روحانی بشارت نے کپتان کو بزدار کی چھٹی کروانے سے کیسے روکا؟

https://youtu.be/WIjxbnUiXMw
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان عثمان بزدار کو فارغ کرنے کا ذہن تو بنا چکے ہیں لیکن وہ اس پر عمل اس لیے نہیں کر رہے کہ ایسا کرنے سے پہلے وہ اپنی کرسی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں کیونکہ روحانی علم کی بنیاد پر انھیں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے "ع” کو عہدے سے ہٹایا گیا تو مرکز کے "ع” کی کرسی بھی خطرے میں پڑ جائے گی. چنانچہ کپتان کو پنجاب میں بڑی تبدیلی لانے سے پہلے مرکز میں اپنی کرسی مضبوط کرنے کے لیے چند ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔
معروف اینکر پرسن اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق پنجاب میں بڑی تبدیلی ہو کر رہے گی۔ اپنے تازہ ترین تجزیے میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ عمران خان نے لاہور میں بیان دیا گیا کہ عثمان بزدار بےخوف ہوکر کام جاری رکھیں کیونکہ پنجاب میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی۔ دوسری طرف اسلام آباد کے شہرِ بےوفا میں وزارت اعلی پنجاب کے متبادل امیدواروں کے حوالے سے میٹنگز جاری ہیں۔ گویا لاہور میں جو کچھ کہا گیا وہ غلط ہے یا جو کچھ اسلام آباد میں ہو رہا ہے وہ غلط ہے۔
تجزیہ نگار کے خیال میں سب کا اتفاق ہے کہ حتمی فیصلے کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے۔ تبدیلی کا فیصلہ بھی انہوں نے کرنا ہے اور متبادل وزیر اعلی کو بھی انہی نے ہی چننا ہے، تاہم ابھی تک بزدار کا روحانی کلہ مضبوط ہے روحانی اشارہ یہ ہے کہ اگر پنجاب سے عین یعنی عثمان جاتا ہے تو پھر مرکز کے عین یعنی عمران کو بھی خطرہ ہوگا۔ اس لئے ابھی پنجاب کو نہ چھیڑا جائے ورنہ مرکز میں بھی ہل چل مچ جائے گی۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ عثمان بزدار کی تبدیلی کے حوالے سے چودھریوں نے انوکی لاک لگا رکھا ہے۔ ان کے قریبی حلقے کہتے ہیں کہ یا بزدار یا پھر چودھری، تیسرا کوئی نہیں آئے گا۔ دوسری طرف عمران خان دراصل چودھری برادران کو اقتدار دینا نہیں چاہتے۔ وہ خائف ہیں کہ چودھری وزیراعلیٰ بن گیا تو خیمہ پھر صرف اونٹ کا ہوگا، باقی سب فارغ ہو جائیں گے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق کچھ عرصہ پہلے اس مفروضے پر بھی غور کیا گیا کہ اگر (ق) لیگ کو تحریک انصاف میں ق ق ضم کر دیا جائے تو چوہدری تحریک انصاف کے وزیراعلیٰ کے طور پر لائے جا سکتے ہیں۔
اس حوالے سے قانونی ماہرین سے مشورہ کیا گیا تو پتا چلا کہ اگر ایسا ہوا تو نااہلی کا ڈر ہے یا پھر پرانی پارٹی سے استعفیٰ دے کر نئے سرے سے الیکشن لڑنا ہوگا۔ چوہدری پہلے بھی تیار نہ تھے کہ بڑی مشکل سے انہوں نے پارٹی کو کھڑا کیا ہے اس رائے کے بعد (ق) لیگ کے تحریک انصاف میں ضم ہونے کا باب ہی بند ہو گیا۔
