2018 میں سروسز برآمدات سالانہ بنیاد پر 7 فیصد کم ہوکر 5 ارب 40 کروڑ ڈالر رہی تھی۔
