رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کا پورا خاندان کرونا کا شکار

رکن سندھ اسمبلی اور امیر جماعت اسلامی ضلع کراچی جنوبی سید عبدالرشید کے اہل خانہ کے 8 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔سندھ اسمبلی کے رکن عبدالرشید میں 23 اپریل کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور اب ان کی اہلیہ، والدہ، تین بچوں اور بہن سمیت گھر کے 8 افراد کے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی مثبت آگئی ہے۔عبدالرشید کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کہ تمام افراد کی طبیعت بہتر ہے، کسی کو کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، تین بچوں کی عمریں چھ، آٹھ اور بارہ برس ہے۔رکن صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ان کی اور خاندان کے دیگر افراد کی طبیعت بہتر ہے اور تمام افراد گھر ہی میں آئیسولیٹ ہیں۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی والدہ کے سوا گھر کے کسی بھی فرد میں کورونا وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
یاد رہے کہ عبدالرشید نے گزشتہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری سے متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر حصہ لیا تھا اور کامیاب ہوئے تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے سرکردہ کارکن اور علاقے کے مسائل کے حل کے لیے انتہائی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
یہاں یہ واضح رہے کہ سید عبدالرشید پہلے سیاست دان نہیں جو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے بلکہ اس کے علاوہ بھی ملک میں متعدد سیاست دان و دیگر شخصیات بھی وائرس کا شکار ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ کراچی میں مختلف ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جہاں ایک فرد سے مختلف لوگ وائرس سے متاثر ہوئے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس انسان سے انسان میں منتقل ہونے والا وائرس ہے اور پاکستان میں اس کے مقامی طور پر منتقلی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
گزشتہ دنوں سندھ کے گورنر عمران اسمٰعیل میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد انہوں نے سیلف آئیسولیشن اختیار کرلی تھی۔اس سے قبل سربراہ ایدھی فاؤنڈیشن فیصل ایدھی بھی کورونا سے متاثر ہوئے تھے۔
مزید یہ کہ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی میں بھی کورونا وائرس کا ٹیسٹ 2 مرتبہ مثبت آیا تھا تاہم کچھ روز کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بعد ان کا ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آگیا تھا۔
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ 335 افراد وائرس سے لقمہ اجل بھی بنے ہیں۔اس وائرس سے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہوا ہے، جہاں اب تک متاثرین کی تعداد 5695 ہے جبکہ اس وائرس سے 100 افراد یہاں انتقال بھی کرچکے ہیں۔یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ سندھ میں سامنے آنے والے ان کیسز میں تقریباً 4 ہزار صرف کراچی میں ہیں جبکہ یہاں اموات بھی 80 سے زیادہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button