ریاست کے تمام ستون نظام انصاف کی ناکامی ذمہ دار ہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے موجودہ نظام انصاف جرائم کو روکنے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی میں ناکام ہوگیا ہے کیوں کہ یہ نظام انصاف کے قتل کا تسلسل اور بظاہر تباہی کے دہانے پر ہے۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بات قتل کے 7 مختلف مقدمات میں ملزمان کو بری کرتے ہوئے کہی، جس میں سے اکثر کیسز میں ملزمان 10 سال سے جیلوں میں قید تھے۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ جانے سے قبل ہم اپنی اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ دارالحکومت اسلام آباد میں نظام انصاف کی خطرناک اور پست صورت حال کے حوالے سے اپنے مشاہدات ریکارڈ کریں، عدالت میں موجود یہ مقدمہ صرف ایک جھلک ہے کیوں کہ زیادہ تر سنگین جرائم کے مقدمات میں سزا نہیں ہوتی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ نظام انصاف کا مقصد مجرم کو سزا دینا ہے تا کہ جرم کو مؤثر طریقے سے قابو کیا جاسکے، لیکن ہمیں یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں کہ موجودہ صورت حال میں (نظام انصاف پر) یہ یقین مکمل طورہ پر گمراہ ہے۔ عدلیہ کی شاخ کی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا اعتراف کرنے کے باجود یہ دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز مثلاً پولیس، جیل حکام اور استغاثہ کی دیانت اور پیشہ ورانہ معیار پر منحصر ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ چاہے بدعنوانی کی وجہ سے ہو، لاپرواہی یا سراسر نااہلی اور پیشہ ورانہ مہارت کا فقدان، نظام انصاف یقینی طور پر اپنا مقصد پورا نہیں کررہا اور اس کے بجائے انصاف کا مسلسل قتل اور بظاہر ناانصافی کا ذریعہ بن چکا ہے۔
عدالت نے کہا کہ اس کیس میں نااہلی، بہیمانہ قتل کی تفتیش کے استعمال ہونے والے فرسودہ اور متروک طریقوں، بادی النظر میں صداقت اور پیشہ ورانہ مہارت کا فقدان ریکارڈ کی سطح پر تیر رہا ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ واحد کیس نہیں بلکہ عمومی طور یہ زیادہ تر مقدمات میں دیکھا گیا ہے، مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ تفتیشی افسران یا تو بظاہر مطمئن، مصالحت پسند یا مکمل طور پر نااہل ہوتے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سر بہ مہر نمونوں کو منتقل کرنا اور ان کے کیمیائی تجزیے کےلیے سرکاری لیبارٹری کو فیس کی ادائی کا انتظام کرنا تو ایک طرف کم آمدنی والے تفتیشی افسر کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ جب جرم کی اطلاع آئے تو وہ جائے وقوع پر جاسکے، یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ چونکہ تفتیش کےلیے اطمینان بخش سرکاری وسائل دستیاب نہیں ہوتے اس لیے فریقین میں سے ہمیشہ متاثرین سے رقم کا تقاضہ کیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ تفتیشی افسران تربیت یافتہ نہیں ہوتے نہ ہی انہیں اس مقصد کےلیے منتخب یا تعینات کیا جاتا ہے، کوئی آزاد، علیحدہ تفتیشی شاخ موجود نہیں اور نہ ہی یہ ترجیح معلوم ہوتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ریاست کے تمام ستون نظام کی ناکامی ذمہ دار ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مختصراً یہ کہ نظام انصاف کی موجودہ صورت حال اپنے مقصد کو پورا نہیں کررہی اور تباہی کے دہانے پر پر ہے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ ’تمام شاخیں مثلاً عدلیہ اور مقننہ موجودہ حالات کی ذمہ دار ہیں جو یقیناً بدعنوانی اور انصاف کے مسلسل سنگین قتال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ’یہ واضح حقیقت ہے کہ ریاست گزشتہ 7 دہائیوں سے نظام حکومت کے سب سے اہم حصے کو نظر انداز کرتی آئی ہے کیوں کہ یقینی طور پر نظام انصاف کبھی ترجیح نہیں رہا۔
جسٹس اطہر من االلہ نے کہا کہ ’ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی جھجک نہیں کہ موجودہ نظام انصاف انصاف کے قتل سے تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا، یہ مؤثر طریقے سے جرائم کو روکنے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں ناکام اور طاقتوروں کی جانب سے غریبوں کے خلاف استحصال کے حوالے سے کمزور ہے‘۔
