روپے کے مقابل ڈالر مزید دو روپے سستا، 161 روپے 50 پیسےپر آ گیا

انٹربینک میں‌ ڈالر مزید دو روپے سستا ہو گیا،ٹریڈنگ کے دوران ڈالر کی قیمت میں دو روپے کی کمی دیکھی گئی ہے جس کے بعد ڈالر 161 روپے 50 پیسے کا ہو گیا دوسری طرف پاکستان سٹاک مارکیٹ میں آج 700 پوائنٹس کی کمی ہوئی دوسری جانب دیگر ایشیائی مارکیٹس بھی گراوٹ کا شکار ہیں۔
کاروباری ہفتے کے دوسرے روز آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر دو روپے سستا ہو کر 161 روپے 50 پیسے پر ٹریڈ ہوا۔سستا ہونے سےڈالر کی قیمت 163 روپے 49 پیسے کم ہو کر 161 روپے 50 پیسے پر آگئی ہے.ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے پاکستان پر قرضوں کا بوجھ 540 ارب روپے کم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان رہا، 700 پوائنٹس کمی کے بعد 100 انڈیکس 32 ہزار 770 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔دریں اثنا دیگر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی گراوٹ دیکھنے میں آئی، جاپانی سٹاک مارکیٹ میں 2 فیصد، چینی سٹاک مارکیٹ میں 1.5 فیصد کمی ہوئی۔ ہانگ کانگ 2.2، جنوبی کوریا 1.7 اور سنگا پور سٹاک مارکیٹ میں 1.4 فیصد گر گئی۔
دوسری طرف کروناکے منفی اثرات کے باوجود پاکستان میں غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری میں 137 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہےاور حجم 2 ارب 14 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری میں 137 فیصد کا اضافہ ہوا اور حجم 2 ارب 14 کروڑ 80 لاکھ ڈالررہا، گزشتہ مالی سال کےاسی عرصےمیں یہ حجم 90 کروڑ 5 لاکھ ڈالر تھا۔اعدادوشمار میں بتایا گیا کہ مارچ میں غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری کا حجم 27 کروڑ 90 لاکھ ڈالررہا، سب سےزیادہ سرمایہ کاری چین نے کی، چین نے ستاسی کروڑ بیس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جبکہ دوسرےنمبرپرسرمایہ کاری ناروے سےآئی۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ زیرغورعرصےمیں سب سےزیادہ سرمایہ کاری پاورسیکٹر، دوسرےنمبرپرکمیونیکیشن سیکٹرجبکہ تیسرے نمبر پر آئل اینڈ گیس سیکٹر ہے۔
یاد رہے گذشتہ ماہ مرکزی بینک کا کہنا تھا سرمایہ کاروں نے 6 کروڑ ڈالر کے بانڈز فروخت کر دیے ہیں اور یکم مارچ سے 18 مارچ تک ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کے بانڈز فروخت کیے گئے ہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی سے 18 مارچ تک ایک ارب 86 کروڑ ڈالر کے بانڈز فروخت کیے گئے ہیں جس کے بعد حکومتی بانڈز میں کُل سرمایہ کاری ایک ارب 34 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے۔خیال رہے کورونا وائرس نے جہاں دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے وہیں ممالک کی معیشت پر بھی بری طرح اثر انداز ہورہا ہے، دنیامیں کوروناوائرس سے ایک لاکھ70ہزار477اموات ہوچکی ہے جبکہ 24لاکھ82 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں اور کورونا وائرس کے 6لاکھ52ہزارسے زائد مریض صحت یاب ہوئے۔
یاد رہے کہ امریکی خام تیل کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح تک گر چکی ہیں۔ نیویارک میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران امریکی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ ریکارڈ کی گئی اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی کے مئی میں ترسیل کے سودے منفی 37.63 ڈالر فی بیرل میں طے پائے۔ ماہرین کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت تاریخ میں پہلی مرتبہ صفر سے بھی نیچے گئی ہے۔تاہم ایشیائی آئل مارکیٹ میں امریکی تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کے نرخوں میں بہتری کا عمل جاری ہے، منگل کو وقفے پر ڈبلیو ٹی آئی کے مئی کے لیے سودے 39 ڈالر اضافے کے ساتھ 1.37 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آرہے، اس سے قبل پیر کو عالمی منڈی میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے نرخ 3.6 فیصد گر کر منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئے تھے جو ملکی تاریخ کا کم ترین ریٹ ہے۔ امریکی آئل کے وقفے پرجون کے لیے سودے 96 سینٹ (4.7 فیصد) اضافے کے ساتھ 21.39 ڈالر فی بیرل کی سطح پررہے۔ ایشیا میں برنٹ نارتھ سی کروڈ کے وقفے پر جون کے لیے سودے 20 سینٹ (0.8 فیصد) کمی کے ساتھ 25.37 ڈالر فی بیرل کی سطح پرآرہے۔یاد رہے کہ دنیا بھر میں کورونا لاک ڈائون سے سفری پابندیوں کے باعث تیل کی طلب 30 فیصد سے زیادہ گر چکی ہے جبکہ مسلسل پیداوار کے باعث عالمی آئل سٹاک میں بہت زیادہ اضافہ ہونے سے مزید سٹاک کی گنجائش تقریباً ختم ہورہی ہے۔کینیڈا کی آئل کمپنیوں نے پیر کو رات گئے اپنی پیداوار روکنے کا اعلان بھی کردیا تھا۔ادھر اوپیک پلس ملکوں نے اپنی پیداوار میں 9.7 ملین بیرل یومیہ کمی کا معاہدہ کیا ہے تاہم اس پر عملدرآمد مئی سے شروع ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button