رکن کےڈالے گئے ووٹ کو شمار نہ کرنا توہین آمیز ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ووٹ ڈال کر شمار نہ کیا جانا توہین آمیز ہے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظار دیا گیا ہے ،اب صرف سوال نااہلی کی مدت کا ہے۔
عدالت عظمیٰ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نےسماعت کی ۔ دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے کہاآئین میں پارٹی سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنایا ہے، پارٹی کی مجموعی رائے انفرادی رائے سے بالاتر ہوتی ہے، سیاسی نظام کے استحکام کے لیے اجتماعی رائے ضروری ہوتی ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کے لیے ارٹیکل 63 اے شامل کیا گیا۔
آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں دائر صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربرا ہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ووٹ ڈال کر شمار نہ کیا جانا توہین آمیز ہے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظام وضع کیا گیا ہے، اصل سوال اب صرف نااہلی کی مدت کا ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا آئین میں پارٹی سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنایا گیا ہے، پارٹی کی مجموعی رائے انفرادی رائے سے بالاتر ہوتی ہے، سیاسی نظام کے استحکام کے لیے اجتماعی رائے ضروری ہوتی ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کے لیے ارٹیکل 63 اے شامل کیا گیا۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا پارٹی پالیسی سے انحراف پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک تشریح تو یہ ہے انحراف کرنے والے کا ووٹ شمار نہ ہو۔جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں نے عدم اعتماد کیا اور حکومت بدل گئی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ بلوچستان میں دونوں گُروپ باپ پارٹی کے دعویدار تھے، سب سے زیادہ باضمیر تو مستعفی ہونے والا ہوتا ہے،پارٹی ٹکٹ پر اسمبلی آنے والا پارٹی ڈسپلن کا پابند ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آرٹیکل 63 اے کی روح کو نظر انداز نہیں کرسکتے، عدالت کا کام خالی جگہ پر کرنا نہیں، ایسے معاملات ریفرنس کی بجائے پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہیں، عدالت نے ارٹیکل کو 55 کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ منحرف اراکین کی نااہلی کتنی ہوتی ہے، نااہلی کا اطلاق کب سے شروع ہو گا؟ ہمیں اس پر دلائل دیں کہ ہر معاملہ پارلیمنٹ خود کیوں نہ طے کرے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر رکن ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لے تو نظام کیسے چلے گا۔جسٹس مظہر عالم کا کہنا تھاآرٹیکل 63(4) کے تحت ممبر شپ ختم ہونا نااہلی ہے، آرٹیکل 63(4) بہت واضح ہے۔ جس پراٹارنی جنرل نے کہا اصل سوال ہی آرٹیکل 63(4) واضح نہ ہونے کا ہے، خلاف آئین انحراف کرنے والے کی تعریف نہیں کی جاسکتی، جو آئین میں نہیں لکھا اسے زبردستی نہیں پڑھا جاسکتا، آرٹیکل باسٹھ ون ایف کہتا ہے رکن اسمبلی کو ایماندار اور امین ہونا چاہیے۔اٹارنی جنرل نے کہا کیا پارٹی سے انحراف کرنے پر انعام ملنا چاہیے؟ کیاخیانت کرنے والے امین ہو سکتے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ہر رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے، ووٹ اگرڈل سکتا ہے تو شمار بھی ہو سکتا ہے، اگر حکومت کے پاس جواب ہے تو عدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے، اگر اس نقطہ سے متفق ہیں تو اس سوال کو واپس لے لیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا ووٹ پارٹی کیخلاف ڈالے بغیر آرٹیکل 63 اے قابل عمل نہیں ہوگا۔ جسٹس اعجاز الحسن کا کہنا تھا الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کی ڈیکلریشن پر کیا انکوائری کرے گا، کیا الیکشن کمیشن تعین کرے گا کہ پارٹی سے انحراف درست ہے کہ نہیں، کیا الیکشن کمیشن کا کام صرف یہ دیکھنا ہوگا کی طریقہ کار پر عمل ہوایا نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا پارٹی پالیسی سے انحراف درست نہیں ہو سکتا۔
عدالت عظمیٰ نے فاروق ایچ نائیک کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