تحریک انصاف کے ایک اہم لیڈر کا خیال ہے کہ اگر آج ملک میں الیکشن ہو تو (ن) لیگ سوائے چند نشستوں کے سارا پنجاب جیت جائے گی کیونکہ (ن) لیگ کے مقابلے کے لئے پنجاب میں سرے سے کوئی سیاسی حکمت عملی بنائی ہی نہیں گئی، اس انصافیے کا خیال ہے کہ اگر (ن) لیگ کا مَکو ٹھپنا ہے یا اس کو مقابلہ میں ہرانا ہے تو پھر ہر صورت چوہدری پرویز الٰہی کو لانا ہوگا کیونکہ ایک صرف وہی ہے جو پنجاب کے نو ڈویژنوں اور 36 اضلاع کے بلدیاتی انتخابات میں حکومت کو کامیابی دلا سکتا ہے اور اگلے عام انتخابات کی ایسی حکمت عملی بنا سکتا ہے جس سے تحریک انصاف اور اس کے اتحادی جیت سکیں۔ تاہم عمران خان اور تحریک انصاف کے اکثریتی حلقے چوہدری پرویز الہی کو وزارتِ اعلیٰ کسی صورت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔
سہیل وڑائچ یاد دلاتے ہیں کہ نواز شریف جب پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوتے تھے تو پہلے یہ خبر لیک کی جاتی تھی کہ صوبائی کابینہ میں ردوبدل ہونے والا ہے۔ اسکے بعد وزراء میں ہل چل مچ جاتی، پھر فوراً سرکاری طور پر تردید کی جاتی کہ کابینہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی اور پھر ایک دو ہفتے بعد خاموشی سے کابینہ میں تبدیلی کر دی جاتی۔ اب کی بار بھی یہی ہوا کہ پنجاب میں تبدیلی کی خبر نکل گئی تو تبدیلی کو موخر کر دیا گیا، تبدیلی میں تاخیر سے حالات میں بہتری کی بہرحال گنجائش نہیں۔ وزیراعظم کے دورہ لاہور کے دن صرف یہ کہا گیا کہ بزدار کہیں نہیں جا رہے مگر اس کے اگلے دن سے جو خبریں سامنے آئی ہیں ان سے تو ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم تو بزدسر کے پَر کاٹنے آئے تھے، پنجاب کے وزیر اسد کھوکھر بھی اسی وجہ سے فارغ ہوگئے کہ وہ آج کل اس بزدار کی ناک کا بال بنے ہوئے تھے اور ان پر مسلسل اقربا پروری کے الزامات عائد ہو رہے تھے۔ چنانچہ وزیر اعظم نے نہ صرف اسد کھوکھر کی وزارت سے استعفیٰ لے لیا ہے بلکہ وزیراعلیٰ کے لگائے گئے دو اعلیٰ انتظامی افسروں کو بھی فارغ کر دیا گیا۔ گویا مکمل تبدیلی تو نہیں آئی مگر پنجاب میں وزیراعلیٰ کو کٹ ٹو سائز ضرور کر دیا گیا ہے۔
ویسے بھی پنجاب کے حوالے سے حقائق بڑے تلخ ہیں، وزیر اعظم کو ایک حالیہ بریفنگ کے دوران بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں جون 2020 میں ختم ہونے والے گزشتہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا صرف 44 فیصد خرچ ہوا ہے جبکہ 56فیصد فنڈ بغیر استعمال ہوئے واپس خزانے میں چلا گیا ہے۔ کسی بھی حکومت کی کارکردگی ایسی ہو کہ وہ اپنے ہی تفویض کردہ بجٹ کو استعمال نہ کر سکے تو اسے کسی بھی طرح مثالی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ گزشتہ دو برس میں پنجاب کے 33 اضلاع میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہوا ہے۔ میانوالی، تحصیل تونسہ اور ضلع چکوال میں البتہ بہترین صورتحال رہی ہے اسی لئے ارکانِ صوبائی اسمبلی مناسب ترقیاتی بجٹ نہ ملنے پر شکایت کناں نظر آتے ہیں۔
ان حالات میں پنجاب میں تبدیلی لانے کا فیصلہ روحانی بنیادوں پر ملتوی کیا گیا ہے لیکن کچھ عرصےکے لیے۔ تاہم یہ طے ہے کہ تبدیلی آ کر رہنی یے چاہے وہ وہ دونوں "ع” لپیٹ کر لے جائے۔
