رومانٹک ڈراموں کی ملکہ حسینہ معین نے شادی کیوں نہیں کی تھی؟

کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ مقبول ترین رومانوی ڈرامے لکھنے والی حسینہ معین نے زندگی بھر شادی نہیں کی اور بالآخر بریسٹ کینسر کے عارضے میں مبتلا ہو کر 26 مارچ 2021 کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئیں۔ اپنے آخری انٹرویو میں حسینہ معین نے بتایا تھا کہ کچھ عرصہ قبل انہیں کینسر کا مرض لاحق ہوا تو ڈاکٹرز نے انہیں نہ صرف لکھنے لکھانے سے منع کر دیا بلکہ لوگوں سے ملاقات سے ہرہیز کی بھی ہدایت کی تھی، چنانچہ انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا تھا اور اپنی صحت کی بحالی کی طرف توجہ دے رہی تھین۔ حسینہ نے اس انٹرویو میں اپنی بیماری کے حوالے سے کھل کر باتیں کی تھیں اور بتایا تھا کہ انہوں نے طبعیت خراب ہونے پر اپنے میڈیکل ٹیسٹ کروائے تو ان میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہیں کینسر کا پتہ چلا تو انہیں افسوس نہیں ہوا بلکہ وہ پر سکون رہیں۔ حسینہ نے شادی نہ کرنے کے موضوع پر بھی کھل کر بات کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ شروع سے ہی خود مختار رہی ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں ایم اے کی تعلیم کے دوران ان کی والدہ نے بھرپور کوشش کی کہ وہ شادی کرلیں، تاہم انہوں نے اپنی والدہ کی بات نہ مانی۔ حسینہ معین سمجھتی تھیں کہ وہ شادی کے لیے نہیں بنیں اور شادی ان کے لیے اہم نہیں۔ وہ اپنی والدہ کو دلیل دیتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو جوڑے کی صورت میں پیدا کرتا ہے اور چونکہ ان کا جوڑا کہیں کھو گیا ہے، اس لیے وہ شادی نہیں کر سکتیں۔ حسینہ کہتی تھیں کہ ان کے بہن اور بھائیوں نے ان کا بھرپور خیال رکھا اور انہیں اپنی زندگی کے حوالے سے کوئی افسوس نہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے ہر وہ چیز عطا کی، جس کی انہوں نے خواہش رکھی۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے قیام کے بعد ہی ملک کو ایسے قابل، منجھے اور سلجھے ہوئے لکھاری میسّر آئے، جنہوں نے اپنی تحریروں سے پوری دنیا میں دھوم مچادی۔ ایسے ایسے ناقابلِ فراموش، مقبول سیریلز لکھے گئے، جو آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ پی ٹی وی کے سنہری دور کے معروف مصنّفین اور ڈراما نگاروں میں احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، فاطمہ ثریا بجیا، شوکت صدیقی، یونس جاوید، انور مقصود، امجد اسلام امجد، مستنصر حسین تارڑ سمیت بے شمار قد آور شخصیات میں ایک نام ممتاز مصنّفہ، مکالمہ اور ڈراما نگار حسینہ معین کا بھی ہے، جن کے لکھے ہوئے ڈرامے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت سمیت دنیا بھر میں انتہائی ذوق و شوق سے دیکھے جاتے تھے۔ حسینہ معین 20 نومبر 1941ء کو بھارت کے شہر کان پور میں پیدا ہوئیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد اُن کا گھرانہ راول پنڈی میں رہایش پزیر ہوا، پھر جلد ہی لاہور منتقل ہوگیا۔ 50ء کی دہائی میں حسینہ معین کراچی آئیں، جہاں حصولِ تعلیم کے دوران ہی ریڈیو پاکستان کراچی کے لیے ڈرامے لکھنے شروع کردئیے۔ جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ میں ماسٹرز کیا اور ریڈیو پاکستان، کراچی سے متعدد ڈرامے پیش کرنے کے بعد ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز 1969ء میں کیا۔ بہ حیثیت ڈراما نویس بے پناہ شہرت و مقبولیت حاصل کی بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچیں۔ ان کے معروف ڈراموں میں پرچھائیاں، کرن کہانی، انکل عرفی، شہ زوری، پل دو پل، دُھند، بندش، تیرے آجانے سے، زیر زبر پیش، اَن کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے، گڑیا، آہٹ، پڑوسی، کسک، نیا رشتہ، جانے انجانے، آنسو، شاید کہ بہار آجائے، آئینہ، چھوٹی سی کہانی اور میری بہن مایا کے علاوہ دیگر متعدد شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، حسینہ معین نے فلم ’’کہیں پیار نہ ہوجائے‘‘ کی کہانی سمیت کئی مقبول فلموں کے مکالمے بھی تحریر کیے، جن میں ’’نزدیکیاں‘‘ اور ’’یہاں سے وہاں‘‘ تک شامل ہیں۔
حسینہ معین نے راج کپور کی فرمائش پر بھارتی فلم ’’حنا‘‘ کے مکالمے لکھے، جو 1991ء میں نمائش پزیر ہوئی۔ 14 اگست 1987ء کو حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حُسنِ کارکردگی سے نوازا۔
اپنی آخری انٹرویو میں حسینہ معین نے اپنے بچپن سے لیکر کیریئر کے عروج تک بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ قیامِ پاکستان سے قبل متحدہ ہندوستان میں میرے والد فوج میں ملازم تھے۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ والد بہت ہی پیار کرنے والے نرم طبیعت کے مالک تھے۔ جب میں پیدا ہوئی، تو اُن کی پوسٹنگ کان پور میں تھی۔ انکا کہنا تھا کہ تقسیم ہند بہت بڑا واقعہ تھا جو اب تک انکے ذہن کے دریچے میں تازہ ہے، حالاں کہ اس وقت میں خاصی کم سِن تھی، انیوں نے بتایا کہ 1947ء میں فسادات شروع ہوئے، تو کچھ عرصے تک ہم کان پور ہی میں رہے، لیکن جب فسادات بڑھے، تو پھر چمن گنج آگئے۔چند ماہ وہیں مقیم رہے، پھر 14اگست 1947ء کو قیامِ پاکستان کا باضابطہ اعلان ہوا اور ہم 1948ء کے اوائل میں پاکستان منتقل ہوئے۔ اس کے لیے پہلے ہم ممبئی گئے، وہاں سے بذریعہ بحری جہاز کراچی آئے، جہاں سے چند روز بعد والد کی آرمی میں ملازمت کے باعث پنڈی ہیڈ کوارٹر چلے گئے۔
حسینہ معین نے بتایا کہ پنڈی میں اس وقت مکمل سنّاٹا تھا، کیوں کہ وہاں آباد زیادہ تر ہندو، بھارت جاچکے تھے، وہاں مسلمان بہت کم تھے۔ میرے والد نے فیصلہ کیا کہ جب تک گھر کا بندوبست نہیں ہوجاتا، ہم ہوٹل میں رہیں گے۔ اس طرح پاکستان ہجرت کے بعد تین مہینے ہم ہوٹل ہی میں رہے۔ پھر والد کا ٹرانسفر لاہور ہوگیا، تو ماڈل ٹائون میں ہمیں ایک گھر مل گیا، لیکن مجھے کان پور کا گھر بُھلائے نہیں بُھولتا، وہاں کی یادوں نے زندگی بھر میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ۔
