روزمرہ کے وہ کام جو آپ کو بیمار کر سکتے ہیں

ہمارے طرز زندگی میں کچھ ایسے معمولات شامل ہوتے ہیں جو صحت کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ہمیں مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بھی بنتے ہیں لیکن لوگوں کی اکثریت عدم واقفیت کی بنا پر ایسے کام روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی عادی ہوتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کو اندرونی طور پر کمزور کرتے ہوئے موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ آج ہم آپ کو چند ایسی ہی عام سی عادات کے بارے میں بتائیں گے جو صحت کو تباہ کرسکتی ہیں-
اکثر پلاسٹک کی بوتلوں میں بڑی تعداد میں مائیکرو پلاسٹکس پائے جاتے ہیں جو کہ انسانی صحت کے لیے خطرہ ہوتے ہیں- یہ جسم میں موجود چربی میں اضافہ کرتے ہیں اور ساتھ ہی اعصابی نظام اور قوت مدافعت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں-
ڈرائی کلینگ درحقیت ایک کیمیائی عمل ہے- کپڑوں کو ڈرائی کلین کرتے وقت کئی خطرناک کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے- اور ان میں سے بعض کیمیکل کپڑوں میں ہی رہ جاتے ہیں- یہ کیمیکل سانس کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں اور آنکھوں میں خارش یا سر درد اور سر چکرانے کا سبب بن سکتے ہیں-
آپ کو کبھی بھی چھینک کو روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس دوران نکلتی ہوا کا دباو کانوں کی جانب ہوسکتا ہے- جس کے نتیجے میں آنکھوں یا ناک یا پھر کان میں موجود خون کی رگیں پھٹ سکتی ہیں-
متعدد پرفیوم ایسے ہوتے ہیں جو کہ زہریلے مادوں پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ کپمنیاں اس بات کو خفیہ رکھتی ہیں- یہ مادے پٹرولیم سے حاصل کیے جاتے ہیں اور ہارمونز میں عدم توازن پیدا کرنے کے علاوہ متلی کا سبب بن سکتے ہیں- بدترین صورتحال میں یہ انسان خو کینسر کا مریض بھی بنا سکتے ہیں-
یاد رکھیں کہ جسم اور چہرے پر نمودار ہونے والے دانوں کو نوچنا یا پھاڑنا ان کو مذید خراب کر سکتا ہے یہاں تک کہ مستقل داغوں کا سبب بھی بن سکتا ہے- چہرے کے دانوں کا براہ راست دماغ سے رابطہ ہوتا ہے اور پھنسیوں کو کھر نے کا عمل انفیکشن کا باعث بن جاتا ہے- یہ عمل بینائی سے متعلق پیچیدگیاں بھی پیدا کرسکتا ہے۔
خواتین کیلئے بالخصوص یہ جاننا ضروری ہے کہ میک اپ میں مصنوعی اجزاء شامل ہوتے ہیں جو آپ کے لئے بہت نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ یہ اجزاء وقت کے ساتھ آپ کے جسم میں جمع ہوسکتے ہیں اور جلد کی جلن اور یہاں تک کہ کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔
ناک کے بالوں کو کھینچنا جلد کی جلن اور سوجن کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر آپ بالوں کو دور کرتے ہیں تو ، آپ اپنا مدافعتی نظام بھی کمزور کردیں گے اور یہ ممکنہ طور پر دماغ کے انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔
اکثر لوگوں کو ذہنی دباؤ اور پریشانی میں ناخن چبانےکی عادت ہوتی ہے یا وہ اکثر اس دبا ؤ کو کم کرنے کے لئے ناخن چباتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمیں اس بات کااحساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم ناخن چبا رہے ہیں ، ایسا عموماً تب ہوتا ہے جب ہم دماغی غیر حاضری کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عادت ہماری صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اسے چھوڑ دینا ہی ہمارے لئے بہتر ہے۔
بعض اوقات ہم کانوں کی صفائی کے لئے کاٹن سویب یا ماچس کی تیلی کا استعمال کرتے ہیں، یہ عمل ہمارے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور قوتِ سماعت سے محروم بھی کرسکتا ہے۔ صحت کے ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ اگر آپ کو کان میں کوئی درد محسوس ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے۔
ٹوتھ برش ہمار ے دانتوں سے ان بیکٹیریا کا خاتمہ کرتا ہے جو ہماری صحت کے لئے خطرناک ہوتے ہیں۔ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق ، ہر دو سے تین مہینے میں ٹوتھ برش تبدیل کرنا چاہیئے۔ تین مہینے سے زیادہ ایک ہی برش کا استعمال ہماری صحت کے لئے خطرناک ہوتا ہے او ر اکثر دل کی بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دانت صاف کرنے کے بعد بھی آپ کے دانتوں میں ٹارٹر لگا رہ جاتا ہے،جس کی وجہ سے مسوڑوں سے خون نکلنے کی پریشانی ہوتی ہے ، اور یہ دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق دانتوں کو کم سے کم 2 منٹ تک برش ضرور کرنا چاہیئے۔ اکثر ہم دانت برش کر لیتے ہیں لیکن خلال نہیں کرتے، لیکن ہم یہ بات نہیں جانتے کہ خلال کیے بغیر ہم جراثیم سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل نہیں کر پاتے۔دانتوں میں خلال کرنا منہ میں جراثیم کو بڑھنے سے روکتا ہے اور مسوڑوں کو سوزش سے بچاتا ہے۔
اسکرب کا روزانہ استعمال چھائیوں اور کیل مہاسوں کا سبب بنتا ہے۔ ڈرماٹولوجسٹ حضرات کے مطابق ،اسکرب کا استعمال ہفتے میں دو بار کرنا چاہیئے،ورنہ یہ آپ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
ہم اپنے کپڑوں اور گھر کی صاف صفائی کا تو خیال رکھتے ہیں لیکن دروازے کا ہینڈل، موبائل، کی بورڈ اور پلگ وغیرہ کو صاف نہیں کرتے۔جبکہ ان جگہوں پر بھی خطرناک بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔ اس لئے مختلف قسم کی الرجی اور جراثیموں سے محفوظ رہنے کیلئے اس شیاء کو ایک خاص وقت کے بعد لازمی صاف کرتے رہنا چاہیے۔