اس سے قبل سماعت کی ابتدا میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آج بھی گزشتہ سماعت والا ہی مسئلہ ہے، مناسب ہوگا کہ وکلا اور دیگر افراد کمرہ عدالت سے باہر چلے جائیں، اور جو کھڑے ہیں وہ لائونج میں سماعت سن لیں ، اس سے پہلے کہ عدالت کو سختی سے باہر نکالنا پڑے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم صوبوں کو بھی نوٹس جاری کریں ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کی درخواست میں سپیکر قومی اسمبلی بھی فریق ہیں ، عدالت چاہے تو صوبوں کو نوٹس جاری کر سکتی ہے جبکہ صوبوں میں موجود سیاسی جماعتیں پہلے سے کیس کا حصہ ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا میرے خیال میں صوبوں کو کردار نہیں ، ہر عدالت کی صوابدید ہے وزارت اعلیٰ کیخلاف عدم اعتماد کی تحریکیں جمع نہیں ہیں۔ جس پرسپریم کورٹ نے معاونت کیلئے تمام صوبوں کو نوٹس جاری کر دیئے۔
دوران سماعت رضا ربانی نے کہا میری درخواست پر اعتراض عائد کر دیا گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا رضا ربانی صاحب ہم دیکھ لیتے ہیں، پہلے جلسے کیخلاف کیس سن لیں،آپ کو بھی سنیں گے۔
جلسے کیخلاف کیس میں اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ میں نے متعلقہ حکام عدالتی احکامات سے آگاہ کیا،جلسے کیلئے جے یو آئی ف اور پی ٹی آئی نے درخواستیں دی ہیں، جے یو آئی نے درخواست میں دھرنے کا کہاہے،ان کا کہنا ہے کہ کشمیر ہائی وے دھرنا دیا جائیگا،جبکہ قانون کے مطابق ووٹنگ کے دوران دھرنا نہیں دیا جا سکتا، قانون کے مطابق 48 گھنٹے پہلے جگہ خالی کرنی ہے۔جس پر چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل صاحب! ہم انتظامی امور میں مداخلت نہیں کر سکتے ، ہم نے آئین و قانون کو دیکھنا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ حکم دے کہ ماحول پر امن رہے۔دوران سماعت جے یو آئی ف کے وکیل کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا ہم نے درخواست میں کہا ہے کہ پر امن رہیں گے ، درخواست پر فیصلہ انتظامیہ کو کرنے دیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا یہ آپ سے ڈرتے ہیں، جس پر کمرہ عدالت میں مسکراہٹیں پھیل گئیں۔اٹارنی جنرل نے کہا جے یو آئی (ف) اور پی آئی ٹی نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی، کشمیر ہائی وے اہم سڑک ہے جو راستہ ائیرپورٹ کو جاتا ہے، کشمیر ہائی وے سے گزر کر ہی تمام جماعتوں کے کارکنان اسلام آباد آتے ہیں، قانون کسی کو ووٹنگ سے 48گھنٹے پہلے مہم ختم کرنے کا پابند کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت چاہے گی کہ سیاسی جماعتیں آئین کے دفاع میں کھڑی ہوں گی، معلوم نہیں عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوری عمل کا مقصد روزمرہ امور کو متاثر کرنا نہیں ہوتا۔ جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا درخواست میں واضح کیا ہے کہ قانون پر عمل کریں گے، ہمارا جلسہ اور دھرنا پرامن ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سے حکومت والے ڈرتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی پر امن رہے تو مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا، ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہم مطمئن ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے کہا ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا صوبائی حکومت کا سندھ ہاؤس واقعہ پر پولیس نے بیان ریکارڈ کر دیا، آئی جی اسلام آباد سندھ حکومت کے موقف پر قانون کے مطابق کارروائی کرے، اٹارنی جنرل نے بتایا جے یو آئی ف نے درخواست دی، جے یو آئی (ف) نے کہا وہ کشمیر ہائی وے ہر جلسہ کریں گے، بتایا گیا جے یو آئی (ف) نے جلسے کے بعد کشمیر ہائی وے پر دھرنا کا اعلان کر رکھا ہے، جے یو آئی (ف) کے وکیل نے کہا دھرنا پرامن ہو گا۔ عدالت نے کہا کہ جے یو آئی (ف) قانون کے مطابق دھرنے مظاہرے کرے۔
قبل ازیں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ڈنڈا بردار ٹائیگر فورس بنانا افسوس ناک ہے جبکہ جے یو آئی بھی اپنے ڈنڈے تیل سے نکالے۔جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹائیگر فورس، ڈنڈا بردار فورس بدقسمتی ہے۔
ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد سے بات ہو گئی ہے، پولیس کے اقدامات سے مطمئن ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ پولیس قانون کے مطابق کاروائی کررہی ہے، صوبائی حکومتیں بھی تحریری طور پر اپنے جوابات جمع کروائیں، تحریری جوابات آنے پر صدارتی ریفرنس پر سماعت میں آسانی ہو گی۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا سندھ ہاؤس میں حکومتی اراکین نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا کہا، انہوں نے 1992 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ضمیر تنگ کررہا ہے تو مستعفی ہو جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 1992 کے بعد سے بہت کچھ ہو چکا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ بہت کچھ ہوا لیکن اس انداز میں وفاداریاں تبدیل نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سندھ ہاؤس واقعہ پر سندھ حکومت کو سنیں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس پر دی گئی رائے پر سختی سے عملدرآمد کی پابندی پر دلائل دوں گا، منحرف اراکین کے ٹی وی پر انٹرویو چلے، سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت پارٹی منشور پر الیکشن جیتنے والا پارٹی وفاداری تبدیل کرے تو اسے استعفی دینا چاہیے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا یہ فیصلہ 1999 کا ہے، جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا جی بالکل اور اب 2022 ہے، میں آئینی ڈھانچے پر دلائل دوں گا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا ذکر ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ڈیکلریشن پارٹی سربراہ جاری نہیں کر سکتا، اس کے لیے فورمز موجود ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت اراکین پارٹی ہدایات کے پابند ہیں، وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد پر ارکان پارٹی پالیسی پر ہی چل سکتے ہیں۔
رکن لارجر بینچ جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ارٹیکل 63 اے میں نااہلی کا ذکر ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی ہیڈنگ ہی نااہلی سے متعلق ہے، نااہلی کے لیے آئین میں طریقہ کار واضح ہے، آرٹیکل 62، 63 اور 62 اے کو الگ الگ نہیں پڑھا جاسکتا، عدالت پارلیمانی نظام کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دے چکی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتیں پارٹی نظام کی بنیاد ہیں، عدالت نے ماضی میں پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کی ابزرویشن دی، عدالت نے کہا مسلم لیگ بطور جماعت کام نہ کرتی تو پاکستان نہ بنتا، عدالت نے کہا مسلم لیگ کے ارکان آزادانہ الیکشن لڑتے تو پاکستان نہ بن پاتا، آرٹیکل 62 اور 63 کو آئین میں ایک خاندانی حیثیت حاصل ہے۔ جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ آرٹیل 62 اور 63 ایک ساتھ ہیں، آپ کی ہر دلیل ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 19 ہر شخص کو اظہار رائے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ آپ دراصل رکن قومی اسمبلی اور عام شہری کے ووٹ کے حق میں فرق کی بات کر رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ رکن کا ڈالا گیا ووٹ واپس نہیں ہو سکتا، آرٹیکل 17(2) انفرادی ووٹ کی بجائے سیاسی جماعت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، پارلیمانی نظام حکومت میں انفرادی سیاسی جماعت کی کوئی قانون سازی میں اہمیت نہیں ہوتی، پارٹی رجسٹریشن کیس سپریم کورٹ نے اصول طے کیا ہوا ہے کہ انفرادی ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ووٹ کا حق رکن اسمبلی کو ملتا ہے نہ کہ سیاسی جماعت کو۔
جسٹس منیب اخترکا کہنا تھا سیاسی جماعت کی پالیسی کے خلاف ووٹ درحقیقت سیاسی جماعت کو کمزور کرتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا عدالتی فیصلے میں دی گی آبزرویشن بہت اہمیت کی حامل ہے،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا عوام کا مینڈیٹ ایوان میں اجتماعی حثیت میں سامنے آتا ہے، سیاسی جماعتیں عوام کے لیے ایوان میں قانون سازی کرتی ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 4 مواقع پر اراکین اسمبلی کا پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی ہے، پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی بنانے کے لیے ارٹیکل 63 اے لایا گیا۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ادارے ہیں، ڈسپلن کی خلاف ورزی سے ادارے کمزور ہوتے ہیں، پارٹی لائن کی پابندی نہ ہو تو سیاسی جماعت تباہ ہو جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی سیاسی جماعت کو ایک ادارے کی حیثیت حاصل ہے، جسٹس منیب اختر نے کیا کہ جمہوری نظام میں سیاسی جماعت کمزور ہو تو جمہوری نظام متاثر ہو جائے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ امریکا میں صدارتی نظام کے باوجود ایک سینیٹر آزاد حیثیت سے نہیں ہوتا، جنرل ضیا نے سیاسی جماعتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سیاسی جماعت کے ٹکٹ الیکشن جیتنے والے اور آزاد رکن قومی اسمبلی میں کیا تفریق ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزاد رکن کو اگر اس جماعت کا منشور قبول نہیں تو اسے پھر استعفی دے دینا چاہیے، 5سال کی اسمبلی میں اڑھائی سال بعد کشتی تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آپ ہم سے تاحیات نااہلی مانگ رہے ہیں؟ جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ موجودہ حکومت کی بہت کم اکثریت ہے، ایک جہاز کو ڈبو کر دوسرے میں بیٹھیں گے، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے اچھے برے کی تمیز کے بغیر پارٹی حکم پر عمل کرنے کی بات کرتا ہے، اصل مسئلہ ہی یہی ہے، اراکین کے ادھر اُدھر جانے سے تباہی پھیلے گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ 63 اے اور 62 اے کو اکٹھا پڑھا جائے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ کی دلیل بھی فلور کراسنگ میں ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا کوئی رکن یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا ووٹ پالیسی کے خلاف ہے لیکن اس سے کوئی متاثر نہ ہو؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ پارٹی سربراہ کو بادشاہ بنانا چاہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم پارٹی سربراہ کو بادشاہ نہیں بنانا چاہتے لیکن ہم پارٹی سربراہ کو لوٹا بھی نہیں بنانا چاہتے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کسی رکن کو پارٹی کے خلاف فیصلے کے اظہار کا حق ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا دوسری کشتی میں چھلانگ لگا کر حکومت گرائی جاسکتی ہے؟ زیادہ تر جہموری حکومتیں چند ووٹوں کی برتری سے قائم ہوتی ہیں، کیا دوسری کشتی میں جاتے جاتے پہلا جہاز ڈبویا جاسکتا ہے؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چھلانگیں لگتی رہیں تو معمول کی قانون سازی بھی نہیں ہوسکتی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اب پنڈورا باکس کھل گیا تو میوزیکل چئیر ہی چلتی رہے گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ صرف 63 اے کی تلوار کا نہیں پورا سسٹم ناکام ہونے کا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سب نے اپنی مرضی کی تو سیاسی جماعت ادارہ نہیں ہجوم بن جائے گی، انفرادی شخصیات کو طاقتور بنانے سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے 4 سوالات پر رائے مانگی گئی ہے، پہلے نمبر پر کہ کیا کوئی رکن اسمبلی پارٹی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے ووٹ دے تو کیا اس رکن کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی؟ اسے ڈی سیٹ نہیں کیا جا سکتا؟۔ دوسرا یہ کہ کیا ایسے رکن جو پارٹی پالیسی سے انحراف کریں اور پالیسی کے خلاف ووٹ دیں تو کیا ان کے ووٹ کو شمار کیا جائے گا؟۔تیسرے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ کیا جو وفاداری تبدیل کرتے ہوئے رکن پارٹی پالیسی کے خلاف جائے اور ثابت ہو کہ اس نے آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کی ہے تو کیا ایسے رکن کو تاحیات نا اہل قرار دیا جائے گا؟ جبکہ چوتھے سوال میں عدالت سے رائے مانگی گئی ہے ہارس ٹریڈنگ اور فلور کراسنگ کو روکنے کے لیے موجودہ آئینی ڈھانچے میں کون سے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں جس سے فلور کراسنگ کو روکا جاسکے۔
گزشتہ ہفتے ہونیوالی پہلی سماعت کے موقع پر عدالت عظمیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا تھا کہ اسے تحریک عدم اعتماد کیلئے اسمبلی اجلاس تاخیر سے بلانے کے معاملے سے کوئی دلچسپی نہیں، عدالت کے سامنے صرف بار کی درخواست اور آرٹیکل63اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو جلسوں سے روکنے کی درخواست پر پیر کوسماعت کا حکمنامہ جاری کیا تھا۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے سپیکر کی جانب سے اسمبلی اجلاس تاخیر سے بلانے کے معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتےہوئے تمام سیاسی جماعتوں کے وکلا کو 24 مارچ تک تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ دوسری جانب سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست اور صدارتی ریفرنس کی اکٹھی سماعت کے لیے پانچ لارجر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے چیف جسٹس کے نام ایک خط لکھ کر اپنے شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے۔