ٹی وی کے لئے ڈرامے لکھنے کی شروعات کے حوالے سے حسینہ نے بتایا کہ یہ اُن دنوں کی بات ہے، جب میں گورنمنٹ کالج فار ویمن فریئرروڈ، کراچی میں پڑھ رہی تھی۔ ہماری اردو کی ٹیچر، معروف ادیب، ماہرِ لسانیات، شان الحق حقّی صاحب کی اہلیہ، سلمیٰ شان الحق حقّی، انتہائی وضع دار اور بہت پیاری خاتون تھیں، ایک روز انہوں نے مجھ سے کہا کہ ’’ریڈیو پاکستان، کراچی سے ایک سرکلر آیا ہے، جس میں تمام کالجز کے درمیان ڈرامے لکھنے کا مقابلہ ہے، اور ہر کالج سے پچیس منٹ دورانیے کا ایک ڈراما بھیجنے کو کہا گیا ہے، تم ایک ڈراما لکھ دو۔‘‘ یہ بات انہوں نے مجھ سے اس لیے کی کہ میں اُس زمانے میں ’’وال پیپرمیگزین‘‘ کے لیے طنز و مزاح پر مبنی نگارشات وغیرہ لکھا کرتی تھی۔ جب انہوں نے مجھے ڈراما لکھنے کو کہا، تو میں نے کہا کہ ’’میں کیسے لکھ سکتی ہوں، میں نے تو آج تک کوئی ڈراما نہیں لکھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’جو سمجھ میں آئے، لکھ دو، بھیجنا تو ہے۔‘‘ پھر میں نے وہیں بیٹھ کر جیسے تیسے ایک ڈراما ’’پٹریاں‘‘ لکھ دیا، جو غیر یقینی طور پر بہت اچھا ہوگیا اور یہ میری خوش نصیبی تھی کہ میرا لکھا ہوا اسکرپٹ آغا ناصر صاحب کے ہاتھ لگا۔ انہوں نے جب پڑھا، تو انہیں بہت پسند آیا۔ کہنے لگے، مَیں اسے خود پروڈیوس کروں گا۔
بہرحال، جب ڈراما مکمل ہوا اور ریڈیو پر نشر کیا گیا، تو اس قدر پسند کیا گیا کہ اُسے ایوارڈ ملا۔ اپنے پہلے ڈرامے کی پزیرائی کے حوالے سے حسینہ معین بتاتی تھیں کہ میرا ریڈیو پاکستان سے 1969ء میں نشر ہونے والا ڈراما ’’بھول بھلّیاں‘‘ پہلی بار پی ٹی وی پر ’’نیا راستہ‘‘ کے عنوان سے ٹیلی کاسٹ کیا گیا، لیکن بہ طور خاص پی ٹی وی کے لیے میں نے پہلا ڈراما ’’ہیپی عید مبارک‘‘ جنوری 1972ء میں تحریر کیا، جو عین عید کے روز پیش کیا گیا، میں اسے دیکھ نہیں سکی تھی، لیکن رات کو افتخار عارف اور جی ایم، پی ٹی وی سمیت دیگر دوستوں کی ٹیلی فون کالز کا تانتا بندھ گیا، سب ہی نے ڈرامے کی تعریف کی، تو بڑی خوشی ہوئی کہ واہ کمال ہوگیا، مجھے تو یقین ہی نہیں تھا کہ اتنا اچھا ہوجائےگا۔ پھرچند روز بعد اسلام آباد سے ایم ڈی، پی ٹی وی کراچی تشریف لائے اور ایک چھوٹا سا فنکشن کیا، جس میں ڈرامے کے سب ہی اسٹارز موجود تھے۔ اس موقعے پر انہوں نے سب کو دو دو سو روپے لفافے میں رکھ کے بہ طور انعام دیئے۔ جنہیں میں نے بہت عرصے تک سنبھال رکھا کہ یہ میرا پہلا انعام ہے۔
اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل حسینہ معین نے بتایا تھا کہ لگ بھگ 50 ٹی وی سیریلز لکھ چکی ہوں۔ اس کے علاوہ بہت سے سنگل ڈرامے بھی لکھے ہیں، لیکن درست تعداد یاد نہیں۔ ریڈیو کے لیے تو لگ بھگ بیس ڈرامے لکھے، کیوں کہ جب پہلا ڈراما ہِٹ ہوا اور اس پر ایوارڈ بھی ملا، تو پطرس بخاری کے بھائی، زیڈ اے بخاری نے خاص طور پر میرے ڈرامے کا اسکرپٹ دیکھا اور کہا کہ ’’یہ کسی بچّی کا نہیں، کسی بڑے کا لکھا لگتا ہے۔‘‘ انہوں نے آغا ناصر سے پوچھا، آپ نے کیسے اس ڈرامے کو منتخب کیا؟‘‘ تو انہوں نے کہا کہ ’’مسز حقّی نے مجھے دیا ہے اور وہ یقیناً ایک ذمّے دار استاد اور پرنسپل ہیں۔‘‘ خیر، جب سلمیٰ حقّی نے پرنسپل کا تصدیقی لیٹر انہیں بھیجا تو انہیں یقین آیا کہ یہ میرا ہی تحریر کردہ ہے۔ انہوں نے بہت شاباش دی، لیکن آغا ناصر اکثر کہتے کہ ’’تم نے تو شروع دن ہی میری نوکری ختم کروادی تھی۔‘‘ پھر اسٹوڈیو نمبر 9 سے میرے پاس لیٹر آیا کہ ہمارے لیے ڈرامے لکھیے، میں نے دس پندرہ ڈرامے لکھے۔ اس کے بعد جب یونیورسٹی چلی گئی، تو یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ اُن ہی دنوں میرے والد نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی، جس کے بعد معاشی حالات پر کچھ متاثر ہوگئے، چنانچہ میں نے والد سے ملازمت کی اجازت مانگی، اس پر وہ بہت ہنسے کہ ’’تم کیا کروگی، کہاں جاب کروگی؟‘‘ میں نے کہا ’’میں پڑھائوں گی۔‘‘ اُس وقت ’’خالق دینا خوجا اسکول‘‘ میں میری ایک سہیلی پڑھاتی تھی، جس نے مجھے بہ حیثیت آرٹ ٹیچر وہاں تعیّنات کروادیا۔ وہاں دو سال تک پڑھاتی رہی۔ اسی دوران اسکول کے پرنسپل بختیاری صاحب کی ہدایت پر بی ایڈ بھی کرلیا۔
