رویت ہلال: فواد چوہدری کے ٹوئٹ پر ایک مرتبہ پھر بحث چھڑ گئی

رمضان المبارک کے چاند کی رویت سے متعلق وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی ٹوئٹ سے ایک مرتبہ پھر مذہبی حلقوں میں تنازع کھڑا ہوگیا ہے اور مرکزی رویت ہلال کے نومنتخب چیئرمین نے وفاقی وزیر کےباپ سے ووٹ لینے پر پی پی پی اور اے این پی کو شوکاز نوٹس جاری بیان پر برہمی کا اظہار کردیا۔
تفصیلات کے مطابق فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ رمضان کا چاند 13 اپریل کی شام کو لاہور، اسلام آباد، پشاور سمیت کئی دیگر شہروں میں واضع طور پر دیکھا جاسکے گا اور 14 اپریل کو پہلا روزہ ہوگا۔ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ ماضی میں چاند دیکھنے سے متعلق متعدد اعلانات کی وجہ سے ملک کے امیج کو نقصان پہنچا۔ نجی ٹی وی کے مطابق مولانا عبدالخبیر آزاد نے بتایا کہ یہ شریعت کی نافرمانی کی بات نہیں ہوگی تاہم ملک میں رمضان اور عید کی مختلف تاریخیں ہونے پر قومی فخر کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اسلامی مہینوں کے آغاز کےلیے نئے چاند سے متعلق حتمی اعلان کرے۔ مولانا عبدالخبیر نے کہا کہ فواد چوہدری کو کمیٹی کے اجلاس کا انتظار کرنا چاہیے تھا کیوں کہ وزارت سائنس کا ایک سینئر افسر کمیٹی کا ممبر ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ ہم 13 اپریل کو رمضان کے چاند کو دیکھنے کےلیے آئندہ اجلاس پشاور میں کر رہے ہیں اور مفتی پوپلزئی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس میں شریک ہوں یا اپنے نمائندوں میں سے کسی کو بھیجیں تاکہ اتفاق رائے سے فیصلہ ہو۔ رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مولانا عبدالخبیر نے بتایا کہ پہلی مرتبہ مرکزی کمیٹی نے ضلعی سطح پر رویت ہلال کمیٹیاں تشکیل دی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ گواہوں کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔فواد چوہدری نے پہلے کہا تھا کہ اس جدید دور میں سائنسی علم کی مدد سے ہر مسئلے کو حل کیا گیا ہے اور صرف وہی قومیں ترقی کر رہی ہیں جو سائنس کو استعمال کررہی ہیں۔ وزیر نے کہا کہ اسلام اور سائنس متضاد نہیں ہیں تاہم اسلام میں علم کی اہمیت اسے دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتی ہے۔رویت ہلال کمیٹی کے نئے سربراہ مولانا عبدالخبیر نے عید سمیت مذہبی تہواروں میں تنازعات کو ختم کرنے کےلیے شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے چاند دیکھنے کےلیے سائنسی معلومات سے استفادہ کرنے کا عندیہ دیا تھا اور فواد چوہدری نے چاند دیکھنے میں مولانا عبدالخبیر کو اپنی وزارت سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کا دفتر سائنس کی مدد سے چاند دیکھنے کے حوالے سے اتفاق رائے حاصل کرنے کےلیے کمیٹی کی حمایت کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button