حسینہ معین سے ماضی اور آج کے ڈرامے میں فرق کے حوالے سے جب پوچھا گیا تو انکا جواب کچھ یوں تھا کہ پی ٹی وی کے ڈراموں میں اور آج کے ڈراموں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت جو ہمارے ہیڈ تھے، انہیں ہمیشہ یہ خیال رہتا تھا کہ اپنی تہذیب، ثقافت اور زبان کبھی خراب نہ ہونے پائے۔ وہ ایسے معاشرتی موضوعات کا انتخاب کرتے، جو خاندان کے ہر فرد کے لیے قابلِ قبول ہوتے۔ گھر کے سب افراد ایک ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھا کرتے۔ اُس دور کے مستند لکھاری ان باتوں کو پیشِ نظر رکھتے کہ جو چیز پیش کی جارہی ہے یا دکھائی جارہی ہے، اس میں غیر ضروری طوالت نہ ہو کہ دیکھنے والے بیٹھے بیٹھے تھک جائیں یا دیکھتے دیکھتے اُکتاجائیں۔ شروع سے آخر تک ڈرامے کے مختلف حصّوں میں اتنی ہم آہنگی ہوتی کہ دیکھنے والے کی دل چسپی اور توجّہ آخر تک برقرار رہتی۔ ڈراما لکھنے والے بھی ان ہی پابندیوں کو سامنے رکھ کرلکھا کرتے تھے، آج کل ان باتوں کا قطعی خیال نہیں رکھا جارہا۔ اب میرٹ اور معیار پر زیادہ توجّہ نہیں دی جاتی۔
جب ایک بار حسینہ معین سے سوال کیا گیا کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر راج کرنے والے ڈراما نگاروں سے اب ڈرامے کیوں نہیں لکھوائے جارہے؟ تو حسینہ معین نے درد بھرے لہجے میں کہا کہ اب رہ کون گیا ہے لکحنے والا، اور جو رہ گئے ہیں، وہ خود پیچھے ہٹ گئے ہیں، انکا کہنانتھا کہ امجد اسلام امجد، اصغر ندیم سیّد سمیت پائے کے ادیبوں نے اس لیے لکھنا چھوڑ دیا ہے کہ اب ڈراما، ڈراما نہیں رہا، پروڈکٹ بن گیا ہے۔ جب ڈراموں میں انگریزی کے Fun کے ساتھ اردو کے فن کو بھی نکال دیا جائے، تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔ اب تو صرف ’’تماشا‘‘ دکھایا جارہا ہے۔ حسینہ معین کہا کرتی تھیں کہ اب لاتعداد چینلز بے شمار ڈرامے بنارہے ہیں، جس کی وجہ سے ڈرامے تشکیل دینے والوں نے بہت سی چیزوں کو رَد کردیا ہے۔ پہلے سینسر بورڈ ہوتا تھا، ماہرین پر مشتمل کمیٹی ہوتی تھی، اس کے علاوہ اسکرپٹ ایڈیٹر ہوتا تھا۔ پی ٹی وی میں افتخار عارف اور مدبّر رضوی اسکرپٹ ایڈیٹر ہوا کرتے تھے۔ اتنے قابل لوگ انتہائی گہرائی سے پڑھتے تھے کہ ذرا سی بھی غلطی کی گنجائش نہیں رہتی تھی، اگر انہیں کہیں لگتا کہ اس جملے کا مطلب کچھ اور لیا جائے گا، تو فوراً رائٹر ہی سے تبدیل کروالیا کرتے۔ لیکن اب تو اداکارخود ہی اسکرپٹس کی لائنیں تبدیل کررہے ہوتے ہیں۔
حسینہ معین نے اگرچہ زندگی بھر شادی نہیں کی تاہم انہوں نے بھرپور زندگی گزاری۔ بریسٹ کینسر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بالآخر 26 مارچ 2021 کو اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کرکے ہمیشہ کے لئے سو گئیں۔